نادیہ اشرف کی موت اورپنجوانی سینٹر سے متعلق خبریں بے بنیاد ہے

0
616

نادیہ اشرف کی موت اورپنجوانی سینٹر سے متعلق خبریں بے بنیاد ہے
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے ترجمان نے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیور میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ، جامعہ کراچی کی پی ایچ ڈی طالبہ نادیہ اشرف کی خود کشی سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کوبے بنیاداور جھوٹی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نادیہ اشرف کی موت ڈاکٹر پنجوانی سینٹر اور اس سے وابستہ تمام افراد کے لیے افسوسناک ہے، ترجمان نے کہا ہے کہ نادیہ اشرف سب سے پہلے ڈاکٹر امین سوریا کی زیرِ نگرانی2007میں ایم فل پی ایچ ڈی میں این رول ہوئی تھی، ڈاکٹر امین سوریا کے جانے کے بعد یہ طالبہ پروفیسرڈاکٹراقبال چوہدری کے زیرِ نگرانی اپنا پی ایچ ڈی مکمل کررہی تھی، ڈاکٹر پنجوانی سینٹر نے تحقیقی تربیت کے لیے نادیہ اشرف کو فرانس بھی بھجوایا تھا مگر وہ اپنی بیماریوں اور گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے وہاں بھی تحقیق پرتوجہ نہ دے سکی، نادیہ اشرف کی پروفیسر اقبال چوہدری نے بھرپور معاونت کی تاکہ وہ اپنی ڈگری مکمل کرلے یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے والد کی طری پروفیسر اقبال چوہدری کی عزت کرتی تھی۔ نادیہ اشرف نے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر سے دور رہ کر اپنے خانوادے کی کفالت کے لیے دیگر کئی اداروں میں کام بھی کیا، ان مصروفیات کی وجہ سے نادیہ کی پنجوانی سینٹر میں آمد و رفت بہت کم تھیں، نادیہ اشرف اپنی گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے انتہائی ذہنی دباو کا شکار تھیں، ماضی میں ان کے والد کی گمشدگی بھی ان کے ذہنی دباو کی ایک اہم وجہ تھی۔ نادیہ کے سپروائزر نے متعدد بار ان کی مدد کی اور ان کی رجسٹریشن کی مدت میں بھی اضافہ کروایا تاکہ کسی طرح وہ اپنا پی ایچ ڈی مکالہ مکلمل کرلیں۔ واضح رہے کہ پروفیسر اقبال چوہدری ملک کے نامور سائینسدان ہیں جن کی زیر نگرانی100 سے زیادہ محققین پی ایچ ڈی مکمل کرچکے ہیں۔
ترجمان نے کہا ہے کہ نادیہ اشرف نے اگر یہ خود کشی کی ہے تو اپنی ذاتی مشکلات سے تنگ آکر کی ہے، ڈاکٹر پنجوانی سینٹر کی انتظامیہ مرحومہ کے غمزدہ خانوادے سے اس ناقابل تلافی نقصان پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ اللہ تعالی مرحومہ کو دائمی سکون عطا فرمائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here