واقعہ کربلا حق پر ثابت قدم اور باطل سے ٹکرا جانے میں کسی بھی حد سے گزر جانے کا سبق دیتا ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی

0
361

واقعہ کربلا حق پر ثابت قدم اور باطل سے ٹکرا جانے میں کسی بھی حد سے گزر جانے کا سبق دیتا ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی
ہمیں دشمنان دین، اسلام اوردشمنان پاکستان کی سازشوں میں نہ خود آناہے اور نہ اپنی قوم کو آنے دینا ہے۔علامہ امین شہیدی
حسینیت ظلم کرنا نہیں سکھاتی،حسینیت یہ بتاتی ہے کہ ظلم کے سامنے ڈٹ جانا ہے اور پھر اللہ ظلم سہنے والے کوبھی فتحیاب کرتاہے۔علامہ فیصل عزیزی
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ واقعہ کربلا حق پر ثابت قدم اور باطل سے ٹکرا جانے میں کسی بھی حد سے گزر جانے کا سبق دیتا ہے۔حضرت امام حسین ؓ اور اہل بیت نے اسلام کی بقاء و سلامتی کے لئے جو عظیم قربانی پیش کی ہے اس کی تاریخ انسانی میں مثال ملنا مشکل ہے۔واقعہ کربلا کی روح یہ ہے کہ ظالم صرف وہ نہیں جو ظلم کر رہا ہے بلکہ ظالم وہ بھی ہے جو ظلم پر خاموش ہے۔ حسینیت ایک فکر ایک وژن کا نام ہے،حضرت امام حسینؓ نے دین اسلام کی بقاء اور احیا ء کے لئے اپنی جان نثار کرکے ایثار وقربانی کی ایک عظیم تاریخ کربلا کے میدان میں رقم کی۔ دین اسلام کی بقاء واحیاکے لئے عظیم قربانی دے کر اسلام کی آبیاری کی اور یزیدیت کو واصل جہنم کیا۔واقعہ کربلا کو فرقوں میں قید کرنے کی کوشش بے مقصد ہے کیونکہ کربلا وہ درسگاہ ہے جس کا پیغام فرقہ ومذہب کے امتیاز سے مبّرا ہے۔
ان خیالات کا اظہا رانہوں نے جامعہ کراچی کے دفتر مشیر امور طلبہ کے زیر اہتمام پارکنگ گراؤنڈ (بالمقابل آرٹس لابی) جامعہ کراچی میں منعقدہ ”یوم حسینؓ “ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر علامہ محمد امین شہیدی،علامہ شیخ اعجاز بہشتی،پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی زاہدی،مشیر امورطلبہ ڈاکٹر سید عاصم علی،برادرعاطرحیدر،ناصرعزیزی، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے عہدیداران،اساتذہ،طلباوطالبات اور دیگر نے شرکت کی۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ کربلاصرف ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک پیغام ہے اور حق کے لئے لڑنے کا پیغام ہے،حضرت امام حسین ؓ نے یہ ثابت کیا کہ وہ حق کے راستے پر تھے اور حق پر قائم رہ کر انہوں نے شہادت کا مقام حاصل کیا۔ آپ ؓ نے کسی ذات یا مقصد کے لئے نہیں بلکہ اسلام،انصاف اور حق کے لئے قربانی پیش کی۔
علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ ہمیں دشمنان دین، اسلام اوردشمنان پاکستان کی سازشوں میں نہ خود آناہے اور نہ اپنی قوم کو آنے دینا ہے۔ہمیں مل کر دشمن کو بھی پہچاننا ہے اور اپنی اس سرزمین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے مشترکہ جدوجہد بھی کرنی ہے۔تمام مسلمان حضرت امام حسین ؓ کے گرد پروانے کی طرح طواف کرتے ہیں اور حسین ؓ کو اپنا پیشوا،اپنے لئے اسوہ،اپنے لئے نمونہ عمل اور اسلامی تاریخ کا وہ ہیرومانتے ہیں جس نے اسلام کو حیات نوع بخشی۔حضرت امام حسین ؓ صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ عالم انسانیت کے ہیں۔فرقہ ورانہ لڑائیوں میں لڑنے والے گروہوں کو کبھی یہ کہتے نہیں سنا کہ یز ہماراپیشوا ہے لیکن حضرت امام حسین ؓ کے بارے میں ہر ایک سے سنا ہے کہ امام حسینؓ ہمارے امام بھی ہیں اور پیشوا بھی ہیں اور امام حسین ؓ ہمارے ہیں۔
علامہ فیصل عزیزی بندگی نے کہا کہ حضر ت امام حسین ؓ نے کربلا میں بتایا کہ اسلام مذہب نہیں ہے،اسلام دین ہے۔ حسین ابن علی نے کربلا کے میدان میں دین کی حقیقت بتائی ہے۔حسینیت کو کبھی بھی مسلک کے پس منظر میں نہیں دیکھیں،حسینؓ دین کے نمائندے ہیں،حسینؓ دین کی حقانیت ہیں۔جب حسین ابن علی کو مسلکوں میں بانٹ دیا جائے گا تو پھر وہ سب کچھ ہوگا جو آج ہورہاہے اور اسی حسین ؓ کو اگر دین کا نمائندہ سمجھ کر امت تسلم کرے گی تو پھرانتشار نہیں ہوگا۔حسینیت ظلم کرنا نہیں سکھاتی،حسینیت یہ بتاتی ہے کہ ظلم کے سامنے ڈٹ جانا ہے اور پھر اللہ ظلم سہنے والے کوبھی فتحیاب کرتاہے۔معرکہ حق وباطل میں ضروری نہیں کہ سرقلم کرکے جیت ہو،سرقلم کرواکر بھی جیت ہوتی ہے۔یزید سب کچھ کرکے مقصد نہیں پاسکا جبکہ حضرت امام حسین ؓ جان دے کر مقصد پاگئے اور جیت گئے۔
مشیر امورطلبہ ڈاکٹر سید عاصم علی نے تمام علماکرام،مہمانوں، اساتذہ کرام اورطلباوطالبات کا اس محفل میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس اوپیز کے تحت شرکت کرنے پر شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ دفتر مشیر امور طلبہ جامعہ کراچی یوم حسین ؓ کے انعقاد کو ہرسال باقاعدگی سے یقینی بنانے کے لئے کوشاں رہتاہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here