محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے گورننگ کونسل کا خصوصی اجلاس

0
338

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے گورننگ کونسل کا خصوصی اجلاس
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاصدیقی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان دوسروں کی مددکرنے میں خوشی محسوس کرنے والے انسان تھے،ان پرلوگوں کے یقین،اعتماد اور محبت کا یہ عالم تھا کہ وہ لوگوں کو جس کام کے لئے کہتے تھے وہ اس پر عمل کرتے تھے۔ اپنی زندگی کا ایک مقصد رکھا تھااور اس مقصد کے حصول میں انہیں کافی مسائل اور دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے اور اپنے مقصدکو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ہمیں دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود میں اعتماد پیداکرنے کی ضرورت ہے جس کی بہترین مثال ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی ہے کہ انہوں نے کم وسائل ہونے کے باوجود اتنے بڑے بڑے کام سرانجام دیئے،انہوں نے بے انتہامشکلات،مسائل اور وسائل کی کمی کے باوجود اپنا ایک مقام بنایا۔مرحوم کا بنیادی مقصد نوجوان نسل میں تدریس وتحقیق کو فروغ دینے کے ساتھ نالج بیسڈ سوسائٹی کا قیام تھا،ان کی تعلیم اور صحت کے شعبہ کے لئے کی جانے والی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے گورننگ کونسل کے منعقدہ خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس کا انعقادانسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام انسٹی ٹیوٹ ہذا کی سماعت گاہ میں کیاگیا تھا۔
سابق شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت کسی ایک طرف نہیں بلکہ وہ پہلو دار شخصیت کے مالک تھے،پاکستان سے محبت ان میں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی۔وہ ہرشعبہ ہائے زندگی میں پاکستان کی ترقی چاہتے تھے اور بالخصوص تعلیم اور صحت ان کی اولین ترجیحات میں شامل تھیں کیونکہ وہ ان شعبوں کی اہمیت سے بخوابی واقف تھے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ادارے بنانے اور اس کو پروان چڑھانے کے فن سے بخوبی واقف تھے۔انہوں نے مشکلات کے باوجو د اپنے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور مقصد کے حصول میں وہ ہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو مقصد کے حصول کے لئے سب کچھ قربان کرنے کو تیارہوتے ہیں۔بے شمار مسائل اور مشکلات کے باوجود میں نے کبھی ان کو مایوس نہیں دیکھا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو اپنی انتھک محنت سے ایک جوہری طاقت بنایا،مرحوم پاکستان کے عظیم ترین سائنسدان تھے، ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے۔وہ ہمیشہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی میں ہونے والی تحقیقی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھتے تھے اور اس میں مزید بہتری کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے رہتے تھے۔
میاں ارشد فاروق نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان انسانیت کا دررکھنے والے انسان تھے،وہ ہمہ وقت دوسروں کی مدد کے لئے کوشاں رہتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔
ریٹائرڈ جنرل معین الدین حید ر نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے گورننگ باڈی کا خصوصی اجلاس لائق تحسین ہے۔انہوں نے پاکستان کو دفاعی طورپر مضبوط کرنے کے لئے جو خدمات سرانجام دیئے ہیں انہیں ہمیشہ یادرکھاجائے گا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صاحبزادی ڈاکٹر دینا خان نے اجلاس سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی سے بہت زیادہ لگاؤ تھا اور وہ وقتاًفوقتاًانسٹی ٹیوٹ ہذا میں ہونے والی تحقیق سرگرمیوں کے حوالے سے خبرلیتے رہتے تھے اور انہیں خوشی ہوتی تھی کہ ان کا قائم کردہ ادارہ تحقیق میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہاہے اور ملک بھر سے محققین سینٹر ہذا میں ہونے والی تحقیقی وتدریسی سرگرمیوں سے استفادہ کررہے ہیں۔
سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک شریف النفس،ایماندار اور ملک سے بے پناہ محبت کرنے والے انسان تھے۔انہوں نے پاکستان کے کونے کونے میں تعلیم اور صحت کے شعبہ کی بہتری کے لئے کام کئے ہیں جس سے بہت سارے لوگ ناواقف ہیں۔اگرچہ وہ ایٹمی سائنسدان کی حیثیت سے شہرت رکھتے تھے لیکن وہ پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لئے بھی وقتاًفوقتاً تجاویز دیتے رہتے تھے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان پر حملے کے دروازے بند کردیئے ہیں،عالمی طاقتیں یہ جانتی ہیں کہ اب پاکستان پر حملہ نہیں کیا جاسکتا،لہذا انہوں نے پاکستان کو معاشی طور پر کمزورکرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔
سطان چاؤلہ نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پاکستان کے لئے خدمات کا احاطہ کرنا ممکن نہیں،وہ صرف ایٹمی سائنسدان ہی نہیں بلکہ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جو مختلف جہتوں میں مختلف انداز اور طریقوں سے قوم،ملک اور انسانیت کی خدمت سرانجام دیتے رہے ہیں۔انڈیا کے پاس پاکستان کے مقابلے میں آٹھ گناہ زیادہ وسائل اور بین الاقوامی سطح پر بہترین روابط تھے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان کافی پیچھے تھا اور بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام کے ساتھ جو کھلواڑ ہواہے یا ہورہاہے اس کی وجہ سے یہ قوم دن بدن تنزلی کا شکارہورہی ہے لیکن اس کے باجود ڈاکٹر عبدالقدیر نے جو کارنامہ سرانجام دیا اس نے پوری دنیا کو ورطہ حیر ت میں ڈال دیا۔
پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یورپی شہریت کے حامل ہونے اور اپنے مستقبل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر پاکستان کے لئے کچھ کرنے کا فیصلہ کیا جو اس کی پاکستان سے بے انتہا محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان انسٹی ٹیوٹ کے محققین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اچھا کام کریں گے تو یہ ان کے لئے صدقہ جاریہ ہوگا،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پاکستان کے دکھوں کا علاج پڑھے لکھے پاکستان کی صورت میں ہی ممکن ہے۔
پروفیسر ڈاکٹررضا شاہ نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت کو ایک انتہائی عاجز اور انتہائی منکسرالمزاج شخص کے طور پر دیکھا،وہ دوسروں کی مددکرنے کے لئے کوشاں رہنے والے انسان تھے۔
ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹرحسن مجتبیٰ نقوی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے زندگی میں بے شمار مشکلات کا سامنا کیا لیکن ہمت نہیں ہاری اورپاکستان کے لئے کچھ کرنے کی جو ان کی استقامت تھیں وہ لائق تحسین اور قابل تقلید ہے۔
ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی(کبجی) کے ڈائریکٹرجنرل پروفیسر ڈاکٹر عابد اظہر نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر ایک علم دوست،ادب دوست اور انسان دوست انسان تھے،وہ بلاامتیاز انسانیت کی خدمت کے لئے کوشاں رہتے تھے۔
ڈاکٹر انورنسیم نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان معاشرے کی فلاح وبہبود کے لئے کوشاں رہتے تھے،وہ لاہور میں اسپتال بناناچاہتے تھے جس کا تعمیراتی کا م شروع ہوچکا تھا،ہم سب کو مل کر اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اپنا اپنا کرداراداکرنا چاہیئے اورڈاکٹر صاحب کے مشن کو آگے بڑھاناچاہیئے۔اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لئے دعابھی کی گئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here