کے ڈی اے ایمپلائز یونین کی درخواست پر ممبر صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نےوزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ سے ورک چارج ملازمین کے مسئلے پر ٹیلی فونک رابطہ۔

0
773

کے ڈی اے ایمپلائز یونین کی درخواست پر ممبر صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نےوزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ سے ورک چارج ملازمین کے مسئلے پر ٹیلی فونک رابطہ۔

کراچی(نمائندہ خصوصی) کے ڈی اے ایمپلائز یونین کی درخواست پر سابقہ پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی اور موجودہ رابطہ کمیٹی ممبر و ممبر صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ سے کے ڈی اے ورک چارج ملازمین کے مسئلے پر ٹیلی فونک رابطہ کیا اور اْن سے درخواست کی کہ ورک چارج ملازمین کی دو سال سے تنخواہیں بندہیں جس پر وزیر بلدیات نے کہا کہ ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس پر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ہم کمیٹی کے کام کو روکنے کی با ت نہیں کر رہے اس وقت پورا ملک کورونا وائرس کی زد میں ہے خاص طور پر کراچی میں بھی لاک ڈاؤن کو دو ہفتے ہونے والے ہے اس لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ورک چارج ملازمین کو کم از کم ایک ماہ کی تنخواہ دی جائے۔خواجہ اظہار الحسن نے وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کو یہ بھی بتایا کہ جو سندھ حکومت سے 20 کروڑ چالیس لاکھ کی گرا نٹ آتی ہے اس میں ان ورک چارج ملازمین کا شیئرز بھی آرہا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ان کو دو سال سے تنخواہیں نہیں دی جارہی جس پر وزیر بلدیات نے کہا میں اس مسئلے پر ہمدردانہ غور کرونگا۔ اس پرایمپلائز یونین کے ذمہ داران نے کہا کہ ہم وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کے احکامات کی منتظر ہے اگر اس کے باوجود بھی ان ورک چارج ملازمین کو بھوک و افلاس اور فاقہ کشی سے نہیں بچایاگیا اور تنخواہیں نہیں دی گئی تو ایمپلائز یونین اس لاک ڈاؤن کے دوران یا لاک ڈاؤن کے بعد خواجہ اظہار الحسن کی قیادت میں سوک سنیٹر میں ایک بھرپور مظاہرہ کیا جاسکتا ہے لہذا وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ سے ایمپلائز یونین یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ان ورک چارج ملازمین کی ایک ماہ کی تنخوا ہ جلد از جلد جاری کرنے کے احکامات دیئے جائیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here