News

ہمیں نئی نسل میں مادری زبان کی اہمیت کے شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار

پاکستان میں پی ایس ایل موسم بہار بن کر آیا ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار
کراچی سرکلر ریلوے میں متاثرین کا گھر چھینا جارہا ہے۔چیف حسٹس صاحب سے درخواست ہے غریبوں کے مسائل سنیں۔ڈاکٹر فاروق ستار
کراچی(اسٹاف رپورٹ) سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم پاکستان) بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب میں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے پہنچے جبکہ شہر کراچی میں غریبوں اور مظلوموں کے گھر مسمار کیے جانے کے احتجاج میں شرکت بھی کی اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیل مل کے 6000 ملازمین کے واجبات فوری ادا کیے جائیں۔40، 40 سالہ تنخواہوں میں سے ملازمین کی کٹوتی کی گئی ان کی واجبات ادا کیے جائیں حکومت 6000 ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لئے خصوصی فنڈ مختص کرے۔ملازمین نے بڑی محنت سے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی جمع کی جس کی ادائیگی نہ ملنا افسوس کی بات ہے۔چند ادارے لائنزیریا کو توڑنے کی بات کر رہے ہیں۔لائنزیریا کے مکینوں کو بے دخل نہیں ہونے دینگے۔لائنزایریا کے مکینوں کو لیز ملنی چائیے۔گلشن معمار میں چائنہ کٹنگ ہورہی ہے اس کی مذمت کرتا ہوں۔ادارے اپنا کام درست کرتے تو آج اتنے قبضے نہ ہوتے۔گلشن معمار میں ایک اچھی بستی بنی تھی لیکن لینڈ مافیا اسے بھی تباہ کر رہے ہیں۔میری چیف جسٹس صاحب سے درخواست ہے کہ وہ ان غریبوں اور مظلوموں کی بات سنیں اور ان کے مسائل حل کریں۔کراچی سرکلر ریلوے میں متاثرین کا گھر چھینا جارہا ہے اور جس جس کے گھر مسمار ہوچکے اور جس کے گھر مسمار ہونے جارہے ہیں ان سب کو معاوضہ دیا جائے۔کے سی آر منصوبہ کے نام پر بہت سے لیز شدہ گھروں کو بھی مسمار کیا جارہا ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار کراچی کی غریب اور مظلوم عوام کا جسطرح ساتھ دینے احتجاج میں پہنچے بالکل اسی طرح وہ پاکستان کے کرکٹرز کی حوصلہ افزائی کرنے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم کی افتتاحی تقریب میں بھی پہنچے جہاں انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان سپر لیگ کے قیام کو موسم بہار کا نام دیا اور کہا کہ کراچی اور پاکستان میں بہار کا سیزن بہت کم آتا ہے اور پی ایس ایل بہار کے موسم کی طرح ہے۔پی ایس ایل آتا ہے تو بہار آتی ہے۔امید کرتے ہیں اس سال دیگر بین القوامی ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی۔پیٹرول نہیں ہے لوگ پیدل چل کر میچ دیکھنے آئے ہیں۔پیٹرول نہ ہونے کے باوجود بڑی تعداد اسٹیڈیم میں موجود ہے یہ عوام پرجوش ہے مگر کس کس تکلیف کا رونا روئیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ ساری ہی ٹیمیں اپنی ہیں۔فطری طور پر کراچی ہمارا شہر ہے۔کراچی کنگز فیورٹ ٹیم ہوگی۔جبکہ مادری زبان کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مادری زبان کے عالمی دن کے موقع پر مختلف زبانیں بولنے والے تمام پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانیں میٹھی اور خوبصورت ہیں مگر قومی زبان “اردو” مٹھاس اور خوبصورتی میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔ہمیں نئی نسل میں مادری زبان کی اہمیت کے شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ ہمیشہ ہمارے ملک میں مختلف زبانوں کے رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو اور خوشیاں قائم رکھےآمین۔

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *

News

ایم پی اے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا سرکاری اسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہوچکی ہے، ویکسین کیلئے فراہم کردہ رقم کہاں گئی، ڈاکٹر عمران علی شاہ کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی اور معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر سید عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا اور کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم میں اضافہ تو کیا گیا لیکن افوس کی بات یہ ہے کہ آج تک سابقہ منصوبے التوا کا شکار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں ہیلتھ بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم 132 ارب سے بڑھا کر 172 ارب کردی گئی ہے جو بلاشبہ اچھا اقدام ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بھی کراچی سمیت اندورن سندھ میں سرکاری اسپتال اور میڈیکل سینٹرز زبوں حالی کا شکار ہیں، خاص طور پر لیاری جنرل اسپتال کی حالت دیکھ کر شرم آتی ہے جہاں آرتوپیڈک کیس کے مریض کو کہا جاتا ہے کہ اپنا سمان خود ضرید کر لاو تو آپکی سرجری ہوجائے گی، دوسرے سول اسپتال کراچی میں ایمرجینسی ادویات تک میسر نہیں ہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ 18 ارب روپے جو ادویات کیلئے مختص کیئے گئے ہیں وہ کہاں گئے، اسی طرح کووڈ ویکسین کیلئے وفاق نے سندھ کو125 ارب روپے کی رقم فراہم کی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ میری اطلاع کے مطابق آج تک سندھ حکومت نے ایک روپے کی ویکسین نہیں خریدی، خدارا سندھ کے عوام پر رحم کریں، لسانی تعصب سے بالاتر ہوکر صوبہ کے عوام کو میڈیکل سروسز فارہم کرنے کیلئے اقدامات کیئے جائیں۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے سات ڈسٹرکتس میں ایک میں بھی پی پی ایچ آئی نہیں جوبڑے افسوس کی بات ہے، سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ لیاری کراچی میں 80 کروڑ کی لاگت سے 25 بستروں پر مشتمل اسپتال گزشتہ دس سالوں سے زیر تعمیر ہے لیکن آج تک وہ مکمل نہیں ہوا، وزیر اعلی مراد علی شاہ نے اس سال بھی بجٹ مین کئی نئی اسکیمیںاعلان کی ہیں لیکن میرا موقف یہ ہے کہ خدارا پہلے زیر التوا پروجیکٹس تو مکمل کرلیں۔ انھوں نے سندھ ہیلتھ کمیشن پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوے کہا کہ یہ بالکل غیر فعال ہوچکاہے۔ ان کی سرپرستی میں آج بھی جعلی ڈاکٹروں اور غیر رجسٹرڈ میڈیکل سینٹرز میں مک مکا کے بعد ان کی پریکٹس کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کے عوام صاف پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں، کراچی سمیت اندورن سندھ میں آج تک فلٹر پلانٹس ایسے نہییں لگائے گئے جن سے لوگوں کو صاف پانی میسر ہو۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت اب تک 164 ارب روپے کی ویکسین لوگوں کو لگا چکی ہے جبکہ مزید ویسین منگوائی جارہی ہے، کورونا ویکسین پر بھی سندھ حکومت سیاست کررہی ہے جبکہ وفاقی حکومت بلاتفریق عوام کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں اور اپنے وزیر اعظم عمران خان کے ویثرن کو لیکر پورے ملک کی عوام کی خسمت کیلئے کوشاں ہیں، دوسری جانب سندھ حکومت کورونا اور پانی کے ایشوز کو بنیاد بناکر لسانی تعصب کو ہوادے رہی ہے۔

REGISTERED NOW