News

سندھ حکومت فنکاروں کے لیئے بھی ریلیف پیکیج کا اعلان کرے۔ زاہد رحیم

کورونا لاک ڈائوں سے متاثراسٹیج فنکاروں کی مدد کیجائے۔ سلیم آفریدی
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) فنکار بہت حساس ھوتا ھے وہ دکھ برداشت کرکے بھی دوسروں میں خوشیا ں بانٹتا ھے ۔ کورونا لاک ڈائوں نے کراچی کے فنکاروں بلخصوص اسٹیج کے فنگاروں کے گھروں کے بھی چولہے ٹھنڈے ھوگئے ھیں۔ ان خیالات کا اظہار مشہور ومعروف اسیٹیج فنکار اور کراچی فنکار ایکشن فورم کے سربراہ سلیم آفریدی نے خدمت عوام ویلفیئر آرگنائیزیشن کے بانی وچیئرمین اور ممتاز سماجی کارکن زاہد رحیم سے ملاقات کے موقع پر کہی۔ سلیم آفریدی نے خدمت عوام ویلفیئر آرگنائیزیشن کی عوام کے لیئے بے لوث، مخلصانہ خاص کر میڈیکل خدمات کو سراہتے ھوئے کراچی کے مخیئر اور صاحب ثروت افراد سے اپیل کی ھے کہ زاہد رحیم اور ان کی این جی او کے ساتھ بھرپور تعاون اور سرپرستی کریں تاکہ یہ اور اچھے طریقہ سے غریب ، ضروتمند سفید پوشوں کی خدمت کرسکیں۔ سماجی کارکن زاہد رحیم نے کراچی فنکار ایکشن فورم سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ھوئے کہا کہ ہمیں فنکاروں کی پریشانیوں کو بھی سمجھنا چاہئیے۔ آرٹ اور آرٹسٹ لور کو اپنا کردار ادا کرنا چائیے۔ انھوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر ثقافت، کمشنر کراچی اور آرٹس کونسل کراچی کے احمد شاہ سے اپیل کی ھے کہ اسٹیج اور دیگر فنکاروں کے لیئے فوری طورپر کیش ریلیف پیکیج کا ا علان کرکے اور عید سے قبل ان کو ادئیگی کرکے فنکاروں کو عید کی خوشیوں میں شریک کریں اس ملاقات میں خدمت عوام ویلفیئر آرگنائیزیشن کے فعال کارکن میمون اسلام، محمد شارق انور بھی موجود تھے۔

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *

News

ایم پی اے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا سرکاری اسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہوچکی ہے، ویکسین کیلئے فراہم کردہ رقم کہاں گئی، ڈاکٹر عمران علی شاہ کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی اور معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر سید عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا اور کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم میں اضافہ تو کیا گیا لیکن افوس کی بات یہ ہے کہ آج تک سابقہ منصوبے التوا کا شکار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں ہیلتھ بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم 132 ارب سے بڑھا کر 172 ارب کردی گئی ہے جو بلاشبہ اچھا اقدام ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بھی کراچی سمیت اندورن سندھ میں سرکاری اسپتال اور میڈیکل سینٹرز زبوں حالی کا شکار ہیں، خاص طور پر لیاری جنرل اسپتال کی حالت دیکھ کر شرم آتی ہے جہاں آرتوپیڈک کیس کے مریض کو کہا جاتا ہے کہ اپنا سمان خود ضرید کر لاو تو آپکی سرجری ہوجائے گی، دوسرے سول اسپتال کراچی میں ایمرجینسی ادویات تک میسر نہیں ہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ 18 ارب روپے جو ادویات کیلئے مختص کیئے گئے ہیں وہ کہاں گئے، اسی طرح کووڈ ویکسین کیلئے وفاق نے سندھ کو125 ارب روپے کی رقم فراہم کی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ میری اطلاع کے مطابق آج تک سندھ حکومت نے ایک روپے کی ویکسین نہیں خریدی، خدارا سندھ کے عوام پر رحم کریں، لسانی تعصب سے بالاتر ہوکر صوبہ کے عوام کو میڈیکل سروسز فارہم کرنے کیلئے اقدامات کیئے جائیں۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے سات ڈسٹرکتس میں ایک میں بھی پی پی ایچ آئی نہیں جوبڑے افسوس کی بات ہے، سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ لیاری کراچی میں 80 کروڑ کی لاگت سے 25 بستروں پر مشتمل اسپتال گزشتہ دس سالوں سے زیر تعمیر ہے لیکن آج تک وہ مکمل نہیں ہوا، وزیر اعلی مراد علی شاہ نے اس سال بھی بجٹ مین کئی نئی اسکیمیںاعلان کی ہیں لیکن میرا موقف یہ ہے کہ خدارا پہلے زیر التوا پروجیکٹس تو مکمل کرلیں۔ انھوں نے سندھ ہیلتھ کمیشن پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوے کہا کہ یہ بالکل غیر فعال ہوچکاہے۔ ان کی سرپرستی میں آج بھی جعلی ڈاکٹروں اور غیر رجسٹرڈ میڈیکل سینٹرز میں مک مکا کے بعد ان کی پریکٹس کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کے عوام صاف پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں، کراچی سمیت اندورن سندھ میں آج تک فلٹر پلانٹس ایسے نہییں لگائے گئے جن سے لوگوں کو صاف پانی میسر ہو۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت اب تک 164 ارب روپے کی ویکسین لوگوں کو لگا چکی ہے جبکہ مزید ویسین منگوائی جارہی ہے، کورونا ویکسین پر بھی سندھ حکومت سیاست کررہی ہے جبکہ وفاقی حکومت بلاتفریق عوام کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں اور اپنے وزیر اعظم عمران خان کے ویثرن کو لیکر پورے ملک کی عوام کی خسمت کیلئے کوشاں ہیں، دوسری جانب سندھ حکومت کورونا اور پانی کے ایشوز کو بنیاد بناکر لسانی تعصب کو ہوادے رہی ہے۔

REGISTERED NOW