پانچویں آل پاکستان ڈاؤ ڈائس ہیلتھ انوویشن ایگزیبیشن 2019 اختتام پزیر

0
338

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور امریکی ڈائس فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے دو روز سے ایکسپو سینٹر میں جاری ڈاؤ ڈائس ہیلتھ ایگزیبیشن 2019، اختتام پزیر، ڈاؤ کے طلبا کے تیار کردہ پروجیکٹ کو پہلا انعام ملا، جس کے نتیجے میں صنعتی طور پر تیار کردہ غذائی مصنوعات میں کینسر پیداکرنے والے اجزاشامل ہونے سے روکنے میں مدد ملے گی، اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صنعتکاروں اور دیگر ماہرین نے کہا کہ طلبا کے تیار کردہ پروجیکٹس کی نمائش کے ذریعے صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو قریب آنے کا موقع ملا ہے، جس سے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔تقریب سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سینئرنائب صدر ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، سینیٹر تاج حیدر، قائم مقام وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر زرناز واحد، ڈائس فاؤنڈیشن امریکا کے بانی چیئرمین ڈاکٹر خورشید قریشی، صدر ڈائس فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر سعد الٰہی، زیبسٹ کے وائس پریزیڈینٹ پروفیسر الطاف مکاتی، ڈائریکٹر آئی بی اے پروفیسر فرخ اقبال، چیف آرگنائزر ڈائس ہیلتھ ایگزیبشن ڈاکٹر کاشف شفیق اور دیگر نے خطاب کیا، جبکہ اس موقع پر رجسٹرار ڈاؤ یونیورسٹی پروفیسر امان اللہ عباسی، پرو وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی پروفیسر کرتار ڈوانی، ایم ایس ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال ڈاکٹر حارث علوی، پروفیسر سنبل شمیم، ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج کی وائس پرنسپل پروفیسر رملہ ناز،پروفیسر نثار احمد راؤ، پروفیسر شوکت علی، پروفیسر نائلہ، پروفیسر نصرت شاہ سمیت سینئر فیکلٹی ممبرز موجود تھے۔ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ پہلے صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان فاصلے تھے، جو ڈاؤ ڈائس ہیلتھ ایگزیبشن کی مدد سے ختم ہوگئےہیں ، امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے زرعی شعبے میں تحقیق کے ذریعے اپنی پیدا وار کو دوگنا اور تین گنا کر لیا ہے، ہمارے یہاں اب سے پہلے اس شعبے میں کوئی تحقیق نہیں ہوئی، تعلیمی اداروں اور زرعی اداروں کے درمیان گذشتہ برسوں میں رابطہ ہوتا تو آج ہماری زرعی پیداوار بھی دیگر ممالک کی طرح کم از کم دو گنا ہوتی۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ دنیا بھر میں ریسرچ کی اہمیت بڑھ گئی ہے، پاکستان کو صنعتی اور معاشی ترقی کے لیے ریسرچ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، نمائش کی وجہ سے طلبہ کو اپنی ریسرچ پیش کرنے کا موقع ملا، اس کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے، نمائش پاکستان کی کامیابیوں کی جانب پہلا قدم ہے،صحتمند عادتیں اور غذا اچھامعاشرہ قائم کرنے کے لیے ضروری ہیں ، پاکستان میں ہیلتھ کئیر سہولتوں کی جانب تیزی سے کام جاری ہے اور سندھ صحت کے شعبے میں سب سے بہتر ہے۔ڈاؤ یونیورسٹی کی قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر زرناز واحد نے کہا کہ پانچویں ڈاؤ ڈائس ہیلتھ انوویشن ایگزیبشن میں 400 پروجیکٹس پیش کئے گئے، انہوں نے کہا جن طلبہ کے پروجیکٹس سلیکٹ نہیں کئے گئے، وہ مایوس نہ ہوں، ان کا یہ تجربہ آئندہ سال انکی کامیابیوں کا ضامن بنے گا، طلبہ پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اس موقع پر انہوں نے انڈسٹری اور اساتذہ کا شکریہ ادا کیا،ڈائس فاؤنڈیشن یو ایس اے کے بانی ڈاکٹر خورشید قریشی نے کہا کہ اس نمائش کے نتیجےمیں اگلے پانچ برسوں میں کم از کم 45سے 50 اپنی ریسرچ پروڈکٹس مارکیٹ میں لے آئینگے، جس بنا پر پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور پاکستان کی موجودہ معاشی مشکلات میں کمی آئیگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے ساتھ ڈائس کا سفر پانچ برس پہلے شروع ہوا، آج 400 طلبہ کے پروجیکٹس کی نمائش اس سفر کی کامیابی کا ثبوت ہیں، ہمیں پاکستان میں ایک پلیٹ فارم کی شدید ضرورت تھی، جو ملک میں معاشی انقلاب برپا کرنے میں مدد دے سکے، ہم خود انحصاری کی جانب سفرجلد طے کرلیں گے۔اس موقع پر پروفیسر الطاف مکاتی نے کہا کہ پاکستان میں کوالٹی ریسرچ کی ضرورت ہے، ہماری توجہ ریسرچ پر ہے، مگر کوالٹی ریسرچ پر نہیں ہے، ہمیں طلبہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کے ساتھ انکے آیڈیاز میں ٹھیک رہنمائی مسلسل کرنی ہوگی۔آئی بی اے کے ڈائریکٹر پروفیسر فرخ اقبال نے کہا دنیا بھر میں کام کرنے کا کلچر عام ہے، ہمیں چاہیے کہ جن مقاصد کے حصول کے لیے ریسرچ شروع کی ہے ان پر کام جاری رکھا جائے، یہ پاکستان میں صحیح معاشی ترقی کا سبب ہوگی۔
پروگرام کے آخر میں کامیاب پروجیکٹس پیش کرنے والے طلبہ کو انعامات دئیے گئے، جس کے مطابق پہلا انعام ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی ڈاؤ کالج آف بائیو ٹیکنالوجی کے طلبہ کے تیار کردہ پروجیکٹ “لیونگ ماڈلز سسٹم آف کارسنوجن ڈیڈکشن فار انڈسٹریز”کو دیا گیا، یہ پروجیکٹ صعتوں میں تیار ہونے والے اشیا میں پیدا ہونے والے کینسر کے ذرات کو روکے گا، جبکہ دوسرا انعام ہمدرد یونیورسٹی کے طلبہ کو “ہیلتھ مانیٹرنگ اسمارٹ چیئر ود موبائل” کو دیا گیا اور تیسرا انعام این ای ڈی یونیورسٹی کے طلبہ کو “اسپیکٹالس فار بلائنڈ “بنانے پر دیا گیا۔جبکہ ڈائس فاؤنڈیشن کی جانب سے اگلے 10پروجیکٹس کو نقدانعامات دیئے گئے اور چودہ پروجیکٹس کو جاوید آکھائی ایوارڈ کے تحت نقد انعامات دیئے گئے، جن میں یونیورسٹی آف سلطان زین العابدین ملائشیا، مہران یونیورسٹی جامشورو، یونیورسٹی آف سندھ، ہمدرد یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی، سر سید یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج فیصل آباد یونیورسٹی، ڈاؤ کالج آف فارمیسی، اسکول آف پبلک ہیلتھ ڈاؤ یونیورسٹی، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ٹیکنالوجی ڈاؤ یونیورسٹی، انسٹیٹیوٹ آف نرسنگ ڈاؤ یونیورسٹی،جناح یونیورسٹی فار وومن، جناح میڈیکل یونیورسٹی ، گرینز یونیورسٹی،بحریہ یونیورسٹی اینڈ میڈیکل کالج، یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان، ضیا الدین یونیورسٹی ملتان اور نسٹ اسلام آباد شامل ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here