ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داریوں کی نہیں ،ہوسکتا ہے کہ جو میرے حقوق ہیں وہ آپ کی ڈیوٹی ہو اور جو آپ کے حقوق ہیں وہ میری ڈیوٹی ہو۔مرتضیٰ وہاب

0
62

وہ ہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو قوانین کی پاسداری اور حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہیں۔ڈاکٹر خالد عراقی

کراچی میں فضائی آلودگی اپنے انتہائی حد کو چھورہی ہے اورآنے والے دنوں میں لوگوں کے لئے سانس لینا بھی مشکل ہوجائے گا۔ڈاکٹر معظم علی خان
وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے ماحولیات سینیٹرمرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہم گذشتہ سترسالوں سے مسائل پر بات کرتے ہیں لیکن ہمیں اس کے حل کے لئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داریوں کی نہیں ،ہوسکتا ہے کہ جو میرے حقوق ہیں وہ آپ کی ڈیوٹی ہو اور جو آپ کے حقوق ہیں وہ میری ڈیوٹی ہو۔غربت مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ آگاہی کا فقدان ہے،حکومت چاہے جتنی قانون سازی کرلے اور پالیسیاں بنالیں شہریوں کے تعاون کے بغیر اس پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔انہوں نے پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اس حوالے سے پر امید تھا کہ اس پر مکمل طور پر عملدرآمد ہوجائے گا لیکن جب تک شہریوں کی جانب سے مکمل تعاون نہیں کیا جائے گا اس پر مکمل عملدرآمد ممکن نہیں ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اس پر عملدرآمد کویقینی بنانے کے لئے اپنا اپنا کردار اداکریں۔موسمیاتی تبدیلی سیاسی نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے اور اس پر قابوپانے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔آپ مسائل کی نشاندہی کریں تاکہ اس کے حل کے لئے بروقت اقدامات کو یقینی بنایاجاسکے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ عمرانیات اور انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی کے زیر اہتمام اور گلوبل گرین کے اشتراک سے کلیہ فنون وسماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمینار بعنوان ”شرح پیدائش میں اضافے اور ماحولیاتی نقصانات کی روک تھام کے لئے پائیدارحل“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹر مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ حکومت سندھ درخت لگانے اور ماحول کو بہتر بنانے کے لئے ہر ممکن قدم اُٹھارہی ہے اور وہ ان تمام تنظیموں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جو اس مقصد کے لئے کام کررہی ہیں،سندھ کے جنگلات کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے ،تین ماہ میں پچاس ہزار پودے لگائے گئے ، تمرکے جنگلات کی کٹائی کی اطلاع ملتے ہی اس عمل کو فی الفور رکوایا گیا اورتمر کے درختوں کی سب سے زیادہ کا شت کا سہرا بھی سندھ حکومت کو جاتاہے۔پائلٹ پراجیکٹ کے ذریعے ویسٹ مینجمنٹ پر کام کریں گے ،ہمیں بھی مالی مشکلات کا سامنا ہوتاہے کوشش ہوتی ہے کہ مل کر مسائل کو حل کریں۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ وہ ہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو قوانین کی پاسداری اور حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہیں۔مسائل اس کی نشاندہی اور اس کے حل کے لئے آوازاُٹھانے سے حل ہوتے ہیں تنقید کرنے سے نہیں ہمیں تنقید کرنے کے بجائے آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور سب کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہیئے۔آبادی میں جتنااضافہ ہوگا اتنے ہی ماحولیاتی مسائل بھی بڑھیں گے۔جب آپ بیرون ممالک سے واپس اپنے شہر کراچی آتے ہیں توسب سے زیادہ پریشانی یہاں کی سٹرکوں اور گلی چوراہوں میں پڑے کچرے کے ڈھیر دیکھ کر ہوتی ہے اور تواتر کے ساتھ کچرانہ اُٹھانے کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ ہوتارہتاہے۔کراچی میں گرمی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بے دریغ درختوں کی کٹائی کے ساتھ ساتھ بلندوبانگ عمارتوں اور کنکریٹ کا جال بچھاناہے ۔ہمارے منصوبہ سازوں کو چاہیئے وہ کسی ایسے کام کی اجازت نہ دے جس سے سوسائٹی متاثر ہورہی ہو۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ جامعہ کراچی میں 16 اگست سے شروع ہونے والی شجرکاری مہم کے تحت جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات ،سینٹرز،انسٹی ٹیوٹس سمیت مختلف مقامات پر اب تک تقریباً پچاس ہزار پودے لگائے جاچکے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کو بھی یقینی بنایا جارہاہے۔
جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معظم علی خان نے کہا کہ کراچی جن مسائل سے دوچار ہے ان میں سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی اور اس سے نبردآزما ہونے کا ہے۔کراچی میں فضائی آلودگی اپنے انتہائی حد کو چھورہی ہے اورآنے والے دنوں میں لوگوں کے لئے سانس لینا بھی مشکل ہوجائے گا۔موجودہ موسم میں سانس کی بیماریوں کی بنیادی وجہ فضائی آلودگی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں پانی کے مسائل مزید گھمبیر ہوتے چلے جائیں گے،پانی کے مسائل میں سب سے اہم مسئلہ آبی آلودگی کا ہے جس کی وجہ سے پیٹ اور جلد کی بیماریوں میں آئے دن اضافہ ہوتاجارہاہے۔کراچی میں گندے پانی کی صفائی کا خاطرخواہ بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے یہ گندہ پانی سمندری آلودگی کا سبب بن رہاہے۔ہر چیز کی ذمہ داری حکومت پر ڈالنے کے بجائے شہریوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیئے۔
انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سیما جیلانی نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اور قدرتی وسائل کا خاتمہ دنیا کا اہم مسئلہ بن گیا ہے۔اس کے پائیدار حل کے لئے سماجی اور اقتصادی بہتری کے اقدامات ناگزیر ہیں۔
جامعہ کراچی کے شعبہ عمرانیات کے پروفیسر ڈاکٹر نبیل زبیری نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں غربت کو صرف معاشی تناظر میں ہی دیکھا جاتاہے جبکہ اس کے دیگر پہلواور عوامل کو بھی دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ایک باشعور شہری ہونے کے ناطے ہمیں اپنی سماجی ذمہ داریوں سے متعلق آگاہی توہوتی ہے مگر ایک بڑی تعداد جان بوجھ کر یا کسی بھی وجہ سے ان پر عملدرآمد نہیں کرتی جس کی وجہ سے ہماری مشکلات میں آئے دن اضافہ ہوتاجارہاہے۔پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کے سنگین مسائل ہیں جنہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے اور سب سے پہلے فضائی اور زمینی آلودگی سے نبردآزماہونے کے لئے سنجیدہ اقداماکئے جائیں اور بتدریج دیگر مسائل کے حل کے لئے بھی عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عامر عالمگیر نے کہا کہ ہمارے نوجوان ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں ہر اول دستے کا کردار اداکرسکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ماحولیاتی مسائل کا صحیح طور پر ادراک کیاجائے اور اس کے حل کے لئے ہر سطح پر سنجیدہ اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
گلوبل گرین کے کوآرڈینیٹر رفیق پٹیل نے کہا کہ پاکستان میں جنگلات کے خاتمے کاعمل سب سے زیادہ تیز ہے،دنیا میں سب سے زیادہ ہم اپنے جنگلات کو ختم کررہے ہیں۔سالانہ 27 ہزا ایکٹر رقبے سے جنگلات کا خاتمہ ہورہاہے اور جنگلات کے خاتمے کی وجہ سے پوراایکوسسٹم تباہ ہوتاہے اور بالخصوص ان درختوں کی کٹائی سے جو پہاڑوں کے اوپر ہوتے ہیں جو گلیشیئرز کو محفوظ رکھنے کے لئے کام کرتے ہیں اور ان درختوں کی کٹائی بہت زیادہ تباہی کا باعث بنتی ہے۔غیرقانونی طور پر درختوں کی کٹائی کا جوسلسلہ ہے وہ خیبر پختونخواہ میں سب سے زیادہ ہے اور وہیں پر اس کو روکنے کی ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here