محمود آباد نالے کے بعد دیگر نالوں سے تجاوزات ہٹائی جائیں گی،صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ

0
96

محمود آباد نالے کے بعد دیگر نالوں سے تجاوزات ہٹائی جائیں گی،صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ
کراچی:(طلعت محمود اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ محمود آباد نالے کے بعد دیگر نالوں سے تجاوزات ہٹائی جائیں گی جن گھروں کو توڑا جائے گا ان کے مالکان کو دو سال کا کرایہ دیا جائے گا، سندھ حکومت اپنی اسکیم شروع کر رہی ہے جس میں زمین سندھ حکومت دے گی جو متاثرین وہاں رہائش اختیار کرنا چاہئیں ان کو اس اسکیم میں ترجیح دی جائے گی، نالوں سے تجاوزات ہٹانے کے سلسلے میں ہم سب ایک پیج پر ہیں، یہ بات انہوں نے محمود آباد اور منظورکالونی نالے کے دورے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد، سابق یوسی چیئرمین فرحان غنی، کرم اللہ وقاصی، سردار نزاکت علی اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ جاتی سربراہان بھی اس موقع پر موجود تھے، صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ آج (پیر)سے محمود آباد نالے سے بڑی تجاوزات جن میں گھر بھی شامل ہیں انہیں ہٹایا جائے گا،آج تک سافٹ قسم کی تجاوزات ہٹا ئی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ تجاوزات ہٹانے کے بعد دونوں اطراف سڑکیں بنائی جائیں گی تاکہ لوگ گند اورکچرا نالوں میں نہ پھینکیں، انہوں نے کہا کہ یہ تجاوزات علاقے کے لئے اور یہاں رہنے والوں کے لئے بھی خطرناک ہیں اور نالے کے اردگرد رہنے والوں کی زندگی کو خطرات لاحق رہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اس مرتبہ مون سون کی بارشوں میں شہریوں کو پریشانی نہ ہو اور جتنا پانی بھی آئے وہ ان نالوں کے ذریعے سمندر میں چلا جائے، انہوں نے کہا کہ محمود آباد، گجر نالے سمیت دیگر نالوں کی این ای ڈی یونیورسٹی اور ماہرین سے کنسلٹنسی کرائی گئی ہے تاکہ کم سے کم تجاوزات ہٹانی پڑیں، سندھ گورنمنٹ نے ورلڈ بینک سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت نالوں سے تجاوزات ہٹائی جانی تھیں یہ اسی کا تسلسل ہے، انہوں نے کہا کہ پہلے قابضین لوئر کورٹس سے اسٹے آرڈر لے آتے تھے جس کے باعث تجاوزات ہٹانے میں مشکلات کا سامنا ہوتا تھا، اب سپریم کورٹ کی طرف سے احکامات کے بعد آسانی کے ساتھ یہ کام انجام دیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ مون سون میں اکثر و بیشتر پریشانی ہوتی تھی جو ان نالوں کی صفائی کے بعد نہیں ہوگی، انہوں نے کہا کہ نالوں کی صفائی کے دوران بہت سارے ایشو سامنے آئے ہیں اور نالوں پر موجود مکانوں اور دکانوں کو ارزاں قیمتوں پر لیز دی گئی ہے، لیز کے معاملات شفاف نہیں تھے جس کو بہتر بنائیں گے، انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد کو اس سلسلے میں حکومت سندھ کی جانب سے ٹاسک دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ جو بلدیاتی مدت ابھی ختم ہوئی ہے اس کے آخر میں خوامخواہ کی اسکیمیں پاس کردی گئی ہیں جبکہ بلدیاتی ادارے پہلے سے ہی اربوں روپے کے مقروض تھے اس لئے ان اسکیموں کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور جو ترقیاتی اسکیمیں شہر کے لئے بہتر ہوں گی ان پر ہی کام کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ضلع کورنگی اور ضلع وسطی میں گزشتہ بلدیاتی دور میں 16 سے 17 ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائٹ پر پہنچایا جاتا تھا جس پر ایک کروڑ 60 لاکھ روپے اخراجات ہوا کرتے تھے، موجودہ دور میں 40 سے 50 ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائٹ پہنچایا جا رہا ہے اور اس پر ایک کروڑ 3 سے 5 لاکھ روپے اخراجات آرہے ہیں، طریقہ کار کو شفاف بنایا گیا ہے اور اب گورنمنٹ کے ٹیکس براہ راست گورنمنٹ کے اکاؤنٹس میں جمع ہو رہے ہیں پرچی سسٹم ختم کردیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد اور ڈی ایم سیز کے ایڈمنسٹریٹرز کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ کراچی کے انفراسٹرکچر کو بہتر کریں اور سڑکوں پر پڑنے والے گڑھوں کو بھریں اور استرکاری کریں تاکہ ٹریفک کی روانی معمول پر رہے، انہوں نے کہا کہ اس سے بہت بہتری آئے گی اور اس کے لئے حکومت سندھ خصوصی فنڈز فراہم کر رہی ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بجلی کا جو حال ہوا ہے اس سے پورا پاکستان متاثر ہوا ہے جو وفاقی حکومت کی نااہلی اور کوتاہی کی وجہ سے ہوا، جہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندے نہیں ہیں وہاں بھی ہم نے اربوں روپے کے کام کروائے ہیں اورہمارا وژن کراچی کی ترقی ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہوگی کہ کراچی والوں کو اس مرتبہ اربن فلڈ کا سامنا نہ کرنا پڑے، انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے گھر نہیں گرا رہے ہیں بلکہ انتہائی غور و فکر کے بعد کم سے کم تجاوازت ہٹائی جا رہی ہیں تاکہ لوگوں کا کم سے کم نقصان ہو، انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے گھر ہٹائے جا رہے ہیں وہ بینکوں میں اپنے اکاؤنٹس کھلوالیں ہم دو سال کے کرائے کی رقم ان کے اکاؤنٹس میں منتقل کردیں گے حکومت سندھ کے پاس اس مد میں رقم موجود ہے، صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ایک بڑے مقصد کے لئے اس طرح کے اقدامات کرنے پڑتے ہیں اور نالوں سے تجاوزات ہٹانے کا یہ مسئلہ بہتر طریقے سے حل ہوجائے گا، انہوں نے اس موقع پر کراچی کے لئے فائر ٹینڈرز کی آمد پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ موجودہ اور سابقہ دونوں وزراء اعظم کا اخلاقی طور پر شکریہ ادا کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے دور میں یہ اسکیم بنی تھی اور فنڈز فراہم کئے گئے تھے، انہوں نے کہا کہ محکمہ فائر بریگیڈ کے جو فائر ٹینڈرز خراب ہیں انہیں درست کرکے استعمال کے قابل بنایا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here