سندھ بھر میں پری پرائمری، پرائمری اور مڈل کلاسیں 28 ستمبر سے کھل جائیں گی،وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی

0
98

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں پری پرائمری، پرائمری اور مڈل کلاسیں 28 ستمبر سے کھل جائیں گی، تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے جاری کردہ ایس او پیز کی پابند ہوگی اور جو اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا اس کے خلاف کوووڈ قانون کے تحت سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ والدین اپنے چھوٹے بچوں کو بار بار ایس او پیز پر عمل درآمد کے لئے پابند کرتے رہیں جبکہ تعلیمی اداروں میں ہر کلاس کے آغاز سے قبل 2 سے 3 منٹ تک ایس او پیز کے حوالے سے طلبہ و طالبات کو آگاہی فراہم کی جائے۔ اگر کوئی والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچوں کو موجودہ صورتحال میں انہیں اسکول نہیں بھیجنا چاہیے تو ان پر کوئی دباؤ میں ہے اور کسی اسکول پر بھی یہ دباؤ نہیں ہے کہ وہ اگر یہ سمجھتا ہے کہ اس وقت کو اسکول نہیں کھول سکتا تو وہ نہ کھولے۔ ایم کیو ایم اس وقت بھی الطاف حسین کے نفرت انگیز، مارنے ڈرانے اور اردو زبان والوں کو دیگر زبانوں والوں سے لڑانے کی سیاست پر عمل پیرا ہے اور آج خالد مقبول، عامر خان، اظہار الحق سمیت دیگر تمام الطاف حسین ہی کا لبادہ اوڑھے اور اس کی نفرت انگیز سیاست کو پروان چڑھانے میں مصروف ہیں۔ صوبہ سندھ میں گیس اور اس کے باعث بجلی کے بدترین بحران کی ذمہ دار موجودہ نااہل، نالائق حکمران ہیں اور ان کے باعث آج کراچی جیسے شہر میں 14 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیر بنا دی ہے۔ پیپلز پارٹی جلد ہی ایم کیو ایم کی گذشتہ روز کی ریلی یا جلسی کے جواب میں کراچی میں ایک عظیم الشان ریلی یا جلسہ کا انعقاد کرے گی اور انہیں ٹنکی گراؤنڈ والے جلسہ کے بعد کی شرمندگی کا ایک بار پھر احساس دلائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی پیر مجیب الحق اور وزیر اعلیٰ کے کوآڈینیٹرشہزاد میمن بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ میں نے متعدد بار تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے واضح بیان دئیے ہیں تاہم ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس میں آج بھی کوئی ابہام دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کو اس طرح واضح کردوں کہ 28 ستمبر سے تمام تعلیمی ادارے جس میں نرسری سے پری پرائمری تک کی تمام کلاسز، مڈل کلاسز س میں کلاس 6 سے 8، سیکنڈری کلاسز جس میں کلاس 9 تا 10 اور تمام کالجز اور جامعات کی کلاسز میں تدریس کا آغاز ہوجائے گا اور 100 فیصد تعلیمی سرگرمیاں کھول دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف فیز 2 جس میں کلاس 6 تا 8 تھی اس کو ایک ہفتہ کے لئے موخر کیا تھا اور اب یہ سب کلاسیں 28 ستمبر سے کھل جائیں گی۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ 10 روز سے میں خود اور ہمارے تمام محکمہ تعلیم کے افسران روزانہ کی بنیاد پر سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے دورے کررہے ہیں اور ہم جن جن تعلیمی اداروں میں ایس او پیز کا فقدان نظر آرہا ہے ان کو ایس او پیز پر عمل درآمد کے لئے ہدایات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جن تعلیمی اداروں کو سیل کیا ان کی دو وجوہات تھی ایک تو ایسے تعلیمی ادارے جہاں کوووڈ کا کوئی کیس آیا ہو اور دوسرا ان تعلمی اداروں کو جنہوں نے واضح احکامات کے باوجود چھوٹی کلاسز کے بچوں کو اسکولوں میں بلایا ہوا تھا اور ان تعلیمی اداروں کو اب ڈی سیل بھی کردیا گیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ 28 ستمبر کے بعد تمام تعلیمی ادارے بشمول سرکاری و نجی سب کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور اگر اس میں کہی کوتاہی ہوئی تو ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ان کے خلاف کوووڈ کے مرتب شدہ قانون کے تحت بھاری جرمانے، اسکول کی رجسٹریشن کی معطلی اور ایف آئی آر کا ن اندراج بھی کیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ میں نے ہمیشہ والدین سے التماس کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو جاری کردہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کے لئے تیار کریں اور کوشش کریں کہ وہ اپنے بچوں کو وین یا اسکول ٹرانسپورٹ کی بجائے خود لینا چھوڑنا کریں۔ ساتھ ہی والدین اپنے بچوں کی اسکول اور ان کی کلاسوں کا بھی معائنہ کریں کہ جہاں ان کے بچوں کو تعلیم دی جارہی ہے وہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمدکررہے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے جس نے تعلیمی اداروں کو کوووڈ کے حوالے سے ایس او پیز میں سب سے زیادہ نرمی فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تعلیمی اداروں پر یہ بات چھوڑ دی ہے کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں میں بچوں کی کلاسز کو بڑھادیں، شفٹیں بنا دیں یا پھر بچوں کو ایک ایک دن کی شفٹوں میں بلائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر صحت کا تعلیمی اداروں کے حوالے سے بیان ان کے خدشات تھے، جو انہوں نے کوووڈ کے حوالے سے بنائی گئی خصوصی ٹاسک فورس میں رکھے تھے اور یہ خدشات ان کے کوووڈ کے مریضوں کی تعداد کے بڑھنے کے حوالے سے تھے، تاہم ٹاسک فورس جس میں تمام کی مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے، اس میں تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم نے کوووڈ کے قانون میں تمام کو اس بات کا پابند کیا تھا کہ وہ نہ تو اس دوران اپنے ملازمین کو نوکریوں سے نکالیں گے اور نہ ہی ان کی تنخواہیں روکیں گے تو اگر ہم نجی تعلیمی اداروں کو فیسوں کی وصولی سے روکیں تو وہ کس طرح اپنے تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کو تنخواہیں ادا کریں گے یا اپنے اسکول کے اخراجات کو پورا کرسکیں گے البتہ کوووڈ قانون کے تحت کوووڈ کے دوران یہ اسکول والدین کو 20 فیصد فیسوں میں رعایت دینے کے پابند تھے اور اب چونکہ ملک بھر میں کوووڈ کی صورتحال بہتر ہوگئی ہے اور تمام کاروبار زندگی مکمل طور پر بحال ہوگیا ہے تو اب یہ ادارے فیسوں کی وصولیابی کے مجاز ہیں۔ ایم کیو ایم کی جانب سے گذشتہ روز نکالی جانے والی ریلی اور اس میں لاشیں گرانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ یہ الفاظ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم کوئی محب وطن نہیں بلکہ اس فاسسٹ جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ایم کیو ایم ماضی کی سوچ کو لے کر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ اس صوبے کے لوگوں کو اگست 2016 سے قبل کی ایم کیو ایم چاہیے یا اس کے بعد والی ایم کیو ایم چاہئے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ موجودہ ایم کیو ایم کا صرف الطاف حسین سے لاتعلقی کا ڈرامہ ہے۔ آج بھی اردو بولنے والوں میں نفرت پھیلانا، مارنے اور ڈرانے کی سیاست ان کے رہنماؤں میں بسی ہوئی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ آج کے ایم کیو ایم والوں نے وقتی طور پر الطاف حسین کو برا بھلا کہنا شروع کیا ہے، ہمیں الطاف حسین کی شکل سے کوئی نفرت نہیں تھی بلکہ ان کی سیاست، دہشتگردی اور اردو بولنے والوں کو دیگر زبانوں کے بولنے والوں سے لڑانے اور ان کے ووٹوں کا سودا کرنے والی سیاست سے نفرت تھی جو آج کی ایم کیو ایم میں بھی موجود ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز کی ریلی یا جلسی نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ کراچی کے عوام اور بالخصوص اردو بولنے والوں کو اب ایم کیو ایم کی سیاست کا پتہ لگ چکا ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو ایم کیو ایم سے لاتعلق کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جلد ہی ایم کیو ایم کی نفرت پھیلاؤ کی ریلی کے جواب میں محبت بڑھاؤ ریلی یا جلسہ کا انعقاد کرے گی اور ان سیاسی دہشتگردوں کو ٹنکی گراؤنڈ کا جلسہ یاد دلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اردو بولنے والے ووٹروں کے ووٹوں کے سب سے بڑے سوداگر ہیں اور انہوں نے اس وقت جب وہ سندھ میں اکثریت میں تھے اردو بولنے والوں کے ووٹوں کا سودا کیا اور چاہتے تو اپنا وزیر اعلیٰ بناتے انہوں نے سودے بازی اور اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر ووٹوں کا سودا کیا۔ گیس کے بحران اور اس پر وفاقی وزراء کی جانب سے سندھ حکومت کو مورد الزام ٹھرانے کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ملک میں آٹے کا بحران ہو، پیٹرول کا بحران ہو، مہنگائی ہویا کوئی اور ان کے ان نااہل اور سلیکٹیڈ وزیر اعظم سے لے کر وزراء تک سب کو سندھ ہی نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ صوبہ 70 فیصد گیس پیدا کررہا ہے اور آج صوبہ سندھ ہی سب سے زیادہ گیس کے بحران کا شکار ہے اور اس کے باعث بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ بھی ہم ہی بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق جو صوبہ گیس پیدا کرتا ہے اس کا پہلا حق ہے لیکن وفاقی حکومت کی سندھ دشمنی نے اس صوبے کے عوام کو گیس اور بجلی کے بحران میں دھکیل دیا ہے اور کراچی جیسے شہر میں بھی 14 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈن کی جارہی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں 292 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے اور اب کچھ دن کے بعد خود وزیر اعظم اس کا نوٹس بھی لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں پیٹرول مفت میں مل رہا تھا لیکن ان نااہل سلیکٹیڈ حکمرانوں نے بین الاقوامی جگادرو اور اے ٹی ایم نے 25 روپے لیٹر کا راتوں رات قیمتوں میں اضافہ کروادیا۔ مردم شماری کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 24آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل یہ شرط عائد کی تھی کہ ہمارے مردم شماری پر اعتراضات ہیں اور اس پر معاہدہ کیا گیا کہ اس کو رینڈم چیک کیا جائے گا اور آج تک سی سی آئی سے اس کی منظوری نہیں لی گئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here