سرسید یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام گرین بلڈنگ ورکشاپ کا انعقاد

0
795
سرسیدیونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر ولی الدین، گرین بلڈنگ کونسل کے چیف ایگزیکیٹو عقرب علی رانا، شعبہ سول انجینئرنگ کے سربراہ ڈاکٹر محمد عمران اور شعبہ آرکیٹکچر کے سربراہ آرکیٹیکٹ فضل نور گرین بلڈنگ کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ پر خطاب کر رہے ہیں

سرسید یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام گرین بلڈنگ ورکشاپ کا انعقاد
آلودگی سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے گرین بلڈنگ ایک بہتر حل ہے۔۔وائس چانسلر ولی الدین
کراچی:اسٹاف رپورٹر) سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے گرین بلڈنگ کے موضوع پر ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں پاکستان گرین بلڈنگ کونسل
کے چیف ایگزیکیٹو و بانی ممبر عقرب علی رانانے گرین بلڈنگ کی افادیت اور اہمیت پر ایک معلوماتی لیکچر دیا۔اس ورکشاپ کا اہتمام شعبہ انجینئرنگ کی اسسٹنٹ پروفیسر نادیہ قمر، لیکچرر اریبہ سعید اور لیکچررفائزہ افضل نے کیا تھا۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرولی الدین نے کہا کہ قدرتی وسائل تیزی سے ختم ہورہے ہیں۔اس لیے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ آپ مسئلے کا حل تلاش کرنے کا ذریعہ بنیں، خود مسئلہ نہ بنیں۔دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے عمل سے ان وسائل کی کمی پر قابو پانے میں کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔ای پی اے (EPA) کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ٹن کاغذ کو دوبارہ قابل استعمال بنا کر ہم 17درخت، 380گیلن آئل، 3کیوبک گززمینی جگہ، 4000 کلو واٹ توانائی اور 7000گیلن پانی کی بچت کر سکتے ہیں۔لوگوں کو آلودگی کی روک تھام کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیے اور ہم ایکو فرینڈلی eco-friendly چیزوں اور مصنوعات کے استعمال سے بہتر ماحول کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
وائس چانسلر ولی الدین نے توجہ دلائی کہ آلودگی سے پاک معاشرے کی تشکیل کے لیے گرین بلڈنگ ایک بہتر حل ہے۔ یہ عمارت کے لائف سائیکل کے دوران ماحول کی آلودگی اور موثر وسائل کے ذمہ دار عناصر جیسے ڈیزائن، کنسٹرکشن، دیکھ بھال، تزئین و آرائش، ڈی کنسٹرکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈھانچہ بناتا ہے۔ یہ طریقہ کار بچت، افادیت، پائیداری اور آرام دہ کے لحاظ سے کلاسیکی طرز تعمیر کی توسیع شدہ شکل ہے اور اس سے مطابقت رکھتا ہے۔گرین بلڈنگ کو پائیدار اور اعلیٰ کارکردگی کی عمارت بھی کہا جاتا ہے۔
آرکیٹیکٹ اور عمارت کی تعمیر کرنے والے (developer) کے مابین فاصلہ کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان گرین بلڈنگ کے چیف ایگزیکیٹو عقرب علی رانا نے کہا کہ دونوں کو ایک سمت میں ہونا چاہئے۔دیکھا گیا ہے کہ آرکیٹیکٹ، عمارت کی تعمیر کرنے والے کا زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور پھر ان سے یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ وہ ان کے حسبِ منشا گرین بلڈنگ بنائے۔ہر گھر کی چھت پر ایک گارڈن ہونا چاہئے جہاں سبزیاں اگائی جاسکیں۔اس سے ماحول کی بہتری اور بچت دونوں ممکن ہے۔ملازمتوں کے مواقع اسی وقت پیدا ہوں گے جب مارکیٹ میں منصوبوں پر کام ہورہا ہو۔
شعبہ سول انجینئرنگ کے سربراہ ڈاکٹرمحمد عمران نے کہا کہ تعمیراتی سرگرمیوں سے ملازمتوں کے دروازے کھلیں گے اور اس علاقے میں ترقی ہوگی۔انھوں نے ایک بہترپائیدار اور ترقیاتی ماحول کے لیے کم قیمت، قابلِ بھروسہ، پائیدار اور جدید توانائی کے ذرائع تک رسائی کو یقینی بنانے کا مشورہ بھی دیا۔
شعبہ آرکیٹکچرکے سربراہ آرکیٹیکٹ فضل نور نے کہا کہ ہم مقامی پریکٹس کو سمجھنے اور اس کی قدر کرنے کی بجائے باہر کے کلچر کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ہمیں اپنی طرز معاشرت اور ثقافتی و سماجی اقدار کے مطابق تعمیرات کرنی چاہئے۔عمارتوں اور گھروں کی بے تحاشا تعمیر اور وسیع پیمانے پر چیزوں اور مصنوعات کی تیاری کے عمل سے ہم فطرت کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here