پاکستان میں کورونا کے علاج کے لیے دوا کی تیاری اہم مرحلے میں داخل ہوگئی

0
31

پاکستان میں کورونا کے علاج کے لیے دوا کی تیاری اہم مرحلے میں داخل ہوگئی
کرااچی:(اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں کورونا کے علاج کے لیے دوا کی تیاری اہم مرحلے میں داخل ہوگئی، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی جانب سے دوا 19-Anti-COVID انٹر اوینس امیونوگلوبیولن (C-IVIG) کے کامیاب کلینیکل ٹرائیل کے انتہائی مثبت نتائج حاصل ہونے لگے،کلینیکل ٹرائل میں شامل شدید بیمار (severe) مریضوں میں صحتیابی کی شرح سو فیصد رھی جبکہ آئی سی یو میں داخل انتہائی بیمار (critical) مریضوں میں صحتیابی کی شرح 60 فیصد سے زائد رھی،صحتیاب ہونے والے 50 فیصد مریضوں کو محض 5 روز میں اسپتال سے فارغ کردیا جاتاہے۔یاد رہے ڈاؤ یونیورسٹی میں C-IVIG کے پری کلینکل ٹرائل اپریل کے اوائل میں شروع ہوئے تھے اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ڈریپ نے فوری طور پر اس کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری دے دی تھی، C-IVIG کی تیاری کے پروجیکٹ کے لیے بنیادی فنڈنگ ڈاؤ یونیورسٹی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اشتراک سے کی، جبکہ قیمتی انسانی جانوں کے بچاؤ میں ڈریپ کا کردار قابلِ ستائش رہا کہ اس کی جانب سے اجازت کے بعد کورونا میں مبتلاافراد کی جانیں بچانے کے لیے موثر اقدامات کئے جاسکے،ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کی نگرانی میں ڈاکٹر شوکت علی اور ان کی ٹیم نے C-IVIG پروجیکٹ پر کام کا آغاز کیا، ڈاکٹر شوکت علی نے اس ضمن میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ C-IVIG (انجیکشن)کورونا سے صحتیاب مریضوں کے پلازما سے حاصل شدہ اینٹی باڈیز کو علیحدہ کرکے تیار کیا جاتاہے، اس طرح کے مریضوں میں C-IVIG کاموثر ہونا انتہائی اہم کامیابی ہے، جس کے لیے کورونا کے صحت یاب مریضوں کی جانب سے پلازما کا عطیہ کرنے کی درخواست ہے، انہو ں نے بتایا کہ اس ضمن میں سندھ بلڈ ٹرانسفیوژ ن اتھارٹی نے بھی خصوصی طور پر اجازت دے دی تھی، تاہم جس طرح کورونا کی لہر تیز ہو رہی ہے، مطلوبہ مقدار میں دوا کی تیاری ممکن نہیں ہو پائے گی، کیونکہ پلازما عطیہ کرنے کا رحجان کم ہے، ڈاکٹرشوکت علی نے بتایا کہ کلینکل ٹرائل میں شامل مریضوں کی
عمر اوسطََ ساٹھ بر س تھی اور تقریباََ تمام شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے ان کی جانوں کو زیادہ خطرہ لاحق تھا، اس طرح کے مریضوں میں C-IVIG کا موثر ہونا انتہائی اہم کامیابی ہے۔ انہو ں نے بتایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں C-IVIG کے کلینکل ٹرائل جون کے اوائل میں شروع ہوئے،تاہم کورونا کی دوسری لہر میں تیزی کے بعد کلینکل ٹرائل میں تیزی آگئی، مگر C-IVIG کے تیاری میں کورونا سے صحت یاب افراد کا پلازما درکارہے، تاکہ بڑی مقدار میں دوا تیار کی جاسکے۔ڈاکٹر شوکت علی نے بتایا کہ یوں تو کرونا کی بیماری کے بارے میں تحقیق تاحال جاری ہے لیکن کورونا عموماََ تین وجوہات کے باعث جان لیوا ثابت ہوتاہے۔ ڈاکٹر شوکت علی نے اس حوالے سے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ پہلی وجہ یہ ہے کہ کورونا انسانی پھیپھڑوں پر حملہ آور ہوکر انہیں نقصان پہنچاتاہے، دوسری وجہ یہ وائرس متاثرہ شخص کے امیون سسٹم (انسانی مدافعتی نظام) کو بے قابو یا کنٹرول سے باہر کر دیتاہے، جسے سائیٹو کائن اسٹروم (CYTOKINE STORM) کانام دیا گیا ہے، تیسری وجہ یہ ہے کہ شدید بیمار افراد میں ثانوی بیکیٹریائی انفیکشن (Secondary Bacterial Infection) کی وجہ سے سیپسز (Sepsis )پورے جسم میں پھیل جاتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہوتاہے۔ کورونا سے صحت یاب افراد کے پلازما سے حاصل ہونے والی اینٹی باڈیز جنہیں سی آئی وی آئی جی کا نام دیا گیا ھے جسم میں داخل ہو کر تباہی پھیلانے والے وائرس کو نیوٹرلائز (غیر موثر) کردیتی ہیں، انسانی امیون سسٹم کو بے قابو ہونے سے روک کر اسے باقاعدہ کر دیتا ہے، جب کہ خاص طریقے سے حاصل کئے گئے شفاف پلازما میں موجو ددیگر اینٹی باڈیز ثانوی بیکڑیل انفیکشن کو روکتے ہیں،
انہو ں نے بتایا کہ اس پروجیکٹ پر مارچ کے مہینے میں وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کی ہدایت پر کام شروع کیا گیا، ٹیم میں منیب الدین، میر راشد علی، فاطمہ انجم، ڈاکٹر شیخ محمد مھیمن، ڈاکٹر فرح فرحان، عائشہ علی، مجتبی خان، علیشا شالم، تحریم مشتاق، فیصل شہاب، عبد الصمد خان اور اقرا احمدشامل تھے، جن کی مدد سے بنیادی کام اور پری کلینکل ٹرائل ممکن ہوئے جبکہ کلینکل ٹرائل ڈاؤ یونیورسٹی میں ڈاکٹر شوبھا لکشمی اور سندھ انفیکشئیس ڈیزیز اسپتال میں ڈاکٹر منیبہ سید کی نگرانی میں مکمل کئے جارہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here