ارشد ندیم کو ٹوکیو اولمپکس میں نیزہ بازی کے فائنل مقابلوں تک پہنچنے اور شاندار کارکردگی دکھانے پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا عمدہ پرفارمنس کے اعتراف میں سرسید کی انتظامیہ کی طرف سے انھیں طلائی تمغہ اور دو لاکھ روپے نقد انعام پیش کیا گیا ۔

0
52

ارشد ندیم کو ٹوکیو اولمپکس میں نیزہ بازی کے فائنل مقابلوں تک پہنچنے اور شاندار کارکردگی دکھانے پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا عمدہ پرفارمنس کے اعتراف میں سرسید کی انتظامیہ کی طرف سے انھیں طلائی تمغہ اور دو لاکھ روپے نقد انعام پیش کیا گیا ۔
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) سرسیدیونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ اسپورٹس کی جانب سے ارشد ندیم کو ٹوکیو اولمپکس میں نیزہ بازی کے فائنل مقابلوں تک پہنچنے اور شاندار کارکردگی دکھانے پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا ۔ عمدہ پرفارمنس کے اعتراف میں سرسید کی انتظامیہ کی طرف سے انھیں طلائی تمغہ اور دو لاکھ روپے نقد انعام پیش کیا گیا ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ جدید دور کے مطابق ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے کھیلوں کا معیار بہت نیچے چلاگیا ۔ کھیلوں کے میدان ختم ہوتے جارہے ہیں ۔ ۔ تربیتی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے بھی کھیلوں کے معیار پر فرق پڑا ہے ۔ تاہم ایک مضافاتی علاقے سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم نے اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ممتاز مقام حاصل کیا ۔
سرسیدیونیورسٹی کے چانسلر جاویدانوار نے کہا کہ کسٹم، ریلوے، بنک اور مخیر حضرات نے کھیلوں کی سرپرستی ختم کردی جس سے کھیلوں کے معیار پر اثر پڑا ۔ کھیلوں کے معیار میں تنزلی کی ایک وجہ کھیل کے میدانوں کا فقدان بھی ہے ۔ کھیل کے میدان تجارتی مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔ نامساعد حالات کے باوجود ارشد ندیم نے ٹوکیواولمپکس میں شاندار کارکردگی کا مظاہر کیا اور فائنل تک پہنچے جس کے لیے وہ تعریف کے بجاطور پر مستحق ہیں ۔
سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ ارشد ندیم نے نیزہ بازی کے کھیل کو مقبول عام بنا دیا ہے ۔ ٹوکیو اولمپک میں ان کی شاندار پرفارمنس نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے ہیں ۔ ہ میں دیگر کھیلوں کی بھی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے جیسے لیاری سے فٹبال اور باکسنگ کے بہت اچھے کھلاڑی تیار ہو سکتے ہیں ۔ پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے جہاں پچاس فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔
نصرت بھٹو وومین یونیورسٹی کی وائس چانسلر ثمرین حسین نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں بڑا ٹیلنٹ ہے اگر انھیں سازگار ماحول ملے تو وہ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا سکتے ہیں اور ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں ۔ انھوں نے اس موقع پر ارشد ندیم کو ایک لاکھ روپے کا چیک بھی پیش کیا ۔
قبل ازیں سرسید یونیورسٹی کے رجسٹرار سید سرفراز علی نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں کہا کہ ارشد ندیم نے اپنی شاندار پرفارمنس سے قوم کاسر فخر سے بلند کردیا ہے ۔ تقریب کے اختتام پر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری محمد ارشد خان نے اظہار تشکر پیش کرتے ہوئے ایسی بہترین تقریب کے انعقاد پر سرسید یونیورسٹی کے اسپورٹس کنوینئرقاضی نصر اور اسپورٹس ڈائریکٹر مبشر مختار کی کوششوں کی تعریف کی ۔
اس موقع پر کے ایچ اے کے چیئرمین گلفراز احمد خان نے بھی خطاب کیا ۔
تقریب کے شرکاء میں سرسید یونیورسٹی کے ڈین حضرات، شعبہ جات کے سربراہان، سندھ ایکتھلیٹکس ایسوسی ایشن کی صدر حمیرا، محمد طالب، اولمپین سمیر حسین، ہاکی کے بین الاقوامی کھلاڑی محمدعلی خان، خالد رحمانی، عبدالباسط، اولمپینزو دیگر شامل تھے ۔ میزبانی کے فراءض اسپورٹس کے معروف اینکر نسیم راجپوت نے انجام دئے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here