News

ملک کو تصادم سے بچانے کیلئے مضبوط ثقافتی پالیسی بنانی ہوگی،مجیب الرحمان خان

ملک کو تصادم سے بچانے کیلئے مضبوط ثقافتی پالیسی بنانی ہوگی،مجیب الرحمان خان
بیرون ممالک سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں،غلام یاسین کے اعزاز میں عشائیے سے خطاب
عالمی سطح پر ہنر مند پاکستانی خواتین کی حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے،ترجمان بینش عابدی
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) صدر کلچرل لیٹریری انٹرنیشنل فرینڈز فورم (کلف پاکستان) مجیب الرحمان خان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات کا خاتمہ ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کی بدولت ہی ممکن ہوسکے گا۔تعلیم یافتہ افرادکو پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔نسل نو کی درست سمت میں رہنمائی اور ملک کو تصاد م سے بچانے کیلئے حکومت کو مضبوط کلچرل پالیسی بنانی ہوگی۔ماضی میں ثقافتی ورثے کو نظر اندا ز کرنے سے ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یونین کلب کراچی میں معروف سماجی شخصیت غلام یاسین کے اعزاز میں منعقدہ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نواب ایم حسین،بینش عابدی،سید قلب محمد،شہزاد جعفری،خالد رحمانی،شمع راشد،صدف ودیگر بھی موجود تھے۔مجیب الرحمان نے مزید کہا کہ وطن عزیزکی بہتری اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے کلف اپنا مشن جاری رکھے گی۔بیرون ممالک روابط سے بہتر تعلقات استوار کر نا چاہتے ہیں۔غلام یاسین نے اپنی گفتگو میں کہا کہ قومی ورثے کو ہمیں فوری طور پر محفوظ بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے ہونگے۔ملک کو درست راہ پر گامزن کرنے کیلئے مجیب الرحمان جیسا ویثرن رکھنے والے افراد کی ہمیں ضرورت ہے۔انٹرنیشنل کوآرڈینیٹر اور ترجمان کلف پاکستان بینش عابدی نے کہا کہ ملکی اور عالمی سطح پر ہنرمند پاکستانی خواتین کی حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے۔معیشت کی بہتری کیلئے گھریلو خواتین کے کام کو آگے لانے کی شدید ضرورت ہے جس کیلئے عملی کوششیں جاری ہیں۔خالد رحمانی نے کہا کہ مجیب الرحمان اور ان کی ٹیم ایک عظیم مقصد کیلئے کام کررہی ہے جس کیلئے ہمیں ان کا دیانتداری سے ان کا ساتھ دینا ہوگا۔

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *

News

ایم پی اے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا سرکاری اسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہوچکی ہے، ویکسین کیلئے فراہم کردہ رقم کہاں گئی، ڈاکٹر عمران علی شاہ کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی اور معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر سید عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا اور کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم میں اضافہ تو کیا گیا لیکن افوس کی بات یہ ہے کہ آج تک سابقہ منصوبے التوا کا شکار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں ہیلتھ بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم 132 ارب سے بڑھا کر 172 ارب کردی گئی ہے جو بلاشبہ اچھا اقدام ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بھی کراچی سمیت اندورن سندھ میں سرکاری اسپتال اور میڈیکل سینٹرز زبوں حالی کا شکار ہیں، خاص طور پر لیاری جنرل اسپتال کی حالت دیکھ کر شرم آتی ہے جہاں آرتوپیڈک کیس کے مریض کو کہا جاتا ہے کہ اپنا سمان خود ضرید کر لاو تو آپکی سرجری ہوجائے گی، دوسرے سول اسپتال کراچی میں ایمرجینسی ادویات تک میسر نہیں ہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ 18 ارب روپے جو ادویات کیلئے مختص کیئے گئے ہیں وہ کہاں گئے، اسی طرح کووڈ ویکسین کیلئے وفاق نے سندھ کو125 ارب روپے کی رقم فراہم کی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ میری اطلاع کے مطابق آج تک سندھ حکومت نے ایک روپے کی ویکسین نہیں خریدی، خدارا سندھ کے عوام پر رحم کریں، لسانی تعصب سے بالاتر ہوکر صوبہ کے عوام کو میڈیکل سروسز فارہم کرنے کیلئے اقدامات کیئے جائیں۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے سات ڈسٹرکتس میں ایک میں بھی پی پی ایچ آئی نہیں جوبڑے افسوس کی بات ہے، سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ لیاری کراچی میں 80 کروڑ کی لاگت سے 25 بستروں پر مشتمل اسپتال گزشتہ دس سالوں سے زیر تعمیر ہے لیکن آج تک وہ مکمل نہیں ہوا، وزیر اعلی مراد علی شاہ نے اس سال بھی بجٹ مین کئی نئی اسکیمیںاعلان کی ہیں لیکن میرا موقف یہ ہے کہ خدارا پہلے زیر التوا پروجیکٹس تو مکمل کرلیں۔ انھوں نے سندھ ہیلتھ کمیشن پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوے کہا کہ یہ بالکل غیر فعال ہوچکاہے۔ ان کی سرپرستی میں آج بھی جعلی ڈاکٹروں اور غیر رجسٹرڈ میڈیکل سینٹرز میں مک مکا کے بعد ان کی پریکٹس کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کے عوام صاف پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں، کراچی سمیت اندورن سندھ میں آج تک فلٹر پلانٹس ایسے نہییں لگائے گئے جن سے لوگوں کو صاف پانی میسر ہو۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت اب تک 164 ارب روپے کی ویکسین لوگوں کو لگا چکی ہے جبکہ مزید ویسین منگوائی جارہی ہے، کورونا ویکسین پر بھی سندھ حکومت سیاست کررہی ہے جبکہ وفاقی حکومت بلاتفریق عوام کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں اور اپنے وزیر اعظم عمران خان کے ویثرن کو لیکر پورے ملک کی عوام کی خسمت کیلئے کوشاں ہیں، دوسری جانب سندھ حکومت کورونا اور پانی کے ایشوز کو بنیاد بناکر لسانی تعصب کو ہوادے رہی ہے۔

REGISTERED NOW