جامعہ کراچی اور سندھ پولیس کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

0
320

جامعہ کراچی اور سندھ پولیس کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط
پالیسیاں تبدیل کرنے سے مائنڈ سیٹ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ،ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر کے لئے ضروری ہے کہ اس میں چیلنج قبول کرنے کی صلاحیت ہو اور کسی بھی چیلنج سے گھبرانے اور آسان راستہ تلاش کرنے کے بجائے ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی
جامعہ کراچی اور سندھ پولیس کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب جمعہ کے روز سینٹرل پولیس آفس سندھ میں منعقدہوئی۔مفاہمتی یادداشت پر جامعہ کراچی کی جانب سے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی جبکہ آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر سید کلیم امام نے دستخط کئے۔مذکورہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق سینٹر فارڈیجیٹل فارنسک سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی سندھ پولیس کو بنیادی،ایڈوانس لیول اور فیلڈ سے متعلق آپریشنل تربیت فراہم کرے گی جس میں سائبر کرائم،کمپیوٹرفارنسک،جیوفینسنگ، موبائل فارنسک،نیٹ ورک فارنسک اور ڈیٹا بیس فارنسک شامل ہیں۔ مذکورہ تربیت ڈیجیٹل بنیادوں ، ماڈرن ٹیکنالوجیز اور تکنیکوں کے بہتر استعمال اور جائے وقوعہ سے جمع/ حاصل شواہد کی کمپیوٹرائزیالیبارٹری کے ذریعے تحقیقات کی روشنی میں مجرم تک رسائی اور عدالت میں پیش کرنا شامل ہے۔واضح رہے کہ سینٹر فارڈیجیٹل فارنسک سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی پاکستان میں قائم ہونے والاپہلا سینٹر ہے جہاں پولیس کو تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ڈپلومہ اور سرٹیفیکٹ کورسزبھی کرائے جائیں گے۔
علاوہ ازیں جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات میں موجود ماہرین بالخصوص کرمنالوجی،جینیات،ڈاکٹراے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈجینیٹک انجینئرنگ اور سینٹر فارڈیجیٹل فارنسک سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی قابلیت اور تجربات سے استفادہ کرنے کے لئے سندھ پولیس اور جامعہ کراچی مل کر کام کریں گے۔
ابتدائی طورپر جامعہ کراچی کے ماہرین سعید آباد میں قائم پولیس ٹریننگ سینٹر میں پولیس افسران کو مختلف موضوعات پر شارٹ کورسز ، ڈپلومہ اور سرٹیفیکٹ کورسز کرائیں گے اور مستقبل میں سندھ پولیس اور جامعہ کراچی کی باہمی مشاورت سے ڈگری پروگرام کا آغاز بھی کیاجائے گا۔سندھ پولیس کے ماہرین کے ساتھ ساتھ جامعہ کراچی کی فیکلٹی پولیس اسسمنٹ سسٹم اورجدید تحقیقی نظام کو مربوط بنانے میں مددکرے گی۔
دریں اثناءسندھ پولیس کے زیر اہتمام ہونے والے پروگرام بعنوان : ”ایک گھنٹہ مہمان کے ساتھ “ کے مہمان خصوصی جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے پولیس افسران کو جامعہ کراچی کی تاریخ ،مختلف شعبہ جات کی سرگرمیوں اور تحقیقاتی پیش رفت سے آگاہ کیا ۔اس موقع پر آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے کہا کہ ڈاکٹر خالد عراقی اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوںکی بدولت آج ملک کی سب سے بڑی جامعہ ،جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کے عہدے پر فائز ہیں ۔ڈاکٹر خالد عراقی نہ صرف ایک اچھے استاد بلکہ ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر بھی ہیں۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم وتحقیق کے حصول اور پیشہ ورانہ کا میابی کا بیج اسکول کی سطح پر ہی بویاجاتا ہے اسکول کی سطح پر ناقص نظام تعلیم اعلیٰ تعلیم پر منفی اثرات مرتب کرتاہے۔ ابتدائی تعلیم سے بہت اثر پڑتا ہے کیونکہ اگر کسی عمارت کی بنیاد ہی مضبوط نہ ہو تو اس پر مضبوط عمارت نہیں بنائی جاسکتی ۔ ریاست کے ہر فرد کو تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ،کیونکہ معیاری تعلیم کے حصول کے لئے خرچ کی جانے والی رقم دراصل ایک طرح کی سرمایہ کاری ہوتی ہے جس کا منافع ملک کی سالمیت اور ایک مضبوط قوم کی شکل میں ملتا ہے۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ پالیسیاں تبدیل کرنے سے مائنڈ سیٹ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر کے لئے ضروری ہے کہ اس میں چیلنج قبول کرنے کی صلاحیت ہو اور کسی بھی چیلنج سے گھبرانے اور آسان راستہ تلاش کرنے کے بجائے ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ جامعہ کراچی اور سندھ پولیس کھیلوں کی سرگرمیوں کے رجحان کو باہمی اشتراک سے فروغ دے سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here