اکتیس دسمبر تک ریٹائڑد ملازمین کے واجبات نہ ادا کئے تو کے ڈی اے کے اعلیٰ افسران کی تنخواہیں روک دیں گے

0
396

اکتیس دسمبر2020 تک ریٹائڑد ملازمین کے واجبات نہ ادا کئے تو کے ڈی اے کے اعلیٰ افسران کی تنخواہیں روک دیں گے
یکم جنوری سے عدالتی حکم کے بغیر کے ڈی اے میں کوئی تبادلے اور تقرریاں بھی نہیں ہوں گی
سندھ ہائیکورٹ، پنشن نہ دینے پر کے ڈی اے کے بینک اکاؤنٹس تحویل میں لے لئے
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نےریٹائرڈ ملازمین کو پنشن اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے لیے کے ڈی اے کے بینک اکاؤنٹس اپنی تحویل میں لے لیئے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے ہے بچت اور سرمایہ اسکیموں میں رکھی گئی رقم نکال کر اگر 31دسمبر تک ریٹائڑد ملازمین کے واجبات نہ ادا کئے تو کے ڈی اے کے اعلیٰ افسران کی تنخواہیں روک دیں گے اور یکم جنوری سے عدالتی حکم کے بغیر کے ڈی اے میں کوئی تبادلے اور تقرریاں بھی نہیں ہوں گی۔ یاد رہے کہ اس قبل بھی عدالت نے عدم ادائیگی کی صورت میں کے ڈی اے کے تمام ملازمین کی تنخواہین روکنے کا حکم دیا تھا تاہم عدالت نے قرار دیا کہ سیکریٹری لوکل گورئمنٹ اور ڈی جی کے ڈی اے کی درخواست پر حکم نامے میں ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی عدم ادائیگی پر صرف گریڈ 17 سے لے کر اوپر کے افسران کی تنخواہیں روکی جائیں گی۔ عدالت نے 31 دسمبر تک تمام ریٹائڑد ملازمین کو واجبات ادا کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ عدالت نے یکم جنوری سے ہائی کورٹ کے آفیشل اسائنی کو کے ڈی اے کے سیلری اکاؤنٹس تحویل میں لینے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کے ڈی اے کے ان اکاؤنٹس میں تنخواہوں سمیت جو بھی رقم ہو اس سے ریٹائڑد ملازمین کو ادائیگی کی جائے گی۔ ریٹائڑد ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لئے اثاثے بھی فروخت ہوں گے۔عدالت نے آئندہ سماعت 19 جنوری تک ملتوی کردی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here