بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کے لئے جامعات کے پلیٹ فارم بہترین ذریعہ ہیں۔ڈاکٹر زبیدہ قاضی

0
873

بریسٹ کینسر میں مبتلافیملی ممبر کو نظر انداز کرنے کے بجائے بحیثیت فیملی ممبر ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے۔ڈاکٹر خالد عراقی
بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض کو سنجیدہ لیتے ہوئے اس پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مرض میں تیزی سے اضافہ کی وجوہات کیا ہیں اور اس کا سد باب کیسے ممکن ہوگا۔ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری
کراچی:( اسٹاف رپورٹر) پنک پاکستان ٹرسٹ کی بانی و صدر ڈاکٹر زبیدہ قاضی نے کہا کہ ہمارا مقصد بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض کے سد باب کے لئے آگاہی کو فروغ دینا ہے اور جامعات کے پلیٹ فارم بالخصوص جامعہ کراچی جیسے پلیٹ فارم جہاں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے طلباوطالبات زیر تعلیم ہیں اس مرض سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کے لئے اس اچھا کوئی اور پلیٹ فارم نہیں ہوسکتا۔ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً چالیس ہزار اموات بریسٹ کینسر کی وجہ سے ہوتی ہیں اوردنیا میں ہر8میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکارہوسکتی ہے جس میں ایشائی ممالک بشمول پاکستان شامل ہے۔ چھاتی کے سرطان کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اور علامات کی آگاہی نہ صرف اس بیماری سے بچنے بلکہ ابتدائی تشخیص کے لیے حوصلہ افزائی کرنے کا ایک مو ثر طریقہ ہے۔غربت، ناخواندگی اور جہالت جیسے عناصر بیماری کی تشخیص اور علاج معالجے میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ شہر میں موجود خواتین بھی ٹیسٹ نہیں کرواتی،چھاتی کے سرطان میں مبتلا خواتین کی بڑھتی ہوئی شرح میں آگاہی کے ذریعے کمی لائی جاسکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی یونیورسٹی کلینک میں جامعہ کراچی اور پنک پاکستان ٹرسٹ کے اشتراک سے ”چھاتی کے سرطان کی بروقت جانچ اور تشخیص کے حوالے سے فری میڈیل کیمپ برائے خواتین“ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مذکورہ کیمپ میں 10 سے زائد نامور ڈاکٹر ز نے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین اور طالبات کو بریسٹ کینسر کے حوالے سے جانچا اور انہیں جانچ کے طریقوں،علامات سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ مذکورہ مرض کی بروقت تشخیص سے ہی اس کا علاج ممکن ہے،ہمارے یہاں المیہ یہ ہے کہ اگر کوئی خاتون اس مرض کی علامات سے متعلق بات کرتی ہے تواس کو نظر انداز کیا جاتاہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بحیثیت فیملی ممبرہم انہیں نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس مرض سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کے لئے جامعات ہی بہترین پلیٹ فارم ہیں کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں موجود طلباوطالبات ہر طبقے میں آگاہی کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے پنک پاکستان ٹرسٹ کی صدر ڈاکٹر زبیدہ قاضی،ان کی ٹیم اور مشیر امور طلبہ ڈاکٹر سید عاصم علی اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کا سراہتے ہوئے کہا کہ مذکورہ کیمپ کا انعقاد ان کی کوششوں کی بدولت ممکن ہواہے۔اس طرح کے کیمپس اور آگاہی سیمینار ز کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان کے نامور سائنسدان پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے کہا کہ ہمیں اس مرض کو سنجیدہ لیتے ہوئے اس پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مرض میں تیزی سے اضافہ کی وجوہات کیا ہیں اوراس کا سدباب کیسے ممکن ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید ادویات کے ساتھ ساتھ ہمیں معاشرے میں اس مرض کے خوف کو ختم کرنے کے لئے وقتاً فوقتاً اس طرح کے آگاہی کیمپس اور سیمینارز،ورکشاپس کے انعقاد کو یقینی بنانا ہوگا۔پنک پاکستان اور جامعہ کراچی کی طرف سے مذکورہ کیمپ کا قیام لائق تحسین ہے۔
کراچی یونیورسٹی کی میڈیکل آفیسر ڈاکٹر وفاالطاف نے کہا کہ اس مرض سے بچاؤ کا ذریعہ بروقت تشخیص اور علاج ہے۔علامات کی صورت میں بغیر کسی تاخیر کے فی الفور معالج سے رجوع کرنے سے ہی اس مرض پر قابوں پایاجاسکتا ہے۔اس کو چھپانے کے بجائے اس کے فی الفور علاج کو یقینی بنایاجائے۔
پنک پاکستان ٹرسٹ کی ڈاکٹر فاریہ عثمان نے کہا کہ پاکستان میں ہرسال تقریباً 34 ہزار نئے کیسز کی تشخیص ہوتی ہے،جس میں سے تقریباً 16 ہزار اموات ہوتی ہیں۔بروقت کی تشخیص کی صورت میں اس مرض میں مبتلاافراد کے صحتیاب ہونے کے امکانا ت بہت حدتک بڑھ جاتے ہیں۔
جناح اسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کوثر عباس نے کہا کہ مذکورہ کیمپ کے انعقاد کا مقصد بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا ہے۔یہ مرض پوری دنیا اور بالخصوص پاکستان میں تیزی سے بڑھ رہاہے جس کی بڑی وجہ آگاہی کا نہ ہوناہے اور اس پر بات کرنے کو معیوب سمجھنا ہے۔
لیاقت نیشنل اسپتال کی ڈاکٹر صدف ناصر نے کہا کہ بریسٹ کینسر کومعیوب سمجھنے کے بجائے اس کو ایک مرض ہی سمجھا جائے کیونکہ یہ ایک مرض ہی ہے۔علامات ہونے کے باوجود بھی خواتین اس پر بات کرنے سے کتراتی ہیں اور بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے موت کا شکارہوجاتی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here