بین الاقوامی ریموٹ کنٹرولڈ جہاز سازی کے مقابلے کے ابتدائی راؤنڈ میں پاکستان کے غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ نے دوسری پوزیشن حاصل کی

0
418

بین الاقوامی ریموٹ کنٹرولڈ جہاز سازی کے مقابلے کے ابتدائی راؤنڈ میں پاکستان کے غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ نے دوسری پوزیشن حاصل کی
غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ کی ٹیم ان وکٹس (INVICTUS) کے نام سے مقابلے میں شریک ہے
ٹیم کے مینیجر شارق حمید نے کامیابی کا کریڈٹ اپنے اساتذہ اور ٹیم ممبرز کو دیا ہے
امریکن انسٹی ٹیوٹ آف ایروناٹکس اینڈ ایسٹرو ناٹکس(AIAA)ریموٹ کنٹرولڈ جہاز سازی کا عالمی مقابلہ ڈیزائن، بِلڈ، فلائی(DBF Competition)کے نام سے ہر سال کے مخصوص مشن کے تحت منعقد کرتا ہے۔ جس میں دنیا بھر سے انجینئرنگ یونیورسٹیز شرکت کرتی ہیں۔جن کو پہلے مرحلے میں اپنے پروجیکٹ کا پروپوزل اور60صفحات پر مشتمل ٹیکنیکل رپورٹ جمع کرانی ہوتی ہے۔امریکن انسٹی ٹیوٹ آف ایروناٹکس اینڈ ایسٹرو ناٹکس(AIAA) تمام پروپوزلز کا جائزہ لیکر مقابلے کے لیے اہل پروجیکٹس کا اعلان کرتا ہے۔منظور شدہ پروجیکٹس امریکا میں منعقدہ مقابلے میں اپنے تیار کردہ جہازوں کی کارکردگی کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔
پاکستان سے صرف غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ٹیم گذشتہ دس سالوں سے اس مقابلے میں حصّہ لے رہی ہے۔اس انسٹی ٹیوٹ کی ٹیم اس سال اِن وکٹس(INVICTUS)کے نام سے اس بین الاقوامی مقابلہ جہاز سازی میں حصہ لے رہی ہے۔ہر سال کی طرح اس سال بھی دنیا بھر سے سینکڑوں یونیورسٹیز نے مقابلے کے لیے اپنے پروجیکٹ جمع کرائے۔جن میں سے ایک سو پندرہ(115)پروجیکٹس کو منظور کیا گیا۔جس میں غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ کی ٹیم اِن وکٹس(INVICTUS)کے پروجیکٹ نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔جو یقیناََ پاکستان کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔
ٹیم اِن وکٹس (INVICTUS) کے مینیجر اور غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ کے ہونہار طالبعلم شارق حمید نے بتا یا کہ یوں تو گذشتہ سال بھی ہمارے انسٹی ٹیوٹ کی ٹیم نے برا عظم ایشیا میں بہترین پوزیشن حاصل کی تھی۔لیکن اس سال ہمیں کووڈ۔19کی وجہ سے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن ہمارے ہر ٹیم ممبر نے اسکو ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا۔ہمارے اساتذ ہ نے ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا۔خدا کے فضل و کرم،والدین کی دعاؤں اور انسٹی ٹیوٹ کی سرپرستی کی بدولت ہماری ٹیم نے دنیا بھر سے منتخب ہونے والے ایک سو پندرہ(115) پروجیکٹس میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔جو ہمارے لیے، ہمارے انسٹی ٹیوٹ اور ہمارے ملک پاکستان کے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔ہمیں امید ہے کہ ہم فائنل مقابلے میں بھی اسی طرح اپنے ملک کا نام روشن اور اس کے پرچم کو سر بلند کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here