دنیا بھر میں ہر سال 1.3 بلین ٹن کھانا ضائع ہوجاتاہے جس کی مالیت تقریباً ایک ٹریلین امریکی ڈالر زہے جبکہ دنیا کی موجودہ آبادی کے لئے 3.9 بلین ٹن خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ

0
71

پالیسی میکرز،سرکاری باڈیز،فوڈپروڈیوسرز ا،مینوفیکچرز اور فوڈز سیکیورٹی اینڈ سیفٹی کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے اور اکیڈیمیاءاگر باہمی اشتراک سے اس مسئلے پر کام کریں تو پاکستان سے غذائیت کی کمی جیسے مسائل پر قابوپایاجاسکتاہے۔ڈاکٹر خالد عراقی
پاکستان میں فاٹا کے 67.7 فیصد افراد عدم غذائی تحفظ کا شکا رہیں جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 61.02 فیصدہے اور خیبر پختونخواہ میں 56.02 اور گلگت بلتستان میں 52.04 ،جموں کشمیر میں 40.09 ،سندھ میں 44.03 ،پنجاب میں 38.05 اور اسلام آبادمیں 23.06 فیصدہے۔ڈاکٹر غفران
پرویژنل پروگرام مینجر فوڈ فورٹیفیکشن پروگرام،نیوٹریشن انٹرنیشنل پاکستان کے ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر سال 1.3 بلین ٹن کھانا ضائع ہوجاتاہے جس کی مالیت تقریباً ایک ٹریلین امریکی ڈالر زہے۔دنیا کی موجودہ آبادی کے لئے 3.9 بلین ٹن خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ضائع ہونے والے کھانوں کو ایک چوتھائی حصہ بھی مناسب انداز سے استعمال کیاجائے تو 795 ملین غذائیت کے شکار افراد کو بھوک سے بچایاجاسکتاہے۔دنیا بھر میں اتنی خوراک موجود ہے کہ سات بلین افراد باآسانی حوراک حاصل کرسکتے ہیں،تاہم خوراک کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ایک بلین افراد بھوک کا شکاررہتے ہیں جبکہ دوبلین افراد ہیڈن ہنگر سے متاثر ہوتے ہیں،اگر اس غذائیت کی کمی کے مسئلے پر قابو پالیا جائے تو 3.1 ملین بچوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں جوسالانہ خوراک کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام عالمی یوم غذا کے موقع پر شعبہ ہذامیں منعقدہ سیمینار اور فوڈ ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ بلاشبہ بھوک اور غذائیت کی کمی لمحہ فکریہ ہے،ہم مسئلے کاحل جاننے کے باوجود اب تک اس مسئلے پرقابو نہیں پاسکے ہیں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پالیسی میکرز،سرکاری باڈیز،فوڈپروڈیوسرز ا،مینوفیکچرز اور فوڈز سیکیورٹی اینڈ سیفٹی کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے اور اکیڈیمیاءاگر باہمی اشتراک سے اس مسئلے پر کام کریں تو پاکستان سے غذائیت کی کمی جیسے مسائل پر قابوپایاجاسکتاہے۔
چیئر پرسن شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ ناز نے کہا کہ بنی نوع انسان نے چاند پر قدم رکھ دیا ،گہرے سے گہرے سمندر کو کھوج ڈالا ،ایٹم جیسے زرے کو الگ کردکھایا مگر بدقسمتی سے آج بھی بھوک جیسے سنگین مسئلے پر قابوں نہیں پایا جاسکا۔آج بھی ہم زیروہنگر کی بات کرتے ہیں اور 2030 ءتک بھوک کے خاتمے کے خواہشمند ہیں تاہم اس سلسلے میں ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اقداما ت کرنے ہوں گے ،بصورت دیگر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈسائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم غفران سعید نے کہا کہ دنیا بھر میں بھوک کا مسئلہ ایک بارپھر سراُٹھانے لگا ہے۔تنازعات ،موسمی تبدیلی کے باعث ہونے والی شدید موسمی تبدیلیاںاورمعیشت کی زبوں حالی کی وجہ سے بھو ک اور غذائیت کا مسئلہ بڑھتا جارہاہے۔پاکستان میں فاٹا کے 67.7 فیصد افراد عدم غذائی تحفظ کا شکا رہیں جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 61.02 فیصدہے اور خیبر پختونخواہ میں 56.02 اور گلگت بلتستان میں 52.04 ،جموں کشمیر میں 40.09 ،سندھ میں 44.03 ،پنجاب میں 38.05 اور اسلام آبادمیں 23.06 فیصدہے۔ایکسپومیں 45 سے زائد کمپنیوں نے اپنے اسٹالزلگائے اور ان اسٹالز پر مختلف اقسام کے کھانے پینے کی اشیاءموجود تھیں۔ایکسپو میں مختلف ریسٹورٹنس کے مالکان اور نمائند گان ، انڈسٹریز اور محکمہ خوراک سندھ کے اعلی افسران اور اساتذہ کی کثیر تعدادکے علاوہ ہزاروں طلباوطالبات نے شرکت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here