ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ملازمین کے جائز و قانونی دیرینہ مطالبات کیلئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا دھرنا

0
783

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ملازمین کے جائز و قانونی دیرینہ مطالبات کیلئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا دھرنا
کراچی: (اسٹاف رپورٹر) مورخہ 12 نومبر، 2020 بروز جمعرات مسلسل 14 ویں روز بھی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ملازمین کے جائز و قانونی دیرینہ مطالبات کیلئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام مرکزی ارکان، ممبران و پرعزم کارکنان کی بہت بڑی تعداد نے اوجھا کیمپس کی او پی ڈی بلاک کے ساتھ کیمپ میں دو گھنٹے کی ٹوکن اسٹرائیک دھرنا دیا۔ ملازمین نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندہ کر ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا کر اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ ڈاؤ یونیورسٹی کی ہائر
مینجمنٹ ملازمین کے مسائل سے مسلسل عدم دلچسپی و غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ نااہل ڈاؤ یونیورسٹی انتظامیہ ملازمین کے قانونی مسائل کرنے کے بجائے اپنے مخصوص حواریوں کے زریعے طویل احتجاج کو دھونس دھمکی اور ہراسمنٹ کرکے توڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ وائس چانسلر صاحب سے مزاکرات کا صرف غیر واضح اعلامیہ جاری کیا اور پھر تین رکنی پروفیسرز سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی بات چیت ہوئ لیکن نہ کوئ لیٹر/اعلامیہ جاری کیا نہ مسائل حل کرنے کے حوالے سے کوئ پیشرفت ہوتی دکھائ دی۔ اس بے حسی کا سبب مخصوص افراد ہیں جن کی حیثیت غیر قانونی ہے اور پبلک سیکٹر یونیورسٹی سے تنخواہیں اور مراعات سمیت وسائل پر قابض اور کسی طور پر مسائل کو حل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال میں ملازمین کا مطالبہ ہے کہ چار سالہ مکمل آڈٹ کرایا جائے اور اسکی رپورٹ شائع کیجائے۔ مسلسل 14 روز سے جاری احتجاج پر بیٹھے ملازمین میں مزید شدید احساس محرومی ہے اور وہ وزیر اعلی اور سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں جائز و قانونی دیرینہ مطالبات فوری حل کیے جائیں۔ سندھ کی دیگر یونیورسٹیز اور ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ملازمین کو یہ تمام الاونسس اور سہولیات دستیاب ہیں۔ آج ڈاؤ یونیورسٹی کے دھرنے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان پیرامیڈیکل ایسوسی کے مرکزی عہدیداران اقبال جسکانی اور قاضی مشیر تشریف لائیں۔ رہنماؤں نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ 14 روز گزر گئے نااہل انتظامیہ اپنے مخصوص مفادات کو تحفظ دینے میں لگی ہے اور جائز مسائل کو دانستہ حل نہیں کررہی ہے انہوں نے بھی وزیر اعلی و چانسلر یونیورسٹی سے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ کو فوری برطرف کیا جائے اور ملازمین کی داد رسی کیجائے۔ دھرنے سے خطاب میں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہمیں یونیورسٹی انتظامیہ مجبور کررہی کہ ہم او پی ڈیز کا بائیکاٹ کریں جسکی مکمل زمہ داری ڈاؤ یونیورسٹی کی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here