پیڈسٹیرین بریج ہونے کے باوجود اکثر خواتین بچوں کو گود میں لئے ہوئے پیڈسٹیرین بریج کے بجائے زیادہ ٹریفک کی روانی کے باوجود روڈ کراس کرنے کی کوشش کرتی ہیںجس کی وجہ سے روڈ حادثات رونماہوتے ہیں ۔جاوید علی مہر

0
167

روڈ حادثات کی وجہ سے پورے کراچی کا اگر ایک سال کا معاشی و اقتصادی نقصان دیکھا جائے تو وہ تقریباً 518 بلین روپے بنتے ہیں جو مختلف انداز میں انسان کو اداکرنے پڑتے ہیں۔ڈاکٹر سلمان زبیر
گذشتہ سالوں کے اعداد وشمار کے مطابق روڈ حادثات کا شکارہونے والوں میں 65 فیصد موٹر سائیکل چلانے والے جبکہ 33 فیصددیگر لوگ شامل تھے۔ڈاکٹر افضال احمد
ڈی آئی جی ٹریفک پولیس جاوید علی مہر نے کہا کہ مصروف شاہراہوں بالخصوص شاہراہ فیصل ماڑی پورروڈ اور دیگر مین شاہراہوںپر چند قدم کے فاصلے پر پیڈسٹیرین بریج ہونے کے باوجود اکثر خواتین بچوں کو گود میں لئے ہوئے پیڈسٹیرین بریج کے بجائے زیادہ ٹریفک کی روانی کے باوجود روڈ کراس کرنے کی کوشش کرتی ہیںجس کی وجہ سے روڈ حادثات رونماہوتے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ روڈسیفٹی سے متعلق آگاہی کا فقدان ہے۔ کراچی میں سالانہ تقریباً250 افراد روڈحادثات کی وجہ سے موت کا شکارہوجاتے ہیںجس کی وجہ سے سب زیادہ مشکلات کا سامناان کے خاندان کو کرنا پڑتاہے۔اگرٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنائیں گے تواس کا نتیجہ روڈ ایکسیڈنٹ کی صورت میں نکلے گا۔ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے ذریعے نہ صرف ہم اپنی قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچاسکتے ہیں بلکہ حادثات میں بھی کمی لائی جاسکتی ہے۔ہماری عفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہم نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈھالنے اور قصوروارٹھرانے کے بجائے ہم سب کو ٹریفک قوانین پر عملدرآمد اور روڈسیفٹی کو یقینی بناناچاہیئے کیونکہ ہم سب اسٹیک ہولڈرز ہیںاور ٹریفک قوانین اور روڈسیفٹی پر عملدرآمد ہی کے ذریعے حادثات میں کمی لائی جاسکتی ہے اور اس کے لئے شعور وآگاہی فراہم کرنا ناگزیر ہے۔میرے یہاں پر آنے کا مقصد آپ کو روڈ سیفٹی سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ جغرافیہ کے زیر اہتمام اور نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس کے اشتراک سے جامعہ کراچی کے کلیہ فنون وسماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقدہ روڈ سیفی آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس سے قبل سلورجوبلی گیٹ جامعہ کراچی تا آرٹس آڈیٹوریم جامعہ کراچی روڈسیفٹی آگاہی واک بھی کی گئی۔
جاوید علی مہر نے مزید کہا کہ ہمارے یہاں لائسنس لینا بہت آسان کام تصور کیا جاتاہے ،لیکن آپ کو حیرانی ہوگی کہ آسٹریلیامیں جو لائسنس دیاجاتاہے اس کے مطابق شروع کے تین سال تک صرف چھوٹی اسٹریٹس میں گاڑی چلانے کی اجازت ہوتی ہے اور اس دورانیے میں اگر اس کوٹکٹس نہیں ملتے اور وہ ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کا مظاہرہ کرتاہے تواسی صورت اس کے لائسنس میں توسیع،اپ گریڈ اور ہائی وے پر گاڑی چلانے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ اس بات سے بحوبی واقف ہیں کہ کسی ایک کے جارحانہ رویے،لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے کسی دوسرے کی زندگی ،اس کے پورے خاندان اور نسلوں کی زندگی برباد ہوسکتی ہے۔
جامعہ کراچی کے شعبہ جغرافیہ جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمان زبیر نے کہا کہ نوجوان سب سے زیادہ روڈ حادثات کا شکار ہوتے ہیںجن کی عمریں 19 سے 33 سال کے درمیان ہوتی ہیںشامل ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ لاپرواہی اور خطرات سے کھیلنا ہے۔ان حادثات کی وجہ سے نہ صرف ملک اور معاشرے پر بہت بڑابوجھ پڑتاہے بلکہ معاشی اعتبار سے بھی یہ نقصان کا باعث بنتے ہیں پورے کراچی کا اگر ایک سال کا معاشی و اقتصادی نقصان دیکھا جائے تو وہ تقریباً 518 بلین روپے بنتے ہیں جو مختلف انداز میں انسان کو اداکرنے پڑتے ہیں۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ،قانون کی پاسداری اور محتاط رہ کر ہی ان حادثات سے بچاجاسکتا ہے۔
این ای ڈی یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف اربن اینڈ انفرااسٹرکچر انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر افضال احمد نے کہا کہ روڈ حادثات کا شکار ہونے والوں میں موٹر سائیکل چلانے والوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔گذشتہ سالوں کے اعداد وشمار کے مطابق روڈ حادثات کا شکارہونے والوں میں 65 فیصد موٹر سائیکل چلانے والے جبکہ 33 فیصددیگر لوگ شامل تھے۔میٹر ک،انٹر میڈیٹ ،گریجویشن اور ماسٹرز کے طلبہ کا جب ڈیٹا لیاگیا توپتہ چلا کہ زیادہ ترطلبہ موٹر سائیکل پر بغیر ہلیمٹ کے سواری کرتے ہیںجس سے یہ معلوم ہوا کہ تعلیم کا کوئی خاص کردار نہیں ہے لوگوں کے ہیلمٹ استعمال نہ کرنے پر ایک عمومی رجحان معاشرے کا یہ ہے کہ ہیلمٹ بہت کم استعمال کیا جاتا ہے ۔اگر ہیلمٹ کا استعمال کرلیا جائے تو95 فیصد حادثات سے بچا جاسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here