News

خانقاہ تاجیہ امجدیہ میں شب برأت کی عبادات کا اہتمام

خانقاہ تاجیہ امجدیہ میں شب برأت کی عبادات کا اہتمام
محفل ذکر و نعت، خصوصی بیان اور صلوٰۃ التسبیح کا انعقاد ، قاضی سید میروجاہت علی شاہ تاجی نے خصوصی دعا کرائی
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) بزمِ تاجیہ امجدیہ کے زیراہتمام خانقاہ تاجیہ امجدیہ میںہر سال کی طرح اس سال بھی شب برأت کی مناسبت سے محفل ذکر و نعت، خصوصی بیان اور صلوٰۃ التسبیح کا انعقاد کیاگیا۔ ہدیہ نعت کی سعادت نامور ثناء خوانِ رسولﷺ سیّد اَنس علی اور جنید تاجی نے حاصل کی۔ جبکہ شب برأت کے فضائل پر گدی نشین خانقاہ تاجیہ امجدیہ قاضی سید میر وجاہت علی شاہ تاجی نے خصوصی بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ شب برأت کا مقصد اللہ ربّ العزت کی عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کا محاسبہ بھی کرنا ہے۔ حقوق العباد کی ادائیگی سب سے اہم عنصر ہے۔ جب تک ہم حقوق العباد کی ادائیگی نہیں کرتے، اُس وقت تک ہماری دیگر عبادات کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ شب برأت کے پیغامِ حقیقی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صلوٰۃ التسبیح کی نماز علامہ خالد قادری تاجی ملاڑی کی اِقتداء میں ادا کی گئی۔ بعد ازاں ملک و ملّت کےلئے خصوصی دعا کی گئی۔ محفل کے شرکاء میں خلیفہ ندیم خان تاجی، صدر پاکستان نیشنل یونین آف جرنلسٹس (سندھ) ذیشان یٰسین تاجی، جنرل سیکریٹری پاکستان نیشنل یونین آف جرنلسٹس (سندھ) قاضی سید میر رامش علی تاجی، قاضی سید میر سُمیت علی تاجی، قاضی سید میر شاہ میر علی تاجی، قاضی سید میر شاہ زیب علی تاجی، طلحہ تاجی، ابان تاجی، ریان تاجی، محمد خان تاجی، پرویز علی تاجی، حاکم علی تاجی، مبین علی تاجی، عمران تاجی، امان تاجی، احسن تاجی، زین العابدین تاجی، معین تاجی، رجب علی تاجی، امیر بخش تاجی، رافیل رضا تاجی، عبدالمعیز تاجی، فیصل تاجی و دیگر معززین اور معتقدین نے شرکت کی۔

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *

News

ایم پی اے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا سرکاری اسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہوچکی ہے، ویکسین کیلئے فراہم کردہ رقم کہاں گئی، ڈاکٹر عمران علی شاہ کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی اور معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر سید عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا اور کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم میں اضافہ تو کیا گیا لیکن افوس کی بات یہ ہے کہ آج تک سابقہ منصوبے التوا کا شکار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں ہیلتھ بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم 132 ارب سے بڑھا کر 172 ارب کردی گئی ہے جو بلاشبہ اچھا اقدام ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بھی کراچی سمیت اندورن سندھ میں سرکاری اسپتال اور میڈیکل سینٹرز زبوں حالی کا شکار ہیں، خاص طور پر لیاری جنرل اسپتال کی حالت دیکھ کر شرم آتی ہے جہاں آرتوپیڈک کیس کے مریض کو کہا جاتا ہے کہ اپنا سمان خود ضرید کر لاو تو آپکی سرجری ہوجائے گی، دوسرے سول اسپتال کراچی میں ایمرجینسی ادویات تک میسر نہیں ہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ 18 ارب روپے جو ادویات کیلئے مختص کیئے گئے ہیں وہ کہاں گئے، اسی طرح کووڈ ویکسین کیلئے وفاق نے سندھ کو125 ارب روپے کی رقم فراہم کی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ میری اطلاع کے مطابق آج تک سندھ حکومت نے ایک روپے کی ویکسین نہیں خریدی، خدارا سندھ کے عوام پر رحم کریں، لسانی تعصب سے بالاتر ہوکر صوبہ کے عوام کو میڈیکل سروسز فارہم کرنے کیلئے اقدامات کیئے جائیں۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے سات ڈسٹرکتس میں ایک میں بھی پی پی ایچ آئی نہیں جوبڑے افسوس کی بات ہے، سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ لیاری کراچی میں 80 کروڑ کی لاگت سے 25 بستروں پر مشتمل اسپتال گزشتہ دس سالوں سے زیر تعمیر ہے لیکن آج تک وہ مکمل نہیں ہوا، وزیر اعلی مراد علی شاہ نے اس سال بھی بجٹ مین کئی نئی اسکیمیںاعلان کی ہیں لیکن میرا موقف یہ ہے کہ خدارا پہلے زیر التوا پروجیکٹس تو مکمل کرلیں۔ انھوں نے سندھ ہیلتھ کمیشن پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوے کہا کہ یہ بالکل غیر فعال ہوچکاہے۔ ان کی سرپرستی میں آج بھی جعلی ڈاکٹروں اور غیر رجسٹرڈ میڈیکل سینٹرز میں مک مکا کے بعد ان کی پریکٹس کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کے عوام صاف پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں، کراچی سمیت اندورن سندھ میں آج تک فلٹر پلانٹس ایسے نہییں لگائے گئے جن سے لوگوں کو صاف پانی میسر ہو۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت اب تک 164 ارب روپے کی ویکسین لوگوں کو لگا چکی ہے جبکہ مزید ویسین منگوائی جارہی ہے، کورونا ویکسین پر بھی سندھ حکومت سیاست کررہی ہے جبکہ وفاقی حکومت بلاتفریق عوام کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں اور اپنے وزیر اعظم عمران خان کے ویثرن کو لیکر پورے ملک کی عوام کی خسمت کیلئے کوشاں ہیں، دوسری جانب سندھ حکومت کورونا اور پانی کے ایشوز کو بنیاد بناکر لسانی تعصب کو ہوادے رہی ہے۔

REGISTERED NOW