اکیس ستمبر سےچھ تا آٹھ کی کھلنے والی کلاسوں کو نہیں کھولا جائے گا جبکہ صورتحال بہتر رہی تو اسے تیسرے فیز میں پرائمری کے ساتھ کھولا جائے گا

0
284

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے اعلان کیا ہے کہ اسکولوں کی جانب سے ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے، والدین کی جانب سے چھوٹے بچوں کو اسکول نہ بھیجنے اعلان کے باوجود نجی اسکولوں میں بھیجنے اور اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کے کرونا ٹیسٹ کے دوران اب تک کے نتائج 2.4 فیصد آنے کے بعد محکمہ تعلیم سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ 21 ستمبر سے6 تا 8 کی کھلنے والی کلاسوں کو نہیں کھولا جائے گا جبکہ صورتحال بہتر رہی تو اسے تیسرے فیز میں پرائمری کے ساتھ کھولا جائے گا، تاہم اس دوران کلاس نہم تا گریجویشن کی ہونے والی کلاسز جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ہم وفاقی وزیر تعلیم اور تمام صوبوں کے وزراء تعلیم کی کمیٹی کو بھی آگاہ کریں گے اور اس بات کی بھرپور کوشش کی جائے گی کہ تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے مکمل ایس او پیز پر عمل درآمد کریں۔ ہمیں نجی تعلیمی اداروں کے معاشی صورتحال اور بچوں کی تعلیم کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں تاہم ہم بچوں کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ مجھے اپنے اہل ہونے یا نہ ہونے کا سرٹیفیکٹ کسی نالائق اور نااہل سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت ملک بھر میں اسمبلی اور اسمبلی سے باہر عوامی اشیوز پر صرف اور صرف بلاول بھٹو ہی ہیں جو بات کررہے ہیں اس کے علاوہ کوئی عوامی اشیو پر بات نہیں کررہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ میں خود گذشتہ 4 روز سے مختلف اضلاع میں صبح تعلیمی ادارے کھلنے سے بند ہونے تک دورے کررہا ہوں جبکہ محکمہ تعلیم کے تمام سیکرٹری سمیت تمام افسران اور ایڈمنسٹریشن کے افراد بھی تعلیمی اداروں کے دورے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے تعلمی اداروں نجی اور سرکاری دونوں کی جانب سے مکمل طور پر ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں نے تو مکمل طور پر ایس او پیز پر عمل درآمد کیا ہے لیکن نجی تعلیمی اداروں میں چھوٹے بچوں کو بھی بلایا گیا ہے اور افسوس کہ کسی قسم کے ماسک یا دیگر ایس او پیز کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز میں نے 4 نجی اسکولز میں اس طرح کی صورتحال کے بعد انہیں سیل کروایا گیا اور آج بھی ایسے نجی تعلیمی ادارے جنہیں ہم اچھے تعلیمی ادارے کہہ سکتے ہیں وہاں بھی صورتحال بہتر نظر نہیں آئی اور وہاں سماجی دوری، ماسک اور دیگر ایس او پیز کو مکمل خیا ل نہیں رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کے تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کے کرونا ٹیسٹ کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے اور 12 ستمبر سے 17 ستمبر کے درمیان14544 کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں اور ان میں سے اس وقت تک ہمیں 3636 کے نتائج موصول ہوئے ہیں، جن میں سے 89 میں کرونا مثبت پایا گیا ہے، جو 2.4 فیصد ہے اور یہ صورتحال کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ان تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ تعلیم سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم فیز ٹو جس میں کلاس 6 سے 8 تک کو کھولنا تھا اس کو موخر کرتے ہیں اور آئندہ صورتحال کو مانیٹر کرتے ہوئے اگر بہتری ہوئی اور بقیہ کرونا کے ٹیسٹ کے نتائج اچھے ہوئے تو ان کو تیسرے فیز میں پری پرائمری اور پرائمری کے ساتھ کھول دیں گے اور اگر صورتحال مطمئین نہ ہوئی تو آئندہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اعلان کیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت کسی بھی صورت میں اپنے بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم اور اسکولوں کے مالی نقصان کے لئے ہم بچوں کی صحت سے نہیں کھیل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے روز سے والدین سے اپنے بچوں کو ایس او پیز پر عمل درآمد کی اپیل کی لیکن افسوس کہ والدین کی جانب سے بھی مثبت پیش رفت ہمیں نظر نہیں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین ایس او پیز پر عمل درآمد کرکے تعلیمی اداروں کو کھولنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اپنے صوبے میں صورتحال خراب نظر آرہی ہو تو ہم این سی او سی کے اجلاس کا انتظار نہیں کرسکتے البتہ ہم اپنے اس فیصلے سے وفاقی وزیر تعلیم اور تمام صوبوں کے وزراء تعلیم کی بنائی گئی کوآرڈنیشن کمیٹی کو مطلع کردیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کو معاشی مسائل کے حل کے لئے میں نے دو بار وفاقی حکومت اور این سی او سی سے درخواست کی ہے کہ انہیں بلاسود قرضوں کی فراہمی کی جائے اور یہ قرضے اسٹیٹ بینک کے ذریعے انہیں دئیے جاسکتے ہیں اور یہ وفاقی حکومت ہی کرسکتی ہے۔ ایک اور سوال پر وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم نے مائیکرو سوفٹ کے تعاون سے آن لائن کلاسز میں اب تک 5 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات کی رجسٹریشن مکمل کرکے ان کی آئی ڈیز بنا لی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کسی بھی حصہ میں 100 فیصد انٹرنیٹ کی مکمل سہولت نہیں ہے البتہ اس اقدام سے 60 فیصد تک طلبہ و طالبات ضرور مستفید ہوسکیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کی 22 کروڑ کی آبادی پر 22 کروڑ پولیس والے متعین نہیں کرسکتے ہیں، اس صورتحال میں ہم سب کو اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور ادارے صورتحال سے آگاہ کرسکتے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک ایم پی اے کی جانب سے ان پر تنقید کے سوال پر انہوں نے کہا کہ نیو کراچی کی اسکولوں میں بارش کا پانی جمع ہونے کی شکایات پر وہاں ایڈمنسٹریشن کام کررہی ہے اور جس اسکول پر مجھے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، وہاں نالے پر ان کے نفیس دوستوں نے ہزاروں کی تعداد میں دکانیں بنا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے اہل ہونے یا نہ ہونے کا مجھے ان نالائق اور نااہل سے سرٹیفکٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ضمیر کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کررہا ہوں اور کرتا رہوں گا اور میں ان کے چیئرمین کی طرح غافل نہیں ہوں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here