تریسٹھ فیصد اخراجات جامعہ کراچی اپنے ذرائع آمدن سے پورے کرتی ہے،۔ڈاکٹر خالد عراقی

0
829

تریسٹھ فیصد اخراجات جامعہ کراچی اپنے ذرائع آمدن سے پورے کرتی ہے لیکن کروناوائرس کی درپیش صورتحال کے پیش نظر امسال جامعہ کراچی کی فیس کلیکشن میں 600 ملین کی کمی آئی ہے جس کی وجہ سے جامعہ نامساعد مالی حالات کا شکارہے۔ڈاکٹر خالد عراقی
کروناوائر س کی درپیش صورتحال کے تناظر میں یہ سال ایک مشکل ترین سال رہاہے لیکن اس کے باوجود بلاتفریق تمام اساتذہ کرام کی خدمت کی ہے جس پر پوری انجمن اساتذہ قابل مبارکباد ہیں۔ ڈاکٹر انیلا امبر ملک
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ نے کہا کہ 63 فیصد اخراجات جامعہ کراچی اپنے ذرائع آمدن سے پورے کرتی ہے لیکن کروناوائرس کی درپیش صورتحال کے پیش نظر امسال جامعہ کراچی کی فیس کلیکشن میں 600 ملین کی کمی آئی ہے جس کی وجہ سے جامعہ نامساعد مالی حالات کا شکارہے،تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود جامعہ کراچی کے اساتذہ محدود وسائل کے ساتھ گراں قدرخدمات انجام دے رہے ہیں جولائق تحسین ہیں۔انتظامیہ کی ہرممکن کوشش ہے کہ تنخواہوں،پینشنز کی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ میڈیکل کی سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے۔جامعات کی ترقی کے لیے ریسرچ کلچر کا فروغ ناگزیر ہوگیاہے،ہمارے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کئے بغیرمطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس پس منظر میں تحقیقی رحجانات کو فروغ دینا عصری تقاضہ ہے،تحقیق علم کی بنیاد ہے، کوئی بھی قوم تحقیق کے میدان میں ترقی کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی اور تحقیق کے لئے وسائل کی فراہمی ضروری کیونکہ وسائل کے بغیر تحقیق ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام اسٹاف کلب جامعہ کراچی کے سبزہ زارپر منعقدہ سالانہ عشائیے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزیدکہاکہ فیصلے ہمیشہ برابری،شفافیت اور انصاف کی بنیاد پر ہونے چاہیئے اور مجھے خوشی ہے کہ جامعہ کراچی اس پر عمل پیرا ہے۔روئسائے کلیہ جات اور صدورشعبہ جات کا تحقیقی اور تدریسی سرگرمیوں کے فروغ میں کلیدی کردار ہوتاہے۔اگر ہم سب اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے فرائض منصبی ایمانداری سے سرانجام دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ جامعہ کراچی کا شماردنیا کی بہترین جامعات میں نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ جامعات کا بنیاد ی کردار اکیڈمک ڈیولپمنٹ ہے جس کے بغیر معاشرے میں امن کاقیام ممکن نہیں اور فنڈز میں کمی کی وجہ سے اکیڈمک ڈیولپمنٹ شدید متاثر ہوتی ہے۔ ہمیں معاشرے میں لسانیت کے بجائے ہم آہنگی کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ہم تضادات کو قبول نہیں کرتے،اگر ہم تضادات کو قبول کریں تو نظر آئے گا کہ جو معاشرے تضادات کو قبول کرتے ہیں وہ ترقی کرتے ہیں۔میری تمام اساتذہ سے درخواست ہے کہ وہ برداشت کے کلچر کوفروغ دیں،اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کی رائے سنیں،اس کا احترام کریں۔ہمیں عہدوں کے بجائے سب کو برابرای کی بناید پر عزت دینی چاہیئے۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے سلیکشن بورڈز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے سے جو سلیکشن بورڈز تعطل کا شکارتھے،ان کے تواتر سے انعقاد کی وجہ سے ہمیں اس میں کافی حد تک کامیابی ملی اور باقی ماندہ سلیکشن بورڈز کے انعقاد کو بھی جلد ازجلد یقینی بنایا جائے گا۔ میری پوری کوشش ہے کہ اساتذہ اور ملازمین کو بہترسے بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کو سالانہ عشائیے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔
اس موقع پر صدر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر انیلا مبر ملک نے انجمن اساتذہ کی سالانہ کاکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کروناوائر س کی درپیش صورتحال کے تناظر میں یہ سال ایک مشکل ترین سال رہاہے لیکن اس کے باوجود بلاتفریق تمام اساتذہ کرام کی خدمت کی ہے جس پر پوری انجمن اساتذہ قابل مبارکباد ہیں۔
کووڈ19 کی وجہ سے درپیش غیر معمولی حالات میں ہم نے کئی کامیابیاں حاصل کیں جس میں سے کچھ میں آپ کے گوش گزار کرانا چاہتی ہوں،اساتذہ کے دیرینہ مطالبے پر شام کی کلاسز کے مشاہروں میں اضافہ،مختلف شعبہ جات کے سلیکشن بورڈز کاانعقاد،بائیس اساتذہ کے ریٹائرمنٹ سے قبل ہارڈ شپ کیسز کی بنیاد پر اپگریڈیشن،ریفربیک کی درخواستوں کی سنڈیکیٹ سے منظوری اور ان کے سلیکشن بورڈ ز کے لئے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنانا۔
سندھ حکومت کی جانب سے گذشتہ سال کی گرانٹ کی آخری قسط اور موجودہ سال کی گرانٹ کے تاحال نہ ملنے کے باوجود مکمل پی ایچ ڈی الاؤنس کی بلاتعطل تنخواہوں کے ساتھ ادائیگی کو ممکن بنوائے رکھنا،کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لئے لیاقت نیشنل اسپتال کے نرخ کو اسٹینڈرڈ کے طور پر منظور کروانا تاکہ نان پینل ہسپتالوں سے بھی کینسر کا علاج کرانے والوں کو ادائیگی ممکن ہوسکے،ڈاؤیونیورسٹی اسپتال کو جامعہ کراچی کے پینل میں شامل کرانا،کرونا وباء کے تناظر میں جامعہ کراچی کے اساتذہ اور ملازمین کے لئے میڈیکل پالیسی کی ہنگامی بنیادوں پر منظوری اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔
علاوہ ازیں فپواساپاکستان کے ساتھ وفاقی ایچ ای سی کے سامنے احتجاج میں شرکت اور ان کاروائیوں کے نتیجے میں وفاقی حکومت کی جانب سے یونیورسٹیز کے لئے اضافی گرانٹ کی ایچ ای سی کو ادائیگی کا اعلان، ایچ ای سی جرنل پورٹل میں خامیوں کی بروقت نشاندہی کرکے لوکل جرنلز کا خارج کرنے کی کوشش کو رکوانااور دیگر شامل ہیں اور مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
اس موقع پر جن اساتذہ نے 2020 ء میں پی ایچ ڈی مکمل کرلیا، سبکدوش ہونے والے اساتذہ اورنووارد اساتذہ کوشیلڈز بھی پیش کی گئیں۔تقریب میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر معیز خان نے انجام دیئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here