گھوسٹ ملازمین میں سندھ کے بلدیاتی ادارے بھی سرفہرست کراچی بلدیاتی ادارے مفت میں بدنام

0
892

تحریر: سیدمحبوب احمدچشتی
گھوسٹ ملازمین کا مسلسل پرچار کرنے والوں کے دامن بھی صاف نہیں۔ صرف کراچی کے بلدیاتی اداروں میں گھوسٹ ملازمین نہیں بلکہ اندرون سندھ کے بلدیاتی ادارے بھی اس فہرست کا حصہ ہیں لیکن افسوس صدافسوس کہ وہاں کے مئیرزایم کیوایم کے نہیں ہیں سندھ کے بلدیاتی اداروں میں( دل پہ مت لے یار) کے مصداق چونکہ کرپشن نہیں ہوتی ہے اس لیئے اس پرکوریج بھی کم ہوتی ہے بلدیاتی اداروں میں گھوسٹ ملازمین کی تلاش اور دفتری اوقات کار کی پابندی آج کل اہم موضوع کے طور پر سامنے آئی ہوئی ہے جس کی اہم وجہ سندھ حکومت کے سرپر 149/4 لٹکتی تلوارہے وزیر بلدیات سندھ سیدناصر حسین شاہ کے بھی بہتر اقدامات سامنے آنے کی توقع ہے وزیر بلدیات سندھ نے سندھ کے بلدیاتی اداروں کو متبنہ کیا ہے کہ وہ دفتری اوقات کار کی پابندی کرنے کے ساتھ شہریوں کے مسائل حل کرنے میں اپنا وقت صرف کریں جبکہ ایک مرتبہ پھر گھوسٹ ملازمین کا معاملہ سر اٹھاتا دکھائی دے رہا ہے جس کا سد باب تاحال نہیں کیا جا سکا ہے وزیر بلدیات سندھ نے بلدیاتی اداروں میں موجود گھوسٹ ملازمین کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب جو کام کرے گا وہ ہی تنخواہ پائے گا گھوسٹ ملازمین گھروں میں ہی قید کر دئیے جائیں گے جبکہ کراچی سے زیادہ گوسٹ ملازمین سندھ کے بلدیاتی اداروں میں موجود ہیں جو بمشکل بلدیاتی اداروں کا رخ کرتے ہیں کراچی کے بلدیاتی اداروں میں آپریشن کے بعد گھوسٹ ملازمین کی تعداد ہزاروں سے کم ہو کر سینکڑوں میں رہ گئی ہے اور وہ بھی تنخواہوں سے محرومی وتاخیر کاسامنا کررہے ہیں اور ان ملازمین کو بلدیاتی اداروں کے سربراہان خود بوجھ محسوس کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مختلف نوعیت کے دبائو کی وجہ سے وہ ایسے ملازمین کو نکالنے سے قاصر ہیں جبکہ بلدیاتی اداروں میں ملی بھگت سے اس ضمن میں پیسے بٹورنے کی بھی اطلاعات ہیں اس کے برعکس سندھ کے بلدیاتی اداروں میں آدھے آدھے کی بنیاد پر گھوسٹ ملازمین کی مصدقہ اطلاعات ہیں جو سیاسی ودیگر چھتری اوڑھے گھر بیٹھے تنخواہ وصول کرنے کے ساتھ اپنے اداروں کے افسران کو بھی خوش رکھے ہوئے ہیں،ذرائع کے مطابق دادو،ماتلی اورگھوٹکی سمیت دیگر سندھ کے بلدیاتی اداروں میں ڈیوٹیوں پر موجودملازمین کی تعداد محض دس فیصد ہے اور ان حقائق کی موجودگی میں کراچی کو خصوصی طور پر بدنام کرنا مناسب نہیں دکھائی دے رہا ہے، کراچی میں سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ جو کہ سندھ حکومت کے ماتحت اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے اور اس میں افسران کی اتنی بڑی تعداد موجود ہے جسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اتنے افسران کے باوجود یہ ادارہ تاحال شہر کو صاف نہیں کرسکا ہیخیر اب تو این ڈی ایم نے یہ زمہ داری سنبھال لی ہے مزید بڑی وجہ یہ بھی سامنے آئی ہے اور وہ ہے سوئپنگ اسٹاف میں سے 60 فیصد کا ڈیوٹیوں پر موجود نہ ہونا ہے، حاضریوں کیلئے لگائی گئی تھمب مشینیں بھی ان گھوسٹ ملازمین کی بیخ کنی میں مددگار ثابت نہیں ہو سکیں اور اس عمل کی وجہ سے کراچی میں سوئپنگ کا تصور تیزی سے دم توڑتا جا رہا ہے کراچی کی بلدیاتی اداروں کی کونسلوں میں موجود اراکین کونسل عموما اپنی کونسل میں یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں اپنے علاقوں میں سوئپنگ کیلئے اسٹاف میسر نہیں ہے جبکہ ماہانہ درجنوں سوئپرز کی تنخواہیں یوسی کے لحاظ سے جاری کر دی جاتی ہیں دلچسپ امر یہ ہے کہ سوئپنگ اسٹاف کو کنٹرول کرنے میں بورڈ تو بورڈ منتخب بلدیاتی نمائندگان بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں اسکے پیچھے بھی ملی بھگت اور معاونت کا کردار کارفرما ہے ان تمام حقائق کی روشنی میں سابق وزیر بلدیات سندھ سعیدغنی جو بڑی آسانی سے یہ کہہ گئے تھے کہ گھوسٹ ملازمین کا خاتمہ کریں گے لیکن اب موجودہ وزیربلدیات سیدناصرحسین شاہ کو کو یہ ذہن میں رکھنا اور منظم پالیسی مرتب کرنا ہوگی کہ انہیں کس طرح بلدیاتی اداروں سے گھوسٹ ملازمین کا قلع قمع کرنا ہے کیونکہ انہیں اس اقدام کو یقینی بنانے کیلئے کئی قسم کی رکاوٹیں درپیش آئیں گی، اور وہ کس طرح سندھ کے بلدیاتی اداروں میں کاروائی کرسکیں گے گھوسٹ ملازمین بلدیاتی و شہری اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں اگر ان کے خلاف حقیقتا کاروائی عمل میں لائی گئی تو کروڑوں روپے کی بچت کی جاسکتی ہے ممکن ہے یہ بچت اربوں تک پہنچ جائے اگر کاروائی کا دائرہ کار پورا سندھ ہولیکن اس عمل میں اگرگہن کیساتھ گہیوں والی مثال قائم کی گئی تو یہ بہت غلط ہوگا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here