قبرستانوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے قائم کی گئی کے ایم سی افسران اور فلاحی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل 8 رکنی سینٹرل کمیٹی نے کام شروع کردیا ہے،ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد

0
541

قبرستانوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے قائم کی گئی کے ایم سی افسران اور فلاحی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل 8 رکنی سینٹرل کمیٹی نے کام شروع کردیا ہے،ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد کی ہدایت پر قبرستانوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے قائم کی گئی کے ایم سی افسران اور فلاحی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل 8 رکنی سینٹرل کمیٹی نے کام شروع کردیا ہے، سینٹرل کمیٹی کے پہلے اجلاس میں متعدد اقدامات کے فیصلے کئے گئے جن کے تحت کراچی کے قبرستانوں میں کام کرنے والے گورکنوں اور دیگر عملے کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے گی اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے انہیں باقاعدہ شناختی کارڈ جاری کئے جائیں گے، 18 سال سے کم عمر افراد قبرستان میں کسی بھی قسم کا کام انجام دینے کے اہل نہیں ہوں گے، نارتھ کراچی اور لنک روڈ نیشنل ہائی وے پر زیر تعمیر دو نئے ماڈل قبرستانوں میں فلاحی اداروں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اور جے ڈی سی کے تعاون سے قبر کی تیاری اور تدفین بلامعاوضہ کی جائے گی اور کسی قسم کی کوئی رقم وصول نہیں کی جائے گی، ان دونوں قبرستانوں کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا، اجلاس میں کنوینئر کمیٹی سینئر ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ علی حسن ساجد، ڈائریکٹر قبرستان اقبال پرویز، الخدمت فاؤنڈیشن جماعت اسلامی کے کوآرڈینیٹر منظر عالم، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے منور یونس، اے این آئی کے خالد نور اور دیگر فلاحی تنظیموں سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی، اس موقع پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے قبرستانوں میں قبروں کے نرخ اور تدفین کے اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ قبرستانوں میں تدفین کے لئے سرکاری طور پر نرخ 9 ہزار روپے مقرر کئے گئے ہیں جس پر سختی سے عملدرآمدکرایا جائے گا اور اس مقصد کے تحت قبرستان میں بورڈ آویزاں کرکے عوام الناس کو مطلع کیا جائے گا، اس حوالے سے گورکن کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ شہریوں سے قبر کی تیاری اور تدفین کے لئے زائد فیس وصول کرنے سے اجتناب کرے، بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی، سینٹرل کمیٹی نے کم عمر بچوں کے والدین سے بھی درخواست کی کہ وہ 18 سال سے کم عمر بچوں کو قبرستانوں میں کام کے لئے بھیجنے سے گریز کریں، اجلاس میں طے کیا گیا کہ قبرستانوں میں صفائی کا انتظام بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ذمہ داری ہوگی جبکہ بیرونی حصے کی صفائی ستھرائی کا انتظام متعلقہ ضلعی میونسپل کارپوریشن کرے گی، مرحلہ وار تمام قبرستانوں میں صفائی کے کام کرائے جائیں گے تاکہ قبرستانوں میں آنے والوں کو سہولت ملے، اجلاس کے دوران کنوینئر کمیٹی علی حسن ساجد نے کہا کہ سینٹرل کمیٹی کے قیام کا مقصد قبرستانوں میں تدفین، انفراسٹرکچر کی بہتری، اسٹریٹ لائٹس کی فراہمی، راہداریوں کی درستگی اور شجر کاری، کفن اور مردوں کے اعضاء چرانے کی روک تھام، تدفین کے سرٹیفکیٹ کا اجراء سمیت مختلف معاملات کی نگرانی کرنا ہے تاکہ یہ تمام عمل شفاف اور بہتر طریقے سے ہوسکے، سینٹرل کمیٹی قبرستانوں میں قبر کی فراہمی سے لے کر مردوں کی تدفین تک تمام معاملات کی نگرانی کرے گی اور اس دوران غمزدہ خاندانوں کو مکمل تعاون فراہم کرے گی،انہوں نے فلاحی تنظیموں کے نمائندوں سے اس حوالے سے اپنی تجاویز دینے کے لئے کہا جس پر آئندہ اجلاس میں غور کرکے عملدرآمد کا فیصلہ کیا جائے گا اور مزید اقدامات کے ذریعے قبرستانوں کی صورتحال میں بہتری لائی جائے گی۔ اجلاس کے شرکاء نے سینٹرل کمیٹی کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ ان کے نتیجے میں قبرستانوں میں اپنے عزیز و اقارب کی تدفین کے لئے پریشان حال لوگوں کو خاطر خواہ سہولت ملے گی، انہوں نے کہا کہ قبرستانوں میں اس وقت وصول کی جا رہی فیس 2019ء کے ذیلی قواعد کے مطابق ہے جبکہ مختلف قبرستانوں میں الگ نرخ وصول کئے جا رہے ہیں لہٰذا اس پر غور کیا جانا چاہئے، کنوینئر کمیٹی نے اس پر کہا کہ مزید غور و فکر کرکے اس حوالے سے صورتحال میں بہتری لائی جاسکتی ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ سینٹرل کمیٹی اپنے مینڈیٹ کے مطابق تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے اور شہریوں کے بہتر مفاد میں اقدامات کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here