جامعہ کراچی میں صوبائی وزیر جامعات وبورڈ محمد اسماعیل راہوکا دھماکے کے مقام کا دورہ
صوبائی جامعات کی سیکیورٹی ایس اوپیزکے حوالے سے ازسرنو جائزہ لیاجائے گا اور نئے سیکیورٹی پلان کے حوالے سے بھی بات چیت کی جائے گی۔اسماعیل راہو
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر جامعات وبورڈز محمد اسماعیل راہونے کہا کہ صوبائی جامعات کی سیکیورٹی ایس اوپیزکے حوالے سے ازسرنو جائزہ لیاجائے گا اور نئے سیکیورٹی پلان کے حوالے سے بھی بات چیت کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ چین کا پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ہے اور پاک چین تعلقات کونقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور اس میں جو بھی ملوث پایاجائے گا اس کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے دھماکے کے مقام کا دورہ کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جامعہ کراچی کی قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ خاتون،قائم مقام رجسٹرارپروفیسر ڈاکٹر مقصود علی انصاری،کیمپس سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر محمد زبیر اور کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ برائے چینی زبان جامعہ کراچی کے پاکستانی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹرناصرالدین خان ودیگر بھی موجودتھے۔
ایک سوال کے جواب میں محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ اس وقت جامعہ کراچی کو 250 سے زائد کیمروں کی ضرورت ہے تاکہ جامعہ کے طویل رقبے کی مربوط نگرانی کو یقینی بنایا جاسکے۔جامعہ کراچی میں سیکیورٹی کے انتظامات مکمل ہیں اور جامعہ کراچی میں چینی اساتذہ کو فول پروف سیکیورٹی دی جارہی تھی لیکن اس کے باوجود بدقسمتی سے یہ واقعہ ہوگیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے دھماکے وقت بھی چار رینجرز اہلکار سیکیورٹی پر مامورتھے جس میں سے دواہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔قبل ازیں محمد اسماعیل راہو نے قائم مقام وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ خاتون سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور گزشتہ روز چینی اساتذہ کی گاڑی پر ہونے والے دھماکے سے متعلق تفصیلات سے آگاہی حاصل کی۔
دریں اثناء جامعہ کراچی کی قائم مقام وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر ناصرہ خاتون کی زیر صدارت سیکیورٹی پلان کے سلسلے میں ایک اجلاس وائس چانسلر سیکریٹریٹ جامعہ کراچی میں منعقد ہوا جس میں رجسٹرار ڈاکٹر مقصود علی انصاری،کیمپس سیکیورٹی ایڈوائزرڈاکٹر محمد زبیر،ڈاکٹر عبدالجبار،مشیر امورطلبہ ڈاکٹرسید عاصم علی،ڈاکٹر محمد فرحان صدیقی،ڈاکٹر محمد سلمان زبیر،سیکیورٹی آفیسر محمد آصف،کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ برائے چینی زبان جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ناصرالدین خان اور رینجرز ودیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں رینجرز کی نقل وحرکت کو بڑھانے اور تمام داخلی وخارجی راستوں پر رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی کے لئے متعلقہ حکام کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔علاوہ ازیں طلبہ اور جامعہ آنے والے دیگر افراد کی گاڑیوں کی مخصوص پارکنگ مختص کرنے کے حوالے سے بھی پلاننگ کی گئی۔اجلاس میں جامعہ کراچی میں لائٹنگ کے مربوط نظام، کیمروں کی فی الفور تنصیب اورجامعہ کی چاردیواری کی مرمت کے لئے اعلیٰ حکام کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں جامعہ کراچی میں زیر تعلیم طلباوطالبات،اساتذہ اور انتظامی عملے کے لئے کمپیوٹرائزڈ پاسز اور کارڈز کے اجراء کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگوہوئی۔جامعہ کراچی میں مختلف معلومات کے لئے آنے والے افراد کارش کم کرنے کے لئے جامعہ کراچی کے سلور جوبلی گیٹ پر معلوماتی کاؤنٹرز قائم کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔