عدالت کی مہربانی سے سندھ پبلک سروس کمیشن فنکشنل نہیں ہے،وزیر اطلاعات و محنت سندھ

0
629

عدالت کی مہربانی سے سندھ پبلک سروس کمیشن فنکشنل نہیں ہے،وزیر اطلاعات و محنت سندھ
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) وزیر اطلاعات و محنت سندھ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اداروں میں افرادی قوت کی کمی ہے، عدالت کی مہربانی سے سندھ پبلک سروس کمیشن فنکشنل نہیں ہے، ججزہماری اپیل سنیں شنوائی نہیں ہورہی۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کی بیماری کے دوران سوائے وزیر اعلی سندھ کے وزیر اعظم یا کسی بھی صوبے کے وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم نے نہیں پوچھا۔ میں سمجھتا ہوں وزیراعظم اور دیگر صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو معافی مانگنی چاہیے اور وزیر اعظم کو ان کی قبر پر کھڑے ہوکر میڈیا کے سامنے معافی مانگیں۔ سندھ حکومت مزدور دوست حکومت ہے۔ محکمہ محنت کے حوالے سے بہت ساری چیزیں ابھی کرنا باقی ہیں ہم نے سب سے زیادہ قوانین بنائے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز نیشنل انسٹی ٹیوٹ لیبر ایڈمنسٹریٹریشن ٹریننگ(NILAT) کے تحت 60 ویں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کورس برائے لیبر ایڈمنسٹریٹریشن اینڈ انڈسٹریل ویلفیئر کی افتتاحی تقریب سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محنت سندھ لئیق احمد، مزدور رہنماء حبیب الدین جنیدی،ناصرمنصور، ڈی جی نیلات انجنئیر غلام سرور اوتیرو، نورالہدی، کورس کوآڈینیٹر سید ایوب علی و دیگرنے بھی خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ میرا نیلات میں آناجانا وزیربننے سے پہلے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہم ادارہ ہے، ماضی میں اس کوصحیح استعمال نہیں کیا گیا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس ادارے کی عمارت 1965میں بنی آج تک وفاق نے اس کی تزئین وآرائش نہیں کی تھی۔اٹھارویں ترمیم کے بعد ہم نے اس کام کوشروع کیاہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس ادارے میں مزدورلیڈران سے لیکرافسران کی تربیت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک نیلات نے 22 ہزار سے زائد کورسز کی مدد سے 1 لاکھ سے زائد ایمپلائیرز، مزدور رہنماؤں اور مزدوروں اور محنت کشوں کو تربیت دی ہے اور 60 ویں پوسٹ گریجویٹ پروگرام کے تحت چھ ماہ کی ٹریننگ کا آغاز کیا جارہا ہے، جس میں 42 لوگ شرکت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ ادارہ کراچی کے ساتھ ساتھ دیگرشہروں میں بھی قائم ہو، لیکن ہمیں یہاں افرادی قوت کی کمی ہے، انہوں نے کہا کہ 16 اور اس سے زائد گریڈ کے افسران کی تعیناتی سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت کرنا قانونی ہے اور اس وقت معزز عدالت کی مہربانی سے سندھ پبلک سروس کمیشن فنکشنل نہیں ہے اور ہم اس کے بغیرہم بھرتی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سلسلے میں معزز عدالیہ میں اپنی درخواست جمع کرائی ہے لیکن ابھی تک اس کیس پر شنرائی نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری معزز عدلیہ اور ججز صاحبان سے استدعا ہے کہ وہ ہماری اپیل کی شنوائی شروع کریں، فیصلہ انہوں نے قانون کے تحت کرنا ہے، اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ سندھ پبلک سروس کمیشن ختم کردیں تو ہم ان کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی عمارت کو ہی ڈھا دیں گے اور تعیناتی کے لئے کوئی اور قانونی راستہ دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال صرف سندھ میں ہی ہے، نہ صرف نیلات بلکہ محکمہ تعلیم و دیگر اداروں میں بھی اسامیوں پر افسران کی کمی سے مشکلات درپیش ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت مزدور دوست حکومت ہے۔ہم نے محکمہ محنت میں 18 ویں ترمیم کے بعد بہت سارے قوانین بنائیں ہیں اور اب بھی بہت ساری چیزیں ابھی کرنا باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کم سے کم اجرت کوبڑھادیا ہے پر عمل نہیں ہورہاہے، کیونکہ اس حوالے سے ایمپلائیرز نے معاملہ عدلیہ میں دیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ 160ڈالر فی کس کم سے کم مزدورکی اجرت ہونی چاہیئے، موجودہ ویج اس سے بھی کم ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت نے بینظیربھٹومزدورکارڈ متعارف کیایہ سب سے پہلے سندھ نے کیا۔ یہ بہت بڑامنصوبہ ہے اس کومکمل ہونے میں دوتین سال لگتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ چھ لاکھ مزدورسیسی میں رجسٹرڈ ہیں لیکن ان کا حقیقی ڈیٹا ہمارے پاس موجود نہیں ہے اور اب نادرا مدد سے نہ صرف ان کا درست ڈیٹا بنا رہے ہیں اور جو مزدور رجسٹرڈ ہیں ان کے کارڈز بھی بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 17 سے 18 ہزار کارڈز بن چکیں ہیں جبکہ اب تک 30 فیصد وہ لوگ سامنے آئے ہیں، جن کا ڈیٹا درست نہیں ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ جلد بازی میں ہم درست ڈیٹا اور حقیقی مزدوروں کی بجائے ایسے لوگوں کو یہ کارڈ جاری کردیں جس سے حقیقی مزدوروں کی حق تلفی ہو۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ منصوبہ 3 فیزز میں پوراکریں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ کاروبارکرنے میں سندھ کے اقدامات سے یورپی یونین میں پاکستان کی رینکنگ بہترہوئی ہے، یہ رینکنگ اسلام آباد سے بہترنہیں ہوئی اور اس سلسلے میں وزیراعظم کادعوہ غلط ہے۔ بعد ازاں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان کو جو وزیراعلی کا خط آیا پڑھ کر لرزہ طاری ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کا بہت خیال رکھنا چاہیے تھا۔ ان سے بیماری کے دوران سوائے وزیر اعلی سندھ کے وزیر اعظم یا دیگر کسی بھی صوبے کے وزیر اعلیٰ نے نہیں پوچھا۔ سعید غنی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں وزیراعظم اور دیگر صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو اس رویہ پر معافی مانگنی چاہیے بلکہ وزیر اعظم کوان کی قبر پر کھڑے ہوکر میڈیا کے سامنے معافی مانگنی چاہیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان نے خود کہا تھا کہ ان کی آزادی میں آصف زرداری اور رحمان ملک کا کردار تھا۔ جبکہ بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی سے ان کا ایک تعلق تھا۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بینظیر مزدور کارڈ جیسا پروگرام پاکستان تو کیا شاید دنیا کے کئی ممالک میں بھی نہیں ہوگا۔ یہ بہت بڑا پروجیکٹ ہے۔ گندم کی قیمتوں کے حوالے سے اپوزیشن پی ٹی آئی کی حکومت میں بیٹھے بین الاقوامی جگادریوں نے گندم مہنگے داموں امپورٹ کرائی۔ اسی طرح چینی کو جب امپورٹ نہیں کرنا تھا کی اور بعد میں مہنگے داموں ایکسپورٹ کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی بنائی ہوئی کمیشن رپورٹ میں لکھا ہے کہ کون زمہ دار ہے۔ وہ سب عمران خان کے اے ٹی ایم تھے اس لئے آزاد ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ نااہل، نالائق اور سلیکٹیڈ حکومت نے عوام کی جیبوں پر اربوں روپے کا ڈاکہ گندم، چینی، ایل پی جی، بجلی، گیس،ادویات سمیت دیگر اسکینڈلز کی مد میں مارا ہے اور یہ سب موجودہ نااہل وزیر اعظم عمران خان کی ایما پر اور ان کے اے ٹی ایمز کو نوازنے کے لئے کیا گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here