جامعہ کراچی: تحقیقی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف سینٹرل اینڈویسٹ ایشین اسٹڈیز کی تنظیم نوکی تقریب

0
32

جامعہ کراچی: تحقیقی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف سینٹرل اینڈویسٹ ایشین اسٹڈیز کی تنظیم نوکی تقریب
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے شعبہ تاریخ جامعہ کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف سینٹرل اینڈویسٹ ایشین اسٹڈیز جیسے تاریخی اور فعال تحقیقی ادارے کی تنظیم نو پر مبارکباد دیتے ہوئے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔انہوں نے اس بات پر زوردیا کہ اتنے عظیم اکابرین کے زیر سرپرستی جو ادارہ قیام پذیر ہوا اس کو دوبارہ شعبہ تاریخ سے ہی کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس ادارے کی ایک پرانی عمارت کی تعمیر نو کی ضرورت پر زوردیا اور اس سلسلے میں اپنے بھرپورتعاون کی یقین دہائی کروائی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ تاریخ جامعہ کراچی کی سیمینار لائبریری میں انسٹی ٹیوٹ آف سینٹرل اینڈویسٹ ایشین اسٹڈیزکی منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر ادارے کی جنرل باڈی نے اس ادارے کے عہدیداران کو دوبارہ منتخب کیا جس کے مطابق ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاصدیقی کو صدر،ڈاکٹر جعفر احمد کو نائب صدر،سیکریٹری کے لئے ڈاکٹر نسرین افضل جبکہ خازن کے لئے سلطان چاؤلہ اور جوائنٹ سیکریٹری کے لئے ڈاکٹر حنا کو منتخب کیا گیا۔علاوہ ازیں مجلس عاملہ کے پانچ منتخب اراکین میں ڈاکٹر نورین مجاہد،ڈاکٹر سہیل شفیق،ڈاکٹر دانش پیرزادہ،ڈاکٹر جاوید حیسن اور ڈاکٹر رضا کاظمی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف سینٹرل اینڈ ویسٹ ایشین اسٹڈیز کے قیام میں پاکستان کی نامورعلمی شخصیات نے کردار اداکیا جس میں ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، ڈاکٹر ابوللیث صدیقی،ڈاکٹر ریاض الاسلام،حکیم محمد سعید اور ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاصدیقی کے نام قابل ذکرہیں۔ڈاکٹر ریاض الاسلام کی نظامت میں اس ادارے نے شعبہ تاریخ کے ایک کمرے سے اس کا آغاز کیا اور بہت جلد دنیا کے بہترین اداروں میں شامل ہوا۔ڈاکٹر این میری شمل اور پیر حسام الدین راشدی جیسی شخصیات نے اس ادارے کے تعاون سے گراں قدرتحقیقی سرگرمیاں سرانجام دیں۔
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاصدیقی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی تشکیل نو وقت کی اہم ضرورت ہے اور موجودہ بین الاقوامی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ادارے کی اہمیت دوگنی ہوگئی ہے۔یہ ادارہ شعبہ تاریخ،بین الاقوامی تعلقات اور سیاسیات کے طالب علموں کو ایک اچھا ماحول اور لائبریری فراہم کرے گا۔
معروف ماہر سماجی علوم ڈاکٹر جعفر احمد نے انسٹی ٹیوٹ کی علمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شیخ الجامعہ ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی معاونت کے بغیر اس ادارے کا دوبارہ شعبہ تاریخ کے اسی کمرے سے فعال ہونا ممکن نہیں تھا جس میں ڈاکٹر ریاض الاسلام نے چاردہائیوں تک تحقیقی سرگرمیاں رکھیں۔انہوں نے شعبہ تاریخ کے تمام اساتذہ کو بھی مبارک باد دی۔اسی ادارے کا دوبارہ شعبہ تاریخ میں فعال ہونے سے نہ صرف شعبہ ہذا بلکہ پوری کلیہ فنون وسماجی علوم میں تحقیق کا ماحول پیداہوگااور کلیہ ہذا کو مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیاء کے مختلف موضوعات پر کانفرنسزاور سیمینارز کے انعقاد میں مددملے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here