پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاصدیقی کے شعری مجموعہ ”بے مسافت سفر“ کی تقریب رونمائی

0
383

اُردو بہت پیاری زبان ہے جس کے ایک ایک شعر کے اندر پوری پوری کہانی بیان ہوجاتی ہے،اُردو جتنی شیرینی کسی اور زبان میں نہیں ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان

شاعری بدلتے اور حاضر وقت کے منظر ناموں کا نام ہے۔ڈاکٹر پیرزادہ قاسم

میں نے ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی کوانتہائی خوش اخلاق، خوش گفتار اور نرم مزاج پایاہے۔ڈاکٹرخالد عراقی

قدیم اور کلاسیکی شاعرانہ روایات اور دورحاضر کی جدید فکرمیں ربط کا نام ہے ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاصدیقی۔ڈاکٹر شکیل فاروقی

معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ اُردو بہت پیاری زبان ہے جس کے ایک ایک شعر کے اندر پوری پوری کہانی بیان ہوجاتی ہے،اُردو جتنی شیرینی کسی اور زبان میں نہیں ہے۔پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کا کلام بہت ہی اعلیٰ ہے،مجھے شاعری کرنے کا شوق نہیں لیکن شاعری پڑھنے اور لکھنے کا بہت شوق ہے اور میں بہت پڑھتاہوں اور اپنے کالمز میں اکثر حوالے بھی دیتا رہتاہوں۔یقین کیجئے کہ جب شاعری کا کوئی پروگرام ہورہاہواورا چھی غزلیں سنائی جارہی ہوں تو سارے دکھ درد آدمی کے دماغ سے نکل جاتے ہیں اور وقت اتنی تیزی سے گزرتاہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔یہاں پر لوگوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ مجھے بہت تعجب ہواہے کہ ابھی شاعری سننے اور شریک ہونے کا اتنا ذوق ہے جبکہ دیگر تقریبات میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھنے کو نہیں ملتی۔میں آج جس مقام پر ہوں یہ سب جامعہ کراچی اور ڈی جے سائنس کالج سے تعلیم حاصل کرنے کا نتیجہ ہے،میں نے جامعہ کراچی اور ڈی جے سائنس کالج کے ساتھ اپنا حق اداکردیا ہے اور جامعہ کراچی نے بھی اس حق کا بدلہ مجھے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے کر اداکردیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر وضیاء الدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر پیرزہ قاسم رضاصدیقی کے شعری مجموعہ ”بے مسافت سفر“ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کا اہتمام ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کی سماعت گاہ میں کیا گیا تھا۔
جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضاصدیقی نے کہا کہ ہم اپنے زمانے میں ایک ایسے کڑے دور سے گزررہے ہیں کہ ہماراساراجوٹھراؤ اور غوروفکر ہے وہ سب کا سب پیشہ ورانہ زندگیوں کی طرف ہے۔بہت ہی اعلیٰ قسم کے ڈاکٹر اور انجینئرز ہمارے ادارے تیارکررہے ہیں لیکن یہ جو دل کی طرح زندگی اندردھڑکتی ہے وہ آتی ہے ادب،زبان اور ثقافت سے اور اس کی زندہ مثال بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت میں دیکھ لیجئے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے جو محبت کا رشتہ اور تعلق خاطر میرا ہوااور ہے وہ ہی میرے لئے باعث افتخارہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت تو یہ ہے کہ پاکستان میں سارے دلوں میں دھڑکتے ہیں اور قائد اعظم کے بعد اگر کوئی شخصیت ہوسکتی ہے کہ کُل پاکستان جس کے لئے محبت،عقیدت اور سارے جذبات رکھتا ہے وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہوسکتے ہیں۔شاعری بدلتے اور حاضر وقت کے منظر ناموں کا نام ہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاصدیقی جب شاعری کرتے ہیں یا کچھ بیان کرتے ہیں تو بہترین الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں نہ صرف یہ بلکہ عملی زندگی میں انسانوں کا چناؤ بھی بہترین کرتے ہیں۔جو بات ہم جذبات میں کرتے ہیں وہ بات بھی ڈاکٹر پیرزادہ اتنے دھیمے انداز میں کرتے ہیں کہ بندہ خود شرمندہ ہوجاتاہے۔ میں نے ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی کوانتہائی خوش اخلاق، خوش گفتار اور نرم مزاج پایاہے وہ بات کرتے ہیں تو ایسے دھیمے لہجے میں کہ الفاظ کو بھی درد نہ ہو۔
سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی کا جوانداز ہے وہ بہت ہی شائستگی کے ساتھ تلخ اور معنوی اعتبار سے بھی کوئی بات کرنی ہو تو وہ اشعار میں کہہ دیتے ہیں۔نئے لکھنے والوں کو چاہیئے کہ وہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاصدیقی کی تحریروں سے استفادہ کریں اور اپنی لکھائی میں بہتری اور پختگی لانے کے لئے ان سے رہنمائی حاصل کریں۔
معروف شاعر انور شعور نے کہا کہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی کو ہم نے شاعری کے معاملے نہ کبھی تھکاہوا دیکھا اور نہ ہی کبھی بیزار پایااور ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی شاعری کی لوگ نقلیں کرتے ہیں۔ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صرف مشہور ہی نہیں بلکہ بیحد مقبول بھی ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر عابد اظہر نے کہا کہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم اور ان جیسی شخصیات نے اس معاشرے میں ادب وتہذیب کی محفلوں کو زندہ رکھا ہے۔یہ ہم سب کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ ہمیں ڈاکٹر پیرزادہ کے ساتھ اُٹھنے،بیٹھنے کاان سے ادب وتہذیب سیکھنے کا،گفتگوکرنے کا سلیقہ کہ کس طرح بڑوں سے بات کی جاتی ہے اور کس طرح چھوٹو ں سے برتاجاتاہے یہ سب ہم نے ان سے سیکھا ہے یہ اپنی ذات میں ایک ایساادارہ ہے جو ہمارے لئے باعث فخر ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمن فاروقی نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاصدیقی کی جو خدمات اس معاشرے میں ہیں،انہوں نے شعر وسخن کے حوالے سے جوروایات قائم رکھی ہیں وہ اسی طرح جاری رہیں گی اور ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بناسکتا ہے۔ایک جانب قدیم اور کلاسیکی شاعرانہ روایات اور دوسری جانب دورحاضر کی جدید فکر ان میں ربط کا نام ہے ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاصدیقی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here