وفاق اور سندھ حکومتوں کے درمیان باہمی نااتفاقی عوام الناس شدید ذہنی اذیت میں مبتلالاک ڈائون میں موثرحکمت عملی ندارد

0
576

تحریر: سیدمحبوب احمد چشتی
کوروناوائرس اور لاک ڈائون کسی عالمی سازش کا شاخسانہ ہے یا قدرت کی طرف سے آزمائش یہ تو دیر بدیر سامنے آجائے گا لیکن اس وائرس نے بہت ممالک کی انتظامی صلاحیتوں کی قلعی کھول دی ہے لیکن ہمارے پیارے وطن پاکستان میں اس کوروناوائرس نے وفاق اور سندھ حکومتوں کے درمیان باہمی نااتفاقی نے عوام الناس کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس وبائی مرض اور لاک ڈاؤن کو سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال کیا گیا لاک ڈائو ن میں مزید دوہفتوں کی توسیع جزوی طور پر بحال کرنے کافیصلہ درست ہوسکتا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں لاک ڈاؤن کی صورتحال سے شہری بیزار آنے لگے، مکمل حکمت عملی کے بغیر لاک ڈاؤن نے روز کمانے ،کھانے والے طبقے کو اذیت میں مبتلا کر دیا جب کہ راشن پہنچانے کا نظام موثر نہ ہونے سے سفید پوش طبقہ راشن تقسیم کے طریقہ کار کو دیکھ کر بھوک سے مرنے کو ترجیح دے رہا ہے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کی صورتحال ایسے ہی مناسب حکمت عملی کے برقرار رہی تو معاملات کشیدگی کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں اس سلسلے میں لاک ڈاؤن سے متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو لاک ڈاؤن سے قبل کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیئے تھا اگر گھروں تک غذائی اجناس بلاتعطل پہنچتی رہتیں تو اپنے گھروں تک محدود رہتے سفید پوشی کا بھرم برقرار رکھنے کیلئے گھر سے باہر نکل کر ایسے دوست، رشتہ داروں تک پہنچ رہے ہیں کہ وہ انہیں کھانا مہیا کر دیں تاکہ کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں راشن کی تقسیم کا عمل منصفانہ نہیں ہے ورنہ یہ معلوم کرنا مشکل نہیں ہے کہ کون حقدار ہے اور کون نہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے مریں نہ مریں لیکن بھوک سے ضرور مر جائیں گے انہوں نے وفاقی، صوبائی حکومتوں سے گزارش کی ہے کہ نئی بدلتی ہولناک صورتحال سے بچنے کیلئے متعلقہ اداروں کو پابند کریں کہ وہ اصل مستحقین تک راشن کی ترسیل کا بندوبست کریں جبکہ ضلع شرقی، وسطی میں سیل کی گئی یوسیز میں بھی صورتحال کافی گھمبیر ہے راشن پہنچ ضرور رہا ہے لیکن اس کی مکمل طور پر مستحقین تک فراہمی یقینی نہیں دکھائی دے رہی ہے عوام کا یہ کہنا ہے کہ اگر راشن پہنچانے کا مکمل انتظام مانیٹرنگ کے ساتھ یوسیز کو دے دیا جائے تو باآسانی مستحقین وضرورت مندوں تک راشن کی تقسیم یقینی بنائی جاسکتی ہے.بہت ساری مثالیں اسی شہر قائد میں فلاحی تجربہ رکھنے والوں نے قائم کی ہیں بات صرف ان پر اعتماد کرنے کی ہے احتیاطی تدابیر اوربنیادی سہولیات کی فراہمی ارباب اختیار کی ذمہ داری ہے اور آخری بات عالمی سطع پر کچھ خاص یقین دھانی اور کچھ فراہمی پر اب یہ کوروناوائرس اور لاک ڈائون کا معاملہ باہمی مالی مشاورت ومفاہمت لیکن باعزت طریقے سے ختم ہوجانا چاہیئے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here