لاک ڈاؤن شہرقائد میں ظلم کے مختلف انداز

0
1722

 

تحریر:سیدہ عبیرہ حسین
متعدد بار گھر کی اشیا ختم اور چونکہ علاقے کی چھوٹی بڑی دکانیں سب بند تھیں علاقے کے تمام بینک بند سوائے میڈیکل اسٹور دودھ سبزی اور گوشت کے نہ ایزی لوڈ والے نہ درزی نہ برتنوں نہ ہی کپڑوں الغرض یہ کہ نہ الیکٹریشن نہ پلمبر نہ کوئی ہارڈ ویئر شاپ یہ وہ دکاندار ہیں جن کا کاروبار بہت محدود ہے پر وہ بھی مکمل بند ہے اب آجائیں ملیئنرز کی طرف بڑے بڑے سپر اسٹورز جن کی ملک بھر میں برانچز ہیں جہاں دنیا کی ہر چیز ملتی ہے آپ ماچس سے لیکر گاڑی تک خرید سکتے ہیں جہاں ہزاروں ورکرز کام کرتے ہیں اور ہزاروں لوگ روز خریداری کرتے نظر آتے ہیں جو نہ گلوز پہنتے ہیں نہ ہی سب کے ماسک لگا ہوا دکھا ئیںاب سوال یہ ہے کہ کیا کرونا کے حفاظتی پلان کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر لاک ڈائو ن کیا گیا تو عوام کو سب سے زیادہ خطرہ کراوڈ پیلس سے یعنی مجمع والی جگہ سے ہے تو یہ بڑے بڑے سپر اسٹور کھول کر عوام کے ساتھ دشمی نبھائی جارہی ہے یا اسٹور مالکان جن کی روز کی انکم کروڑ وں میں ہے اظہار محبت میرا جانا ایک سپر اسٹور ہوا جس کی شہرقائد میں بہت برانچز موجود ہیں وہاں جو منظر میں نے دیکھا لوگ سیکنڑوں کی تعداد میں لائینوں میں لگے پہلے اندر جانے کا انتظار کر رہے تھے اس کے بعد اندر جو کیش کاونٹر تھے اس پر بھی قطاریں بے انتہا رش کوئی ان پالیسی سازوں سے پوچھے بھائی یہ سب کیا ہے کیا یہ کرونا کے پھیلاو کا سبب نہیں بنیں گے دوسرے اگر اتنی نرمی ان کے معاملات میں ہے تو چھوٹے تاجر کا کیا قصور ہے اسے بھی اپنی دکان کھولنے کی اجازت ملنی چاہئے کیوں کہ ان کی بھی حالت بری ہے اگر قانون سازی کی جائے تو اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو کہیں تو لوگ ارب پتی بنے جارہے ہیں کچھ قلاش ہورہے ہیں میری ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ عوام کی سہولت کیلئے انکے اپنے علاقے کی دکانوں کو ہی کھول دیا جائے ایک تو سفر سے نجات دوسرے قریب ترین جگہ سے چیز ملنے سے وائرس لگنے کے مواقع کم دوسرے چھوٹی دکانداروں کو بھی روزگار ملے ورنہ یہ بڑے اسٹور فوری بند کرنے کے آرڈر جاری کئے جائیں تاکہ ملک کو اس وبائی مرض سے محفوظ رکھا جا سکے کیوں کہ حکومتی پالیسیاں عوام کو رلیف دینے کیلئے بنائی جاتی ہیں بڑے بڑے صنعت کاروں اور تاجروں کیلئے نہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here