ہمارے آباء نے قرآن پر عمل پیرا ہو کر ہی تین برے اعظموں پے حکومت قاءم کی تھی۔ ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

0
72

تحریر:صفیہ,  انتڑنیشنل ریلیشن ڈیپارٹمنٹ، جامعہ کراچی
نومبر ٢٠١٩ کو کراچی یونیورسٹی کے ڈیپارٹمٹ اف سلامک لرننگ اور کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے پروگرام کا انعقاد ہوا جس میں عصر حاضرمیں قرآن کی اہمیت کواجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان کے بڑے قابل احترام اسکالرز کو مدعوکیا گیاتھاجن میں حسن محی الدین(وائس چانسلر منہاج یورنیورسٹی) ،نعیم احمد نعمانی( پروفیسر جی سی یورنیورسٹی) اور زاہد حسین چھیپا(ای ٹی انجینیر) کو شامل ہیں۔نعیم نعمانی نے بتایا کہ قرآن ہر دور کے انسانوں کے لیے راہ نجات ہے۔ ماضی میں بھی ہمارے آباء نے قرآن پر عمل پیرا ہو کر ہی تین برے اعظموں پے حکومت قاءم کی تھی۔ ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ قرآن کی خوبصورتی اور خوبی اس کا آفاقی کتاب ہونا ہے جو اسے موجودہ دور کی اور آنے والے دور کی کتب سے ممتاز کرتی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر صاحب نے موجودہ برہنگم یورنیورسٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتےہوے کہا کہ اس رپورٹ کے مطابق قرآن مجید کا ١۴٠٠سال پرانا۔ایک نسخہ ملا ہے جس کی تلاوت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ سورت طہ کا نسخہ ہے جو آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اس کے بعد زاہد حسین چھیپا نے اظہار خیال کیا۔انہوں نےایک ایپ متعارف کروای ہے جو کہ اسلام ٣٦٠ کے نام سے منسوب ہےجس میں انہوں نے قرآن اور حدیث کے تمام عنوانات کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔یہ ایپ ١٧٧ ممالک میں استعمال کی جارہی ہے ساتھ ہی چھیپا صاحب دنیا میں پہلے فرد ہیں جنہوں نے ارٹیفیشل انٹیلیجنس پر اردو میں کام کیا ہءہے۔ دوران گفتگو ان تمام باتوں کا چھیپا صاحب نے تذکرہ کیا۔ اور دور حاضر کے حوالے سے کہاکہ آج اس وقت قرآن کا ریڈنگ کلچر develop کرنے کی ضرورت ہے جس کے بغیر آگاہی اور خود شناسی ناممکن ہے۔ اس کے بعد حسن محی الدین نے قرآن کو علم کا منبع قرار دیتے ہوے اسے معرفت الہی حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here