پاکستان اور برطانیہ سمیت دنیا بھر میں نرسوں کی قلت ہے، برٹش ڈپٹی ہائی کمشنر

0
652

پاکستان اور برطانیہ سمیت دنیا بھر میں نرسوں کی قلت ہے، برٹش ڈپٹی ہائی کمشنر
مستقبل میں نرسنگ کی تربیت، میڈیکل ایجوکیشن اور متعلقہ امور میں اشتراک ِ عمل کی ضرورت ہے،برٹش ڈپٹی ہائی کمشنر کی
پروفیسر محمد سعید قریشی سے ملاقات
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر مائیک نتھاویرین آکس ((Mike Nithavirianakisنے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ سمیت دنیا بھر میں نرسنگ اسٹاف کی قلت ہے، برطانیہ اس قلت کو باہمی تعاون سے حل کرنا چاہتاہے اور مستقبل میں نرسنگ کی تربیت، میڈیکل ایجوکیشن اور متعلقہ امور میں اشتراک ِ عمل کی ضرورت ہے، یہ بات انہو ں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی سے ان کے دفتر میں ملاقات کے دوران کہی، اس موقع پر ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر امجد سراج میمن، کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی سربراہ ڈاکٹرصنم سومرو، وائس پرنسپل ڈاکٹر شمائلہ خالد اور ٹریڈ ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ برٹش ہائی کمیشن ریحان شاہد بھی موجودتھے، ڈپٹی ہائی کمشنر سے ملاقات میں پروفیسر محمد سعید قریشی نے پاکستان میں طبی تعلیم اور عمومی تعلیمی صورتِ حال پر بات کی اور ڈاؤ یونیورسٹی کی خدمات پر روشنی ڈالی، ڈپٹی ہائی کمشنر نے نرسنگ کے شعبے میں تربیت کی سہولتوں کی فراہمی میں دلچسپی کا اظہار کیا،
انہو ں نے کہا کہ برطانیہ سے ماہرین کی پاکستان آمد کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی، ملاقات میں اس تجویز پر اتفاق کیا گیا کہ تعلیم و تربیت کے لیے طلبا و اساتذہ کو برطانیہ بھیجنے کے بجائے پاکستان میں تربیتی سہولتوں کو بہتربنایا جائے، برٹش ڈپٹی ہائی کمشنر نے کہاکہ پاکستان میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہوگئی ہے، خاص طور پر کراچی، لاہور اور اسلام آباد تو ہر اعتبار سے محفوظ شہر ہیں، برطانیہ میں اب پاکستان کا امیج گذشتہ عشرے کے مقابلے میں بہت بہتر ہورہا ہے اور ٹریول ایڈوئز ریز بھی اب مثبت ہوگئی ہے، ماسوائے چند ایک علاقوں کے اب برطانوی شہریوں کو پاکستان میں ہر جگہ جانیکی اجازت ہے، اس سے دوطرفہ تجارتی، تعلیمی اور دیگر شعبوں میں ترقی ہوگی، برٹش ہائی کمشنر نے پاکستان میں کووڈ نائنٹین کی دوسری لہر کے نتیجے میں متاثرین کی تعداد بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا،تاہم انہوں نے کووڈ نائین ٹین کی پہلی لہر کے دوران بہتر علاج معالجے کی حوالے سے پاکستان کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان میں اپنے پڑوسی ممالک کے مقابلے میں کورونا پر بہتر انداز میں قابو پایا ہے، پروفیسر محمد سعید قریشی نے کورونا کی حالیہ لہر اور متاثرین کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی اور اس کے
زیرِ اہتمام دو انفیکشیس ڈیزیز اسپتال کووڈ کے متاثرین کے علاج کے لیے بھر پور صلاحیتوں کے ساتھ کام آرہے ہیں، ملاقات میں دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا، قبل ازیں وائس پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کالج پروفیسر شمائلہ خالد نے صدر دروازے پر برٹش ہائی کمشنر اور ان کے وفد کا استقبال کیا اور گلدستہ پیش کیا، ڈپٹی ہائی کمشنر نے ڈاؤ میڈیکل کالج کے سنگِ بنیاد کا بھی معائنہ کیا، جس کے مطابق ُ10دسمبر 1945کو ڈاؤ میڈیکل کالج کا سنگِ بنیاد سرہگ ڈاؤ نے رکھا، انہو ں نے سنگِ بنیاد کے ساتھ تصویر بھی بنوائی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here