سندھ میں فرضی نہیں حقیقی تعلیمی ایمرجنسی لگائی جائے ،مقصود محمود مہسیر

0
340

 

سندھ میں فرضی نہیں حقیقی تعلیمی ایمرجنسی لگائی جائے ،مقصود محمود مہسیر
اساتذ ہ کی نئی بھرتیاں مستقل بنیادوں پر اور تعلیمی بجٹ میںسوفیصد اضافہ کیا جائے،صدر گسٹا
نئی بھرتیوں کے خواہشمند امیدواروں کیلئے ٹیسٹ کی تیاری کے حوالے سے ورکشاپ ہوں گے
گسٹا مہیسر کے تحت منعقدہ تعلیمی سیمینار سے سیکریٹری بورڈ آف ریونیو اور دیگر مقررین کا خطاب
کراچی:(طلعت محمود اسٹاف رپورٹر) سندھ کے سرکاری اسکولوں کی نمائندہ تنظیم گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن ( گسٹا مہیسر ) سندھ نے صوبے میں فرضی نہیں بلکہ حقیقی تعلیمی ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں37ہزار نئی بھرتیاں مستقبل بنیادوں پر کی جائیں ، تعلیم کے بجٹ میں100فیصد اضافہ کیا جائے ،جدید نصاب کے پیش نظر اساتذ ہ کی تربیت کیلئے ادارے قائم کئے جائیں ،سندھ میں جہاں بھی سرکاری اسکولز بند پڑے ہیںانہیں فوری طور پرفعال کیا جائے ،اسکولوں کی خستہ حالی کو دور اور اساتذہ کی کمی پوری کی جائے،ایس او پیز کے تحت سندھ بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں کو فی الفور کھولا جائے ۔ گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن ( گسٹا مہیسر ) سندھ کے تحت تعلیم کے عالمی دن کے موقع پر گذشتہ روز تعلیمی سمینار مقامی ہوٹل میں منعقد کیا گیا۔ تعلیمی سمینارسے مہمان خصوصی سیکریٹری بورڈ آف ریونیو منور علی مہیسر، گسٹا مہیسر کے مرکزی صدر مقصود محمود مہیسر ،سماجی رہنما اور دانشور غلام نبی مورائی ،پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر منیر احمد بھٹی ،سندھ ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے فیروز منصور ،یونیورسٹی آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کے وائس چانسلر بھائی خان ،سیکریٹری جنرل گسٹا عبد الحفیظ مہر،پیر غلام محی الدین ،پروفیسر سراج سیال ،پروفیسر رﺅف چانڈیو ،لیاقت میرانی ،غلام رسول خاصخیلی نے بھی خطاب کیا جبکہ سمینار میںگسٹا کی مرکزی قیادت اور کراچی ڈویژن سمیت سندھ بھر کے مختلف اضلاع کے ذمہ داروں اور مختلف تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تعلیمی سیمینار سے مہمان خصوصی سیکریٹری بورڈ آف ریونیو منور علی مہیسراستاد کی ذمہ داری وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں سے ماں کی ختم ہوتی ہیں ،اساتذہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کی اچھی تربیت کرے میں کسی برادری پر یقین نہیں رکھتا تعلیم کومیںاگر خرابی ہے تو اسکو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری بھی اساتذ ہ کی ہے ۔اس موقع پر خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن ( گسٹا مہیسر ) سندھ کے مرکزی صدر مقصود محمود مہیسر نے کہا کہ گسٹا صرف اساتذہ کے حقوق کی جنگ لڑنے کی تنظیم نہیں بلکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں کے حقوق اور تعلیم و تربیت کرنیوالی تنظیم بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گسٹا مہیسر نے اپنے پلیٹ فارم سے محکمہ تعلیم میں نئی بھرتیوں کے خواہشمند امیدواروں کو ٹیسٹ کی تیاری کرانے کیلئے ورکشاپ منعقد کرانے کا منصوبہ بنایا ہے اس حوالے سے تنظیم میں مشاورت کا سلسلہ جاری ہے نئی بھرتیوں کے اعلان کیساتھ ہی امیدواروں کیلئے ہر ضلع کی سطح پر ورکشاپ کا انعقاد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آن لائن تعلیم سندھ کے شہری علاقوں تک محدود ہے جبکہ دیہی علاقوں کے بچے اس سے محروم ہے اس جانب بھی محکمہ تعلیم کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اساتذہ تعلیم کے وارث ہیںہم نے ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں تعلیمی سیمینارکا وعدہ کیا تھا آج کے بعد اب یہ سلسلہ سندھ کے تمام اضلاع میں مرحلہ وار جاری رہے گا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here