کشمیر بنے گا پاکستان

0
1135

 

 

 

تحریر۔ نازیہ علی
آذادی پانے کی طلب میں تو جانور اور پرندے تک اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر لڑ جاتے ہیں تو بے بس اور مظلوم کشمیری تو پھر بھی انسان ہیں جسکا حق ہے آزادی مگر وہ آزادی کے انتظار میں اپنی نسلیں کھو رہے ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن کے ڈرامے “انگار وادی” میں رؤف خالد مرحوم نے کشمیر کے مظلوموں پر جو ظلم و ستم دکھائے اور مختلف کشمیر کے موضوعات پر بنائے گئے ڈراموں میں جو درد اور قرب دکھایا گیا وہ وقت گزرنے کے ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتا چلا گیا ہزاروں گھروں سے جنازے اٹھنا ،ڈنڈوں سے جوانوں کا پٹنا،جوان بیٹیوں کی عزتیں پامال ہونا۔بس یہی کشمیریوں کے نصیب میں ہمیشہ کیلئے لکھ دیا گیا۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسکا تحفظ ہر پاکستانی کا فرض ہے آج 5 فروری ” یوم یکجہتی کشمیر” کا دن منانے کا اہم اور اصل مقصد یہی ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو بتا سکیں کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم ان کی آزادی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادیں گے۔ بھارت کے ظلم و بربریت کو دنیا بھر کے سامنے لانے کے لئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ ہم ایک ہیں اس سال پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر اس طرح منایا جارہا ہے جیسا کہ 1931ء میں علامہ اقبال کی قیادت میں کشمیر کمیٹی منایا کرتی تھی۔ اس میں جوش و خروش بھی ہے اور ہوش مندی بھی۔ کشمیری کہتے ہیں کہ انہیں غلام بنانے کی دستاویزات پر تاریخ میں تین بار دستخط کیے گئے۔ اٹھارویں صدی کے لگ بھگ وسط میں انہیں انگریزوں نے چند ٹکوں کے عوض فروخت کیا۔ اکتوبر 1947ء میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت کے شعلے پھوٹے اور ریاست جموں وکشمیر کا ایک بڑا حصہ آزادی کی دولت سے ہمکنار ہوا تو بھارتی افواج کشمیر پر قابض ہوگئیں۔ پھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے کشمیر کی ریاست کی وحدت پر کلہاڑاچلایا۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے اسے بھارتی یونین کا حصہ بنا لیا مگر کشمیری عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور پاکستانی عوام کے دل بھی ان کے ساتھ دھڑکتے ہیں یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور یہی محبت ہمارے ازلی دشمن بھارت کو انتہائی ناگوار گزرتی ہے اور قیام پاکستان سے آج تک پاک بھارت تنازعے کی اہم ترین وجہ بھی یہی ہے کشمیر ہمارا ہے۔ ہمارا صرف ایک ہی نعرہ ہے۔ “کشمیر بنے گا پاکستان” ۔بھارت نے کشمیر پر ایک طرف تو غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور دوسری طرف کشمیری مسلمانوں کی زندگیاں بد سے بد تر کرنے کے لئے تمام حربے استعمال کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر و استداد کی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔کشمیری رہنما یاسین ملک کو ڈیتھ سیل میں رکھنے کے باوجود انکی بہادر اہلیہ مشعال ملک مسلسل ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں اور ساتھ ہی یاسین ملک کی دن بدن بگڑتی صورتحال کی وجہ سے اپنی معصوم بیٹی کے ہمراہ اکثر پریس کانفرنس یا کسی احتجاج میں روتی ہوئی انصاف کی اپیل کرتی دکھائی دیتی ہیں۔کشمیر پر ظلم ڈھانے والا بھارت یہ بھول گیا کہ آزادی کے طلبگار کشمیریوں کی کتنی نسلیں ظلم کا شکار ہو کر ختم ہو گئی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر کے رقبے کی اگر بات کریں تو کشمیر کا مجموعی رقبہ قریباً دو لاکھ 22 ہزار 236 مربع کلومیٹر ہے۔اس طرح سائز میں یہ ہمارے پنجاب سے کچھ زیادہ اور دنیا کے 113 ممالک سے بڑا ہے۔کشمیر صرف جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کا نام نہیں بلکہ گلگت بلتستان، لداخ، اکسائی چن، وادی شاکسگم اور سیاچن گلیشیئر بھی کشمیر کا حصہ ہیں۔ اس طرح کشمیر دراصل تین ممالک یعنی انڈیا، پاکستان اور چین میں منقسم ہے۔کشمیر کا سب سے بڑا حصہ انڈیا کے پاس ہے جو مجموعی رقبے کا قریباً 46 فیصد بنتا ہے۔ اس میں وادی کشمیر، جموں اور لداخ شامل ہیں۔ انڈیا کے زیرانتظام اس کشمیر کا رقبہ ایک لاکھ ایک ہزار 1387 مربع کلومیٹر ہے۔1962ء میں چین کے ساتھ جنگ سے پہلے انڈیا کا کشمیر کے ایک لاکھ 38 ہزار 200 مربع کلومیٹر حصے پر دعویٰ تھا۔تاہم اس جنگ میں انڈیا نے قریباً 36 ہزار 813 مربع کلومیٹر علاقہ کھویا۔انڈیا کے سرکاری نقشوں اور ریاست جموں و کشمیر کی ویب سائٹ پر اس کا رقبہ دو لاکھ 22 ہزار 236 مربع کلومیٹر بتایا جاتا ہے جو درست نہیں ہے۔اس وقت انڈیا کے زیراہتمام وادی کشمیر کا رقبہ قریباً 15 ہزار 948 مربع کلومیٹر، جموں کا رقبہ قریباً 26 ہزار 293 مربع کلومیٹر اور لداخ کا رقبہ قریباً 59 ہزار 146مربع کلومیٹر ہے۔ تقسیم برصغیر کے موقع پر ماؤنٹ بیٹن اور نہرو نے کشمیری مہاراجہ کے ریاستی اقتدار کو تحفظ دینے کے بدلے اس سے انڈیا کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کرا لیے تھے۔اس طرح وادی کشمیر، جموں اور لداخ پر انڈیا کا اقتدار قائم ہو گیا تھا۔ مسئلہ کشمیر پر انڈیا اور پاکستان میں ایک مرتبہ پھر جنگی ماحول گرم ہے۔ دنیا کی دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کو حملے اور جوابی حملے کی دھمکی دے چکی ہیں۔ ایسے میں دونوں اطراف سے سمجھدار اور امن پسند لوگ جنگ کے خطرے سے نجات پانے اور آنے والی نسلوں کو امن، سلامتی اور خوشحالی پر مبنی مستقبل دینے کے خواہاں ہیں۔مسئلہ کشمیر کی سب سے اچھی تعریف سابق صدر غلام اسحاق خان نے کی تھی جنہوں نے اسے ‘تقسیم برصغیر کا نامکمل کام’ قرار دیا تھا۔برطانیہ نے برصغیر کو انتخابات یا رائے شماری کی بنیاد پر تقسیم کیا تھا۔ اس طرح برطانوی ہند کی مسلم اکثریتی ریاستیں پاکستان بن گئی تھیں۔ برطانویوں نے جموں و کشمیر جیسی شاہی ریاستوں کے حکمرانوں کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ وہ اپنی ریاست کے جغرافیے اور آبادی کی بنیاد پر یہ فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے پاکستان کا حصہ بننا ہے یا وہ انڈیا کے ساتھ الحاق کریں گے۔تاہم کانگریس پارٹی کا یہ کہنا تھا کہ شاہی ریاستوں کے حکمران نہیں بلکہ عوام یہ فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے کس ملک میں شامل ہونا ہے۔ چنانچہ اس نے ایسی ریاستوں کو بزور طاقت انڈیا میں شامل کر لیا جن کے مسلمان حکمران یا تو آزادی چاہتے تھے یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے خواہش مند تھے۔ ریاست حیدرآباد اور جوناگڑھ اس کی مثال ہیں۔ریاست جموں و کشمیر میں صورتحال اس سے برعکس تھی جہاں مسلمان اکثریتی آبادی پر ایک ہندو مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی۔ کانگریس کو کشمیر میں بھی عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیے تھا مگر یہاں اس نے حیدرآباد اور جونا گڑھ والا اصول نظرانداز کرتے ہوئے راجا کی مدد سے کشمیر کا انڈیا کے ساتھ الحاق کروا لیا۔جب ارادے مضبوط ،عزم جواں اورحوصلے بلند ہوں۔ قوم کا بچہ بچہ جذبہ قربانی سے آشنا ہو تو تحریکوں کو کامیابی کی منزل سے زیادہ دیر دور نہیں رکھا جاسکتا۔ آج مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی غاصبانہ کے خلاف شروع ہونے والی تحریک آزادی کی نئی لہر فیصلہ کن میدان میں داخل ہوچکی ہے اور ہر آنے والے دن کے ساتھ اِس کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ بھارت نے اس تحریک کو کچلنے کیلئے پہلے سے زیادہ مظالم ڈھانا شروع کر دیئے ہیں۔کشمیری شہریوں پر ظلم و ستم کی داستان طویل اور خون آلود ہے جنت کی وادی کشمیر کو جب ہم لہو لہان یا آگ میں جلتا کہیں تو دل کانپتا ہے اور ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ کیا جنت میں بھی آگ لگتی ہے کیا جنت میں بھی خون بہتا ہے۔بھارت کی طرف سے مظالم کی انتہا اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عید میلاد النبیﷺ ہو یا محرم الحرام کے جلوس کسی بھی موقع اور دن کا احترام سمجھے بغیر کشمیری مسلمانوں پر مظالم کیے جاتے ہیں اور نماز جمعہ تک جانے پر پابندی ہے۔ 5 فروری “یوم یکجہتی کشمیر” پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف مل کر کشمیریوں سے یکجہتی کے طور پر مناتے ہیں۔ اور اس سال 2020 میں بھی آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر، پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری اور پاکستانی 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں۔اس سال اس دن کو بھرپور انداز میں منانے کے لئے تیاریاں بہت پہلے اور زور وشور سے جاری ہو گئی تھیں۔وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں سٹی برانڈنگ کے سلسلے میں مختلف مقامات پر کشمیر میں ظلم وستم کو تصویری صورت میں نمایاں کیا گیا۔ دارلحکومت کے اہم پلوں کو یوم یکجہتی کے بینروں سے سجایا گیا اور سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے مواد پہلے سے اپ لوڈ کیا گیا۔ اہم شاہرائوں پر آزاد کشمیر کے پرچم اور بینرز آویزاں کئے گئے ہیں۔3 فروری کو کنونشن سینٹر میں طلباء کنونشن منعقد ہوا جس سے وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے خطاب کیا۔4 فروری کو ایوان صدر میں کانفرنس ہوئی جس سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور حریت راہنماء نے خطاب کیا جبکہ آج 5 فروری کے پروگرام میں وزیر اعظم عمران خان مظفرآباد میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی ہدایت پر فروری کو کشمیری پاکستانی بھائیوں کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم بھائیوں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی دنیا پر واضح کیا جائے گا کہ بھارت ظالم اور جابر ملک ہے جس نے مقبوضہ کشمیر پر 72 سالوں سے جابرانہ قبضہ جما رکھا ہے اور آئے روز نہتے، معصوم کشمیریوں کو شہید کر رہا ہے۔دل یہ سوچ کر خون کے آنسو روتا ہے کہ وادی کشمیر کئی دہائیوں سے بد ترین تشدد اور پر آشوب حالات سے دوچار ہے۔ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی صریحا” نسل کشی کی جا رہی ہے.کشمیر پر بھارتی فوج کا سالوں سے جاری تسلط وہاں کی ثقافت، زندگی اور کشمیر کی معیشت کی شکستہ حالی کا باعث بن رہا ہے۔اقوام متحدہ کو کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے اب کوشش کرنی ہو گی تمام عالمی قوتوں کو مل کر کشمیر کے مظلوموں کو بھارت کے ظلم سے نجات دلوانا ہو گی۔پوری پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کشمیر کے ساتھ ہے اور ہر مسلمان اور کشمیری کو یقین ہے کہ فتح حق اور سچ کی ہو گی مگر آزمائش کی یہ سیاہ لمبی رات کب ختم ہو گی یہ کوئی نہیں جانتا۔ہر مظلوم کشمیری اور پاکستانی صرف ایک نعرہ جانتا ہے کہ “کشمیر بنے گا پاکستان” ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here