صدیوں پہلے آنے والے عالمگیر وبائی مرض اسپینش فلو کے بعد کووڈ نائنٹین نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی

0
851

صدیوں پہلے آنے والے عالمگیر وبائی مرض اسپینش فلو کے بعد کووڈ نائنٹین نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا ہے کہ صدیوں پہلے آنے والے عالمگیر وبائی مرض اسپینش فلو کے بعد کووڈ نائنٹین نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، عالمِ انسانیت صدیوں بعد ایک مشکل دور سے گذر رہا ہے، جس نے نہ صرف ہماری تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، بلکہ پہلے سے مختلف پیتھالوجی کے حامل نامعلوم وجود سے نبرد آزما ہیں، جو پہلے وائرل انفیکشن کے نام سے جانا جاتاتھا، یہ باتیں انہو ں نے ڈاؤ میڈیکل کالج کیشعبہ اناٹومی کے سامنے کھلی فضا میں منعقدہ میڈیکل کالج کی 75سالہ (ڈائمنڈ جوبلی)تقریب سے مختصر خطاب میں کہیں۔ تقریب میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل، پروفیسر ایم اے عالمانی، پروفیسر صلاح الدین افسر،پروفیسر ٹیپو سلطان، پروفیسر شیرشاہ، پروفیسر غفار بلو، پروفیسر اقبال میمن، پروفیسر ذکی الدین اون والا، ڈاکٹر ظفر، پروفیسر شائستہ آفندی، پروفیسر ڈی ایس اکرم، پروفیسر خالد محمود، ڈاکٹر خالد پراچہ، ڈاکٹر رفعت،!کالج کے موجود ہ پرنسپل پروفیسر امجد سراج میمن جبکہ ڈاؤ یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر پروفیسر زرناز واحد، پروفیسر کرتارڈوانی رجسٹرار ڈاکٹر اشعر آفاق،پروفیسر زبیر، پروفیسر ساجدہ قریشی، پروفیسر سید مکر م علی، پروفیسر صبا سہیل، پروفیسر نائیلہ، پروفیسر شجاع فرخ سمیست سینئر فیکلٹی میمبرز اور دیگر عملہ شریک تھا۔پروفیسر محمد سعید قریشی نے اس موقع پر کہا کہ دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں پیدا ہونے والے صحت کے حالیہ بحران میں ڈاؤ، ان چند اداروں میں سے ایک ہے، جس نے فرنٹ لائن ورکر کاکردار اداکیا، انہو ں نے اس کارکردگی پر ڈاؤ کی فیکلٹی اور اسٹاف کی تعریف کی اور کہا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ ہم ڈاؤ میڈیکل کالج کی ڈائمنڈ جوبلی دیکھ رہے ہیں، ڈاؤ میڈیکل کالج اب ایک عالمی پہچان رکھتاہے، انہو ں نے کہا کہ ڈاؤ اب صرف ایک میڈیکل کالج نہیں بلکہ ایک نمایاں ہیلتھ کیئر سسٹم بن چکا ہے، اب اس سے ملحقہ اداروں میں آٹھ ہزار طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔ اس موقع پر پروفیسر ایم اے عالمانی نے کہا کہ ڈاؤ میڈیکل کالج اب ایک عظیم ادارے میں تبدیل ہو چکا ہے، پروفیسر غفار بلو نے اپنی یادیں دہراتے ہوئے کہا کہ 1954میں ڈاؤ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا یہ ایک بچہ تھا، آج یہ دادا،بلکہ پر دادا بن چکا ہے۔ ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے کہا کہ آج اتنے سارے سینئر ز کا جمع ہونا ایک خواب لگتاہے، ایک سہانا خواب، ہم نے صحت کے شعبے میں عوام کی خدمت کی اور کرتے رہیں گے، پروفیسر اقبال میمن نے کہا کہ پرانے لوگوں کی یادیں سہانی ہیں، ریسرچ کے شعبے میں ڈاؤ کا نام بن چکا ہے، پروفیسر ذکی الدین اون والا نے کہا کہ اس وقت تو اساتذہ کی کہکشاں ہے، ڈی ایم سی کے طلبا نے پی ڈبلیو اے کے ذریعے انسانیت کی خدمت کی اعلی مثا ل قائم کی۔
قبل ازیں سادہ مگرپروقار تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن ِ پاک سے ہوا، جس کے بعد تقریب کے شرکا قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔کووڈایس او پیز پر عمل کرنے کی وجہ سے بہت محدود تعداد میں سینئر ز کو مدعو کیا گیا تھا، تقریب کے اختتام پر ڈائمنڈ جوبلی کی مناسبت سے پچھتر کبوتر فضا میں آ زاد کییگئے ڈاؤ کے لوگوسے مزین غباروں کے 75گچھے چھوڑے گئے۔بعدازاں شرکا پر پتیاں نچھاور کی گئیں اور مٹھائی اور تحائف بھی تقسیم کیے گئے۔ جبکہ ڈائمنڈ جوبلی کے لوگو سے مزین کیک بھی کاٹا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here