جامعہ کراچی کی فلکیاتی رصد گاہ سے مشتری اور زحل سیاروں کامشاہدہ/ نایاب نظارہ

0
869

جامعہ کراچی کی فلکیاتی رصد گاہ سے مشتری اور زحل سیاروں کامشاہدہ/ نایاب نظارہ
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) اس سے قبل یہ دونوں سیارے 1623 میں ایک دوسرے کے انتہائی نزدیک سے گزرے مگریہ نظارہ ان کے سورج کے قریب ہونے کی وجہ سے انتہائی مشکل تھااوراب 15 مارچ2080 ء میں یہ مشاہدہ دوبارہ کیا جاسکے گا۔ڈاکٹر جاوید اقبال*
ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر جاوید اقبال کے زیر اہتمام گذشتہ شب جامعہ کراچی کی فلکیاتی رصدگاہ میں نظام شمسی کے دوبڑے سیاروں کے مشاہدے/ نایاب نظارے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق مشتری اور زحل ہمارے نظام شمسی کے دوبڑے سیارے ہیں،مشتری جو کہ زمین کے مقابلے میں سائز میں تقریباً11گنابڑا ہوتاہے یہ ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہوتاہے جبکہ زحل سائزمیں زمین سے تقریباً 9.4گنابڑا ہوتاہے۔ مشتری کا سورج سے جوفاصلہ ہے وہ 778کلومیٹر ہے جبکہ زحل کا سورج سے جوفاصلہ ہے وہ تقریباً1427 ملین کلومیٹر ہے اور یہ دونوں سیارے سورج کے گرد گردش کرتے ہیں۔
مشتری تقریباً11.8 سال میں ایک چکر مکمل کرتاہے جبکہ زحل 29.5 سال میں ایک چکر مکمل کرتاہے،دوران گردش ان کا آپس میں فاصلہ کم اور زیادہ ہوتاہے جب یہ دونوں سیارے آپس میں قریب ترین ہوتے ہیں توان کا زمین سے ایک ہی وقت اور ایک ڈائریکشن میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جسے ہم کنجنکشن کہتے ہیں۔
سیارہ مشتری اور زحل عام طورپر ہر بیس سال بعد ایک دوسرے کے قریب سے گزرتے ہیں،تاہم 21 دسمبر 2020 ء میں جوکنجنکش ہوا اس کو ہم گریٹ کنجنکشن کہتے ہیں اس لئے کہ ان دونوں سیاروں کے مابین جو فاصلہ تھا وہ بہت ہی کم ہوگیا تھا جو733 ملین کلومیٹرتھا اور زمین سے مشاہدہ پر 0.1 ڈگری کے فاصلے پر نظر آئے جسے گریٹ کنجنکشن کا نام دیا جاتاہے،جب دوفلکیاتی اجسام ایک دوسرے کے قریب دکھائی دے تواس کو کنجنکشن کہا جاتاہے۔ اس سے قبل تقریباًآٹھ سوسال قبل ان دونوں کے مابین فاصلہ تقریباً773 ملین کلومیٹر تھا۔
ڈاکٹر جاوید اقبال نے مزید کہا کہ اس سے قبل یہ دونوں سیارے 1623 میں ایک دوسرے کے انتہائی نزدیک گزرے مگر یہ نظارہ ان کے سورج کے قریب ہونے کی وجہ سے انتہائی مشکل تھا جبکہ 1626 میں ہونے والے گریٹ کنجنکشن کا مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here