Karachi Metropolitan Corporation

سٹی کورٹ کے اطراف سیوریج کے مسائل مستقل بنیاد پر حل کرنے کے لئے واٹر بورڈ کے اشتراک سے اسکیم تیار کی ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی

کراچی (اسٹاف رپورٹر/ طلعت محمود ) ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار علی شالوانی نے کہا ہے کہ سٹی کورٹ کے اطراف سیوریج کے مسائل مستقل بنیاد پر حل کرنے کے لئے واٹر بورڈ کے اشتراک سے اسکیم تیار کی ہے، سٹی کورٹ میں روزانہ پیش ہونے والے وکلاء اور دیگر سینکڑوں افراد کی مشکلات کا احساس ہے، شہر کے قلب میں واقع کچہری روڈ اور ملحقہ علاقے میں ماحول کو بہتر بنانے کے لئے کراچی بار ایسوسی ایشن کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کی سہ پہر کراچی بار ایسوسی ایشن کے دورے کے موقع پر گورننگ باڈی سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر کراچی بار کے صدر منیر احمد ملک ایڈوکیٹ، جنرل سیکریٹری جی ایم کورائی ایڈوکیٹ، جوائنٹ سیکریٹری ندیم منگی ایڈوکیٹ،ترجمان کراچی بار انور میمن، خزانچی شانتی دیوی، لائبریرین امرت اور دیگر ممبران بھی موجود تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار علی شالوانی نے کہا کہ سٹی کورٹ ایسی جگہ جہاں روزانہ سینکڑوں مختلف مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے اور وکلاء کی بڑی تعداد ان مقدمات کی پیروی کے لئے یہاں آتی ہے جبکہ پورے شہر سے ملزمان کو بھی مختلف مقدمات میں پیشی کے لئے لایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہاں عموماً لوگوں کا رش لگا رہتا ہے اور عدالتی عملے اور وکلاء کو پریشانی کا سامنا رہتا ہے لہٰذا شہری انتظامیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان مسائل کا احاطہ کرے اور جلد از جلد ان کے مستقل حل کا انتظام کرے،انہوں نے کراچی بار ایسوسی ایشن سے کہا کہ وہ سٹی کورٹ کے اطراف پورے علاقے کی موجودہ حالت کو بدلنے کے لئے ایک کروڑ روپے مالیت کی اسکیم بنائیں جس میں کراچی بار کے دفتر، لائبریری اور اطراف کے علاقے کی تزئین و آرائش اور شجرکاری سمیت مختلف امور شامل ہوں، علاقے کے مسائل حل کرنے کے لئے اس اسکیم پر عملدرآمد کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری انتہائی محترم ہے کیونکہ یہ لوگوں کو انصاف دلانے میں ان کی مدد کرتی ہے اور یہ ایک نیک کام ہے، انہوں نے کہا کہ سٹی کورٹ کے اطراف گاڑیوں کی پارکنگ کے مسائل بھی حل کرنا چاہتے ہیں، ویسے تو پارکنگ کا مسئلہ پوری دنیا کے بڑے شہروں کو درپیش ہے اور کراچی بھی انہی شہروں میں شامل ہے تاہم ہم چاہتے ہیں کہ شہر میں ڈبل پارکنگ کا نظام ختم کیا جائے تاکہ سڑکوں کی کشادگی متاثر نہ ہو اور ٹریفک کی روانی برقرار رہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ فٹ پاتھوں پر پیدل چلنے والوں کا حق ہے لہٰذا وہاں جو بھی رکاوٹیں ہیں انہیں دور کریں گے اور پورے شہر کی فٹ پاتھوں کو راہ گیروں کے استعمال کے قابل بنانا چاہتے ہیں تاکہ شہر میں یہی طریقہ رائج ہو اور تجاوزات کے باعث درپیش مسائل حل کئے جاسکیں، انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہفتے میں ایک دن اتوار کے روز شہر میں ”کار فری ڈے“ منایا جائے اور اس دوران گاڑیاں صرف انتہائی ضرورت پڑنے پر استعمال کی جائیں، شہری زیادہ سے زیادہ پیدل چلیں جس سے ان کی صحت بہتر ہوگی اور دھویں کی وجہ سے ہونے والی فضائی آلودگی میں کمی آئے گی، ترقی یافتہ شہر وں میں یہ تجربات انتہائی کامیابی کے ساتھ آزمائے جاچکے ہیں جن کے بہترین نتائج سامنے آئے، ہمیں بھی صحت مند معاشرے کو فروغ دینے کے لئے ایسے ماڈلز پر عملدرآمد کرنا چاہئے، تقریب سے کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر احمد ملک ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا اور کراچی بار ایسوسی ایشن کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا، انہوں نے کہا کہ سٹی کورٹ میں روزانہ تقریباً 50 ہزار ملزمان مقدمات میں پیشی کے لئے لائے جاتے ہیں یہاں 400 کے قریب جوڈیشل اور دیگر ججز خدمات انجام دیتے ہیں جبکہ 3 ہزار کا جوڈیشل اسٹاف ان کی معاونت کرتا ہے اور 7 ہزار وکلاء روزانہ کی بنیاد پر مختلف مقدمات میں پیش ہوتے ہیں، یہ شہر کی اہم ترین جگہ ہے لہٰذا سٹی کورٹ کے اطراف سیوریج اور پارکنگ سمیت تمام مسائل جلد از جلد حل کئے جائیں،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراچی بار کے جنرل سیکریٹری جی ایم کورائی ایڈوکیٹ نے کہا کہ جب بھی کراچی یا پاکستان کو آزمائش کا سامنا ہوا کراچی کے وکلاء نے اس کے مقابلے کے لئے صف اول کا کردار ادا کیا ہے، کراچی بار بہت بڑا بار ہے اور اس نے ہمیشہ ناانصافی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی ہے اور آئندہ بھی ہم اپنے فرائض اسی طرح ادا کرتے رہیں گے، انہوں نے کہا کہ کراچی کی بہتری کے لئے ہم ایڈمنسٹریٹر جناب افتخار علی شالوانی کے ساتھ ہیں اور اس حوالے سے ہمارا ہرممکن تعاون انہیں حاصل رہے گا۔

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *

REGISTERED NOW