سپریم کورٹ کے جسٹس فیصل عرب کا ڈاکٹر پنجوانی سینٹر میں ڈی این اے فرانزک لیب کا دورہ

0
52
سپریم کورٹ کے جسٹس فیصل عرب کا ڈاکٹر پنجوانی سینٹر میں ڈی این اے فرانزک لیب کا دورہ

کراچی۔سپریم کورٹ کے مونیٹرنگ جج برائے انسداد دہشت گردی کورٹ جسٹس فیصل عرب نے ہفتے کوجمیل الرحمن سینٹر فار جینومکس ریسرچ، جامعہ کراچی میں صوبے کی پہلی جدید سندھ فرانزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری (ایس ایف ڈی ایل) کا دورہ کیا، اس موقع پر جسٹس محمد اقبال کھولڑو، جسٹس عمر سیال، جج بشیر احمد کھوسو، چیف سیکریٹری ممتاز علی شاہ، پروسیکیوٹر جنرل سندھ ڈاکٹر فیض شاہ، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن، ممبر انسپیکشن ٹیم ہائی کورٹ اے رزاق، سیکریٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ عبدالکبیر قاضی، بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، ایس ایف ڈی ایل کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر اشتیاق احمد سمیت متعدد اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ یہ فرانزک لیبارٹری بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ کے تحت چلنے والے تحقیقی ادارے جمیل الرحمن سینٹر فار جینومکس ریسرچ میں قائم کی گئی ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے فرانزک ڈی این اے لیبارٹری کا تفصیلی دورہ کیا لیبارٹری میں موجود اعلیٰ تربیت یافتہ اسٹاف، جدید آلات اور جدید طرز کی عمارت پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا اورپروفیسر اقبال چوہدری اور اُن کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا، اس سے قبل جسٹس فیصل عرب نے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر میں وزیر اعظم کی نیشنل ٹاسک فورس برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن سے بھی مختصرملاقات کی۔ بعدِازاں جسٹس فیصل عرب نے ایک اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا کہ یہ سندھ میں اپنی نوعیت کی پہلی اور پاکستان میں دوسری فورنسک لیبارٹری ہے جسے جمیل الرحمن سینٹر فار جینومکس ریسرچ میں صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عزرا پیچو کی زیرِ قیادت انتہائی قلیل مدت میں قائم کیاگیا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے لیبارٹری کے حوالے سے تفصیلی گفتگوکی، انھوں نے کہا اس لیبارٹری کی مدد سے قانوان نافذ کرنے والے اداروں کی کیس حل کرنے میں معاونت کی جائے گی انھوں نے کہا ڈی این اے ایک طاقت ور ثبوت کے طور پر قانونی تحقیقات میں معاون ہوگا، انھوں نے کہا کہ اس لیبارٹری کا موازنہ دنیا کی کسی بھی جدید فورنسک لیب سے کیا جاسکتا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here