News

اسلام میں انتہاء پسندی نام کی کوئی شے نہیں، سید وجاہت علی تاجی

اسلام میں انتہاء پسندی نام کی کوئی شے نہیں، سید وجاہت علی تاجی
جو مذہبی انتہا پسندی کا نعرہ لگاتے ہیں اُنہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے، اسلام رواداری کا درس دیتا ہے، گدی نشین خانقاہ تاجیہ امجدیہ
تمام ممالک کے ایٹمی اور مہلک ہتھیاروں کو اقوام متحدہ کی غیرجانبدار فوج کے زیرانتظام ہونے چاہئیں، بیان
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) اسلام میں انتہاء پسندی نام کی کسی شے کا وجود نہیں جو اِس لفظ کو استعمال کرتے ہیں وہ خود اس کے وہم میں مبتلا ہے۔ اسلام رواداری، برابری، محبت، بھائی چارے اور خدمت خلق کا پیغام دیتا ہے۔ تمام مذاہب اور اُن کے ماننے والوں کا احترام کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سربراہ بزم تاجیہ امجدیہ و گدی نشین خانقاہ تاجیہ امجدیہ قاضی سید میر وجاہت علی شاہ تاجی نے اپنے اخباری بیان میں کہا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمارا دین ناحق ظلم کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ جو اسلام کے نام پر ظلم کرنے کی ترغیب دے وہ ظالم ہے اور اللہ ظالموں کا ساتھ کبھی نہیں دیتا۔ مذہبی انتہا پسندی کا تعین ہونا چاہئے کہ مذہبی انتہا پسندی کس زُمرے میں آتی ہے۔ ہر کسی چیز کو مذہبی انتہا پسندی سے جوڑ کر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مغربی ممالک اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کررہے اُنہیں خود سوچنا چاہئے کہ اُن کے ایٹمی ہتھیاروں کے جنون اور اپنی برتری ثابت کرنے کے چکر میں غریب ممالک میں دہشت گردی کو پروان چڑھایا۔ اپنے ہتھیاروں کی فروخت کےلئے غریب ممالک میں جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کی، تاکہ اُن کے ہتھیاروں کی منڈیاں قائم ہوسکیں۔ بڑے ممالک سب سے پہلے اپنی فوج اور ایٹمی ہتھیاروں میں تخفیف کریں۔ پانی ہمیشہ اوپر سے نیچے آتا ہے۔ دنیا میں امن صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ تمام ممالک کے ایٹمی اور مہلک ہتھیار اقوام متحدہ کی ایک غیر جانبداری فوج کے زیرانتظام کردی جائیں، اور جہاں جہاں دہشت گردی ہو وہاں سے اس کے خاتمے کےلئے تمام ممالک متفقہ حکمت عملی اپنائیں۔ تمام ممالک اپنی اپنی سرحدیں ایک دوسرے کےلئے باہمی رضامندی کے ساتھ کھول دیں۔ ایک دوسرے کو اُن کی ثقافت کو قبول کیا جائے۔ معاشی مداخلت اور دہشت گردی کے عنصر کو فوری ختم کیا جائے۔ بڑے ممالک چھوٹے ممالک کے داخلی اور خارجی معاملات میں بے جا مداخلت کرکے معاشی دہشت گردی کے مرتکب ہورہے ہیں ، جس سے اُن کی سالمیت اور خودمختاری ختم ہورہی ہے، اِس کو ختم کیا جائے۔ امن، رواداری اور مساوات ہی مہلک اور ایٹمی ہتھیاروں کی اِس دنیا میں سکون کا باعث بن سکتی ہے۔ آنے والے حالات نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کیلئے کوئی آسان ثابت نہیں ہوں گے، اس کے لئے قوموں کو تیار کرنا ہوگا۔ صوفی ازم کو عام کرنا ہوگا۔ جو اسلام کی اصل روح کے مطابق انسانیت سے محبت اور احترام کا درس دیتا ہے۔

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *

News

ایم پی اے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا سرکاری اسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہوچکی ہے، ویکسین کیلئے فراہم کردہ رقم کہاں گئی، ڈاکٹر عمران علی شاہ کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی اور معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر سید عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا اور کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم میں اضافہ تو کیا گیا لیکن افوس کی بات یہ ہے کہ آج تک سابقہ منصوبے التوا کا شکار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں ہیلتھ بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم 132 ارب سے بڑھا کر 172 ارب کردی گئی ہے جو بلاشبہ اچھا اقدام ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بھی کراچی سمیت اندورن سندھ میں سرکاری اسپتال اور میڈیکل سینٹرز زبوں حالی کا شکار ہیں، خاص طور پر لیاری جنرل اسپتال کی حالت دیکھ کر شرم آتی ہے جہاں آرتوپیڈک کیس کے مریض کو کہا جاتا ہے کہ اپنا سمان خود ضرید کر لاو تو آپکی سرجری ہوجائے گی، دوسرے سول اسپتال کراچی میں ایمرجینسی ادویات تک میسر نہیں ہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ 18 ارب روپے جو ادویات کیلئے مختص کیئے گئے ہیں وہ کہاں گئے، اسی طرح کووڈ ویکسین کیلئے وفاق نے سندھ کو125 ارب روپے کی رقم فراہم کی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ میری اطلاع کے مطابق آج تک سندھ حکومت نے ایک روپے کی ویکسین نہیں خریدی، خدارا سندھ کے عوام پر رحم کریں، لسانی تعصب سے بالاتر ہوکر صوبہ کے عوام کو میڈیکل سروسز فارہم کرنے کیلئے اقدامات کیئے جائیں۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے سات ڈسٹرکتس میں ایک میں بھی پی پی ایچ آئی نہیں جوبڑے افسوس کی بات ہے، سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ لیاری کراچی میں 80 کروڑ کی لاگت سے 25 بستروں پر مشتمل اسپتال گزشتہ دس سالوں سے زیر تعمیر ہے لیکن آج تک وہ مکمل نہیں ہوا، وزیر اعلی مراد علی شاہ نے اس سال بھی بجٹ مین کئی نئی اسکیمیںاعلان کی ہیں لیکن میرا موقف یہ ہے کہ خدارا پہلے زیر التوا پروجیکٹس تو مکمل کرلیں۔ انھوں نے سندھ ہیلتھ کمیشن پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوے کہا کہ یہ بالکل غیر فعال ہوچکاہے۔ ان کی سرپرستی میں آج بھی جعلی ڈاکٹروں اور غیر رجسٹرڈ میڈیکل سینٹرز میں مک مکا کے بعد ان کی پریکٹس کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کے عوام صاف پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں، کراچی سمیت اندورن سندھ میں آج تک فلٹر پلانٹس ایسے نہییں لگائے گئے جن سے لوگوں کو صاف پانی میسر ہو۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت اب تک 164 ارب روپے کی ویکسین لوگوں کو لگا چکی ہے جبکہ مزید ویسین منگوائی جارہی ہے، کورونا ویکسین پر بھی سندھ حکومت سیاست کررہی ہے جبکہ وفاقی حکومت بلاتفریق عوام کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں اور اپنے وزیر اعظم عمران خان کے ویثرن کو لیکر پورے ملک کی عوام کی خسمت کیلئے کوشاں ہیں، دوسری جانب سندھ حکومت کورونا اور پانی کے ایشوز کو بنیاد بناکر لسانی تعصب کو ہوادے رہی ہے۔

REGISTERED NOW