News

سندھ ہائیکورٹ ۔پی ایس پی چئیرمین مصطفی کمال کی نااہلی سے متعلق فیصلہ محفوظ

سندھ ہائیکورٹ ۔پی ایس پی چئیرمین مصطفی کمال کی نااہلی سے متعلق فیصلہ محفوظ
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) ایڈووکیٹ سلمان مجاہد بلوچ درخواست گزار
1994ء سے 2002ء تک مصطفی’ کمال کے ایم ڈی سی کے ملازم رہے
پھر انھیں 2 جولائ ۲۰۰۲ کو مستقل غیر حاضری پر نوکری سے برخواست کردیا گیا۔
سرکاری نوکری سے برطرف ہونیوالا شخص ۵ سال کے لۓ نااہل ھوتا ھے۔
مصطفی کمال نے ۲۰۰۲ میں الیکشن لڑا جس کے لۓ وہ آئین کے آ ر ٹیکل 62 اور 63 کے تحت نا اہل تھے۔
مصطفی کمال نے ۲۰۰۲ کے الیکشن میں جھوٹا حلف نامہ جمع کرایا اور جھوٹ بولا جس کی وجہ سے وہ صادق اور آمین نہیں رہے ۔
مصطفی کمال آئین کے آ رٹی کل 62 ون ایف کے تحت نا اہل ھو چکے ھیں ۔
سپریم کورٹ اور ھائیکورٹ کے مختلف فیصلے درخواست گزار سلمان مجاھد نے عدالت عالیہ میں اپنے دلائل کے حق میں پیش کۓ۔
عدالت عظمی اور عدالت عالیہ کے فیصلوں کے تحت ایک بار کی نا اہلی ہمیشہ کی نا اہلی ہے۔
اگر کوئ شخص کا غزات نامزدگی جمع کرانے کے وقت نااہل تھا لیکن وہ کسی وجہ سے چیلنج نہیں ہوسکی اور بعد میں اس بات کا انکشاف ھوتا ہے تو وہ کبھی بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
اس قسم کی نااہلی کو ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لۓ کوئ وقت کی قید نہیں ہے۔ سلمان مجاھد کا اعلی عدلیہ کے فیصلوں سے دلائل۔
سلمان مجاہد کی پٹیشن کو عدالت نے کو وارنٹو کے تحت قابل سماعت قرار دیا اور درخواست گزار کی Locus Standing کو قانونی و آئینی قرار دیتے ہوۓ عدالت نے دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی.
سپریم کورٹ و ہائیکورٹ کے ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں مصطفی کمال کی نااہلی کی درخواست دائرکی گئی ہے۔ سلمان مجاہد بلوچ کی دلیل
اگر آئینی درخواست پر عدالت کا اعتراض ہوتا اور قابل سماعت قرار نہ دی جاتی توعدالت درخواست فوری مسترد کرتی اور حتمی دلائل سننے کے بعد محفوظ نہ کرتی۔
اس معاملہ کا انکشاف ۲۰۱۹ میں سابق مئیر وسیم اختر نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا کہ مصطفی کمال کے ایم ڈی سی کا ملازم تھا اور سٹی ناظم کے دور میں اپنی ماسٹر فائل ایک خاتون افسر سے زبردستی لے گیا تھا۔ عدالت کے استفسار پر سلمان مجاہد کا جواب
جی آپ نے کیا کہنا ہے؟ مصطفی کمال کے وکیل سے معزز عدالت کا استفسار
درخواست گزار کی پٹیشن قابل سماعت نہیں ہے۔ وکیل مصطفی کمال
درخواست ہر لحاظ سے قابل سماعت ہے۔ عدالت کا حکم
کیا آپ سلمان مجاہد کی طرح کوئ اعلی عد لیہ کے فیصلے بطور نظیر پیش کرنا چاہتے ہیں؟ عدالت کا مصطفی کمال کے وکیل سے سوال
سر میرے پاس پیش کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ حسان صابر کا جواب
فریقین کو سننے کے بعد معزز عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *

News

ایم پی اے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا سرکاری اسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہوچکی ہے، ویکسین کیلئے فراہم کردہ رقم کہاں گئی، ڈاکٹر عمران علی شاہ کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی اور معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر سید عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا اور کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم میں اضافہ تو کیا گیا لیکن افوس کی بات یہ ہے کہ آج تک سابقہ منصوبے التوا کا شکار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں ہیلتھ بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم 132 ارب سے بڑھا کر 172 ارب کردی گئی ہے جو بلاشبہ اچھا اقدام ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بھی کراچی سمیت اندورن سندھ میں سرکاری اسپتال اور میڈیکل سینٹرز زبوں حالی کا شکار ہیں، خاص طور پر لیاری جنرل اسپتال کی حالت دیکھ کر شرم آتی ہے جہاں آرتوپیڈک کیس کے مریض کو کہا جاتا ہے کہ اپنا سمان خود ضرید کر لاو تو آپکی سرجری ہوجائے گی، دوسرے سول اسپتال کراچی میں ایمرجینسی ادویات تک میسر نہیں ہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ 18 ارب روپے جو ادویات کیلئے مختص کیئے گئے ہیں وہ کہاں گئے، اسی طرح کووڈ ویکسین کیلئے وفاق نے سندھ کو125 ارب روپے کی رقم فراہم کی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ میری اطلاع کے مطابق آج تک سندھ حکومت نے ایک روپے کی ویکسین نہیں خریدی، خدارا سندھ کے عوام پر رحم کریں، لسانی تعصب سے بالاتر ہوکر صوبہ کے عوام کو میڈیکل سروسز فارہم کرنے کیلئے اقدامات کیئے جائیں۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے سات ڈسٹرکتس میں ایک میں بھی پی پی ایچ آئی نہیں جوبڑے افسوس کی بات ہے، سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ لیاری کراچی میں 80 کروڑ کی لاگت سے 25 بستروں پر مشتمل اسپتال گزشتہ دس سالوں سے زیر تعمیر ہے لیکن آج تک وہ مکمل نہیں ہوا، وزیر اعلی مراد علی شاہ نے اس سال بھی بجٹ مین کئی نئی اسکیمیںاعلان کی ہیں لیکن میرا موقف یہ ہے کہ خدارا پہلے زیر التوا پروجیکٹس تو مکمل کرلیں۔ انھوں نے سندھ ہیلتھ کمیشن پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوے کہا کہ یہ بالکل غیر فعال ہوچکاہے۔ ان کی سرپرستی میں آج بھی جعلی ڈاکٹروں اور غیر رجسٹرڈ میڈیکل سینٹرز میں مک مکا کے بعد ان کی پریکٹس کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کے عوام صاف پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں، کراچی سمیت اندورن سندھ میں آج تک فلٹر پلانٹس ایسے نہییں لگائے گئے جن سے لوگوں کو صاف پانی میسر ہو۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت اب تک 164 ارب روپے کی ویکسین لوگوں کو لگا چکی ہے جبکہ مزید ویسین منگوائی جارہی ہے، کورونا ویکسین پر بھی سندھ حکومت سیاست کررہی ہے جبکہ وفاقی حکومت بلاتفریق عوام کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں اور اپنے وزیر اعظم عمران خان کے ویثرن کو لیکر پورے ملک کی عوام کی خسمت کیلئے کوشاں ہیں، دوسری جانب سندھ حکومت کورونا اور پانی کے ایشوز کو بنیاد بناکر لسانی تعصب کو ہوادے رہی ہے۔

REGISTERED NOW