وزیر تعلیم و محنت سعید غنی گلشن اقبال میں عمارت میں دھماکہ کے بعد جاری ریسکیو کام کا جائزہ لے رہے ہیں۔

0
298

وزیر تعلیم و محنت سعید غنی گلشن اقبال میں عمارت میں دھماکہ کے بعد جاری ریسکیو کام کا جائزہ لے رہے ہیں۔
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ گلشن اقبال میں مسکن چورنگی پر عمارت میں ہونے والے دھماکہ کی تحقیقات کی جارہی ہے اور جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے کوئی رپورٹ نہیں دے دیتے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ دہشتگردی ہے یا کوئی اور وجہ سے ہوا ہے۔ سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کی سندھ حکومت مکمل مدد کرے گی۔ ہماری اولین ترجیع عمارت میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنا ہے اور اس کے بعد ہم متاثرہ افراد کی طبی مدد فراہم کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کی صبح مسکن چورنگی، گلشن اقبال میں عمارت میں دھماکہ کے فوری بعد سانحہ کے مقام پر جاری ریسکیو کے کاموں کا جائزہ لینے کے دوران کیا۔ اس موقع پر کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر ایسٹ اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود ہیں۔سعید غنی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے فوری طور پر ریلیف کے کاموں کو تیز کرنے کی ہدایات دی ہیں اور ہماری پہلی ترجیع وہاں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنا اور جو زخمی ہیں ان کو فوری امداد فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ کے اسباب اور دیگر کے حوالے سے ابھی معلومات لی جارہی ہیں ابتدائی طور پر 19 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ عمارت کے ملبہ میں پھنسے تمام افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ متاثرین اور جو یہاں سے بے گھر ہوئے ہیں ان کو حکومت ریلیف فراہم کررہی ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ عمارت اب رہائش کے قابل نہیں رہی ہے اس لئے اس کو توڑا جائے گا۔ تحقیقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس حوالے سے تحقیقاتی ادارے شواہد اکٹھا کررہے ہیں اور اس کے بعد ہی اس سانحہ کی اصل وجہ کا تعین کیا جاسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here