ڈاؤ یونیوسٹی میں وومن ورک پلیس ہراسمنٹ پر آگہی پروگرام کا انعقاد

0
70

:وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسمنٹ محترمہ کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ جنسی ہراسانی کے واقعات کہیں بھی ہوسکتے ہیں، اصل میں سدباب اس وقت ہوسکتا ہے جب اس قسم کے واقعات رپورٹ ہونگے، رپورٹنگ نہیں ہوگی تو کرنے والوں کے حوصلے بلند ہونگے، ہمیں لوگوں کا خوف دور کرنا ہے تاکہ ملزمان کے حوصلے پست ہوں یہ باتیں انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیرِ اہتمام ڈاؤ میڈیکل کالج کے آراگ آڈیٹوریم میں کام کی جگہ پر وومن ہراسمنٹ پر منعقدہ آگہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں، اس موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی کی قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر زرناز واحد، ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر امجد سراج میمن، ڈاکٹر فریال شیخ نے بھی خطاب کیا،جبکہ کہ اس موقع پر ڈاؤ میڈیکل کالج کی وائس پرنسپل ایسوایٹ پروفیسر شمائلہ خالد، پروفیسر صفیہ ظفر، پروفیسر نصرت حسین سمیت سینئر فیکلٹی ممبرز اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی، کشمالہ طارق نے کہا کہ دوہزار انیس میں اب تک 330جبکہ 2018میں جنسی ہراسانی کے 272واقعات رپورٹ ہوئے تھے، اس سے پہلے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد بہت کم تھی،کشمالہ طارق نے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین کے ساتھ کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، اور اس کے سدباب کا طریقہ واضح کیا گیاہے،اس مقصد کے لئے حکومت نے “FOSPHA”فاسپا کا ادارہ قائم کیا ہے، جس کا مقصد ایسے کیسز کو مدد فراہم کرنا ہے، انہوں نے طالبات سے کہا کہ اگر وائیوا، تھیوری یا امتحان کے درمیان کسی بھی نوعیت کا واقع پیش آئے تو اس کو فوری رپورٹ کیا جائے، اس مقصد کے لیے ہر یونیورسٹی میں ایک کمیٹی بھی ہونی چاہیے، جو ایسے واقعات کا سدباب کر ے، ہراسمنٹ کیمیٹی ڈاؤ یونیورسٹی میں قائم ہے،اگر کام کی جگہ شکایت کرنے کے باوجود تشنگی دورنہ ہوتو وہ ہمارے پاس شکایت درج کرائے، ان شکایات کو آن لائن بھی درج کرایا جاسکتا ہے اور ہم تین منٹ کے دوران کال کے ذریعے ان سے رابطہ کرکے، قانونی مدد فراہم کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ قانون موجود ہیں ِ، مگر لوگوں کو اس کا علم نہیں، انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسانی سے متاثرہ لوگ قانون کا دروازہ کھٹکھانے سے ڈرتے ہیں، جنسی ہرانسگی کا سامنا اسکول، کالج، یونیورسٹی، اسپتال، آفس یاکسی بھی کام کی جگہ رونما ہو سکتاہے،
انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس مختلف یونیورسٹی کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں اکثرکیسز ٹیچر اور طلبہ کے مابین تھے، جن پر ہم نے ان ٹیچر کو معطل یا نوکری سے برطرف کرانے کی سزائیں دلوائیں، انہوں نے کہا کہ مگر شکایت کا مرکز پہلے ادارے کی کمیٹی ہی ہوگی، اگر اس پر اعتماد نہ ہو یا کیس میں سپورٹ نہ کرے توہمارے دروازے ہر ایسے شخص کے لیے کھلے ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ ہم اس مقصد کے لیے خاتون نے خاتون، مرد سے خاتون، مرد سے مرد، خاتون سے مرد اور مرد سے مرد کی شکایت کے کیسز وصول اور ان پر کام کرتے ہیں، انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ جہا ں ہم برابری کی حقوق کی بات کرتے ہیں، ہمیں کام بھی برابری کی بنیاد پر ہی کرنا ہوگا، انہوں نے مزید بتایا کہ ایسے کیسز میں ہم نے ڈاکٹروں کے لائسنز، ٹیچروں کی ملازمت اور پولیس آفیسر وں کی ملازمت سے بے دخل کرایا، اسلیے طلبہ بھی نہ ڈریں وہ کسی بھی ہونے والی زیادتی سے نمٹنے کے لیے آگے آئیں، انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کوئی میسجز، کال، ای میل، یا کچھ کہے تو کیس داخل کیا جاسکتا ہے، انہو ں نے بتایا کہ ہمارا ادارہ قانونی مدد فراہم کرتا ہے۔
اس موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی کی ایکٹنگ وائس چانسلر پروفیسر زرناز واحدنے کہا کہ آگہی سیشن ہمارے طلبہ کے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہوگا، تاہم انہوں نے بتایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں جنسی ہراسگی کی شکایت پر عدم برداشت کی پالیسی ہے، ایسا کوئی کیس رپورٹ ہونے پر ہم فوراََ اس پر ایکشن لینگے، انہوں نے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں ہراسمنٹ کمیٹی کی چیئر پرسن کی حیثیت سے وہ کہ سکتی ہیں کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں کبھی ایسا واقع پیش نہیں آیا، ہمارے استاذہ کا معاشرتی اخلاقیات کا بخوبی اندازہ ہے، وہ یونیورسٹی کو اپنا دوسرا گھر مانتے ہیں، انہوں نے طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ پھر بھی اگر کوئی شکایت ہوتو، اس کے سدِ باب کے لیے فوری طور پر ہم سے رابطہ کریں، اس موقع پر ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر امجد سراج میمن نے کہاکہ یہ بات خوش آئند ہے کہ FOSPAHکا آفس اسلام آباد کے بعد پشاور اور کراچی میں بھی کھل گیا ہے، انہوں نے بتایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے پوری یونیورسٹی میں نصب کیے ہیں، اور اپنے طلبہ اور بچوں کی ہر موومنٹ پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اس نظام کے ہوتے ہوئے بھی ہم نے ہراسمنٹ کمیٹی تشکیل دی ہوئی ہے، جو یونیورسٹی میں اپنا فعل کردار ادا کر رہی ہے، ہم کسی بھی شکایت کا ازالہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوتے ہیں ِ، اس مقصد کے لیے ہر آفس میں خطوط بھی بھیجے گئے ہیں، تاکہ ہر کام کرنے والے کو قوانین سے آگہی ہو، انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا کوئی کیس کبھی رپورٹ ہوا تو یونیورسٹی میں اس پر زیرو ٹالیرنس ہے، اسے فوری یونیورسٹی سے برطرف کردیا جائیگا۔اس موقع پر FOSPAHسے ڈاکٹر فریال شیخ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں، کام کرنے والے عزت و احترام کے ساتھ کام کریں، قوانین کو سمجھیں اور کسی بھی پریشانی کی صورت میں ہم سے رابطہ کریں، ہم ہراسمنٹ کے مسائل کے حل کے لیے اپنی ہر مدد فراہم کرینگے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here