علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام سرسید یونیورسٹی میں سرسید ڈے کا انعقاد

0
389
سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار، شفیق پراچہ، ڈاکٹر شاداب احسانی اور ا موبا کے جنرل سیکریٹری انجینئر محمد ارشد خان سرسید ڈے کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام سرسید یونیورسٹی میں سرسید ڈے کا انعقاد
چانسلر جاوید انوار، شفیق پراچہ، ڈاکٹر شاداب احسانی، رضوان صدیقی اورانجینئر ارشد خان کا خطاب
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے برصغیر کے عظیم مفکر سرسید احمد خان کا203 واں یوم پیدائش روایتی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا گیا اور ممتاز دانشوروں نے سرسید احمد خان کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی سابق کمشنر شفیق پراچہ نے کہا کہ ماضی ایک منجمد حقیقت ہے، آپ اسے بدل نہیں سکتے ۔ ایک بیج میں پورا جنگل ہوتا ہے ۔ سر سید تو ایک علامت ہے تبدیلی و ترقی کی ۔ وہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کا صرف یومِ ولادت منایا جاتا ہے، یومِ وفات نہیں ۔ سرسید احمد خان سلطنتِ برطانیہ کے باغی تھے ۔ لیکن یہ خاموش بغاوت تھی ۔ قیام پاکستان اور دو قومی نظریہ کا محور اردو زبان تھی ۔ سرسید کے تسلسل کا دوسرا نام اقبال ہے ۔ سرسید جو بولتے تھے، کرتے تھے ۔ ۔ اقبال ہ میں راستہ دکھاتے ہیں ۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈبوائز ایسوسی ایشن کے صدر اور سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد بحثیت قوم، ہم نے سرسید احمد خان کے مشن کو تو پکڑے رکھا مگر اس کی آبیاری جس انداز میں ہونی چاہئے تھی ۔ بحثیت علمبردار، ہم نہیں کر پائے ۔ سرسید احمد خان نے برصغیر کے مسلمانوں کی بحیثیت ایک قوم پہچان کرائی اور انھیں ایک قوم کا تشخص دیا جس کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا ۔
انھوں نے کہا کہ ملازمتوں کے مواقع محدود ہونے کے باعث آج نوجوانوں کو جبری کاروباری تنظیم کاری forced entrepreneurship کی طرف رجوع کرنا لازم ہوگیا ہے ۔ معیشت کی ترقی و بہتری اور استحکام کے لیے کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دینا ہوگا ۔ گھر گھر پرزہ جات کی تیار ی ہو جنھیں بعد میں جوڑ کر مصنوعات تیار کی جائیں ۔ انھیں patent کرانے اور ملک کے اندر اور بیرونِ ملک مارکیٹنگ کے لیے حکومتی اداروں کی رہنمائی اور تعاون بہت ضروری ہے ۔
چانسلر جاوید انوار نے شہیدملت لیاقت علی خان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی شہادت پر گہرے تاسف کا اظہا ر کیا ۔ اس موقع پر انھوں نے شہید حکیم محمد سعید کی خدمات کو بھی اجاگر کیا جنھوں نے سرسید یونیورسٹی کا چارٹر منظور کیاتھا ۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کو 16اکتوبر اور حکیم محمد سعید کو 17 اکتوبر کو شہید کیا گیا ۔
اموبا کے صدر جاوید انوار نے سرسید یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید جاوید حسن رضوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا ۔
ممتاز اسکالر پروفیسررضوان صدیقی نے کہا کہ سرسید احمد خان برصغیر کے وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے جداگانہ قومیت کا نعرہ بلند کیا ۔ وہ جدیدیت کی اہمیت سے واقف تھے اور مسلم نشاط ثانیہ کے علمبردار بھی تھے ۔ وہ بلاشبہ برصغیر کے جملہ مسلمانوں کے محسن ہیں
ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا کہ کائنات میں سارا جھگڑا غائب کا ہے، ظاہر کا کوئی جھگڑا نہیں ہے ۔ ہر عہد کسی نہ کسی نظریہ یا شخصیت کے زیرِ اثر ہوتا ہے ۔ زبان سے زیادہ بیانیہ اثر کرتا ہے ۔ سرسید احمد خان کا سب سے بڑا اہم کام ’’آثار الصنادید‘‘ ہے جو ہماری شناخت ہے ۔ سرسید احمد خان نے جدید سائنسی علوم سیکھنے کی ترغیب دی اور سائنس کی بنیاد مشاہدہ پر ہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہم جو مشاہدہ کرتے ہیں وہ کتابوں میں نہیں ہوتا، اور جو کتابوں میں ہوتا ہے وہ ہ میں اطراف میں کہیں نظر نہیں آتا ۔
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری انجینئر محمد ارشد خان نے اظہارِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے زینے چڑھنے کے لیے مضبوط قوت ارادی اور ثابت قدمی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سرسید احمد خان نے علیگڑھ مدرسے کی بنیاد رکھی جو درحقیقت قیامِ پاکستان کی بنیاد کی پہلی اینٹ تھی ۔ علیگ نے اپنے حصے کا کام کردیا اب المنائی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کام کو آگے بڑھائیں ۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سال کے کیلنڈر میں سرسید ڈے بھی ہو کیونکہ پاکستا ن کے قیام کی بنیاد دوقومی نظریہ ہے جسے سب سے پہلے سرسید احمد خان نے پیش کیا تھا ۔
اختتامِ تقریب پر سرسید یونیورسٹی کے طلباء و طالبات اور علیگ نے مل کر ترانہ علیگڑھ پیش کیا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here