Education News

پاکستان پیپلزپارٹی نے سوئی گیس اور بجلی کی خود ساختہ لوڈ شیڈنگ کو وفاقی حکومت کی آئین شکنی اورکھلی ناانصافی قراردیتے ہوئے کراچی میں دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلزپارٹی نے سوئی گیس اور بجلی کی خود ساختہ لوڈ شیڈنگ کو وفاقی حکومت کی آئین شکنی اورکھلی ناانصافی قراردیتے ہوئے کراچی میں دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدرصوبائی وزیرسعید غنی دیگررہنماؤں کا کہنا ہے کہ سوئی گیس کی 70 فیصد پیداوار دینے والے سندھ کو گیس سے محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے،وفاقی حکومت سندھ کے آئینی حقوق غصب کررہی ہے،وفاقی حکومت کی سندھ دشمنی کی وجہ سے کراچی میں صنعتیں بند اورلوگ بیروزگارہورہے ہیں،انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم نے ایک وزارت کی خاطرکراچی کے حقوق پرسودی بازی کرلی ہے،بحرانوں پربحرانوں کوجنم دینے والے عمران خان کی حکومت فرشتوں کی حکومت ہے جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے تحت سوئی گیس اوربجلی کی خود ساختہ لوڈ شیڈنگ اوروفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کے عوام، تاجر، کاروباری طبقہ ،صنعت کاروں کے معاشی قتل عام کے خلاف سوئی سدرن گیس ہیڈآفس کراچی کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرے سے پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل وقارمہدی،کراچی کے سیکریٹری جنرل جاوید ناگوری اورصوبائی وزیرشہلارضا نے بھی خطاب کیا۔مظاہرے میں پیپلزپارٹی کراچی کے رہنماؤں راجہ رزاق ، مرزامقبول،جاوید نایاب لغاری،سردارخان،امان اللہ محسود،ذوالفقارقائمخانی،آصف خان، شکیل چودھری،ایم این اے ڈاکٹرشایہ رحمانی،اقبال ساند،ظفرصدیقی،خلیل ہوت،ساجد جوکھیو،سلیم بلوچ ، علی احمد،لالہ رحیم سمیت پارٹی عہدیداروں اورورکرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ صوبائی وزیرسعید غنی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گیس پیدا کرنے والے سندھ کے دارالحکومت کراچی میں سوئی گیس کی فراہمی بری طرح متاثرہونے سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے، گیس کی قلت کا بہانہ بنا کر کے الیکٹرک نے 12 سے 15 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کرکے کراچی میں صنعتوں کا پیہہ جام کردیا ہے انہوں نے کہاکہ سوئی گیس کی 70 فیصد پیداوار دینے والے سندھ کو گیس سے محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی اور کھلی ناانصافی ہے وفاقی حکومت کی سندھ دشمنی کی وجہ سے کراچی میں لوگ بیروزگارہورہے ہیں ،وفاقی حکومت سندھ کے آئینی حقوق غصب کررہی ہے۔سعید غنی نے کہاکہ عمران خان کی حکومت فرشتوں کی حکومت ہے جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے،حکومت گیس کی قیمت بڑھانے کے باوجود عوام کو سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہے ،کراچی کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کھلی دشمنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چینی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں ثابت ہوگیا کہ وزیراعظم اوربوزدار اس میں ملوث ہیں، بلاول بھٹو کو نوٹس بھجوانے والے بتائیں کہ جہانگیر ترین کی کرپشن پر عمران خان کو کب نوٹس ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے قرض لینے میں پچھلی حکومتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے،نالائقوں کی حکومت نے 12 کھرب کا قرضہ لیا ہے ،عوام دشمن حکومت نے بحرانی کیفیت پیدا کرکے غریبوں کے لیے جینا مشکل کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں بجلی اورگیس پرسیاست کرنے اورمصنوعی مظاہرے کرنے والے بے نقاب ہوگئے ہیں،کے الیکٹرک کے عارف نقوی نے تحریک انصاف کے لیے فنڈنگ کی ہے جہانگیرترین طرح ان کے خلاف حکومت کبھی کارروائی نہیں کرے گی۔سعید غنی نے کہاکہ پیپلزپارٹی کوکراچی میں مینڈیٹ کا طعنہ دینے والے بتائیں کہ سندھ میں منڈیٹ نہ رکھنے والی تحریک انصاف کوسندھ پرحکمران کا حق کیسے حاصل ہے،سلیکٹیڈ وزیراعظم ایم کیوایم کا بیانہ دہرا رہاہے کہ پیپلزپارٹی کوکراچی پرحکمرانی کا حق نہیں ہے۔کیا تحریک انصاف کوسندھ میں مینڈیٹ ملا ہے کہ وہ سندھ پرحکمرانی کا خواب دیکھ رہے ہیں، نفرتوں کی سیاست کو فروغ دینے والے اپنے مقاصد میں ناکام ہونگے۔عوام دشمن حکومت گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ کے باوجود عوام کوسہولت فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے ایسا وزیراعظم کبھی نہیں دیکھا جسے کسی کی فکرہی نہیں ہے،وزیراعظم نے صرف سندھ نہیں بلکہ باقی صوبوں اوراپنے حلقہ انتخاب میانوالی کوبھی نظراندازکردیا ہے۔پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی وقارمہدی نے کہاکہ سب سے زیادہ گیس کی پیداوارکے باوجود وفاقی حکومت سندھ کو گیس سے محروم کررہی ہے،کےالیکٹرک بجلی فراہم نہیں کررہی ہے انہوں نے کہاکہ اگر گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم نہ کی گئی تو سوئی گیس اور کے الیکٹرک ہیڈآفس پر دھرنے دیں گے ۔پیپلزپارٹی کراچی کے سیکریٹری جنرل جاوید ناگوری نے کہاکہ وفاقی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کراچی کے لوگ اذیت میں ہیں، بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف یہ تحریک کراچی بھر میں پھیل جائے گی۔ پیپلزپارٹی کی رہنما صوبائی وزیرشہلا رضا نے کہاکہ آٹا چینی بجلی گیس، دواؤں کا بحران ہے،موجودہ حکومت ناکام ہوگئی ہے،وزیراعظم ملک کو بحرانوں میں مبتلا کرنے پر اپنانام عمران نیازی کی بجائے بحران خان رکھ لیں۔انہوں نے کہاکہ دوسال میں تو بچہ بھی چلنا شروع کردیتا ہے مگر موجودہ حکومت ابھی تک اپنے پاؤں پرکھڑی نہیں ہوسکی ہے اور مسائل کے حل میں ناکام ہوگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں بجلی اورگیس پرمظاہرے کرنے والوں نے اگلے دن معافی مانگ لی،ایم کیوایم ایک وزارت کی خاطر کراچی کے حقوق کا سودا کرلیا ہے۔مظاہرے کے اختتام پرپیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کی طرف سے کراچی میں گیس کی قلت کے خلاف احتجاجی یادداشت سوئی سدرن گیس ہیڈ آفس میں حکام کے حوالے کی گئی ۔احتجاجی یادداشت میں سندھ میں گیس کی فراہمی مکمل بحال کرنے اور آئین پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *

News

ایم پی اے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا سرکاری اسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہوچکی ہے، ویکسین کیلئے فراہم کردہ رقم کہاں گئی، ڈاکٹر عمران علی شاہ کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی اور معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر سید عمران علی شاہ نے سندھ کے ہیلتھ بجٹ کو فراڈ قرار دے دیا اور کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم میں اضافہ تو کیا گیا لیکن افوس کی بات یہ ہے کہ آج تک سابقہ منصوبے التوا کا شکار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں ہیلتھ بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ اس سال ہیلتھ بجٹ کی رقم 132 ارب سے بڑھا کر 172 ارب کردی گئی ہے جو بلاشبہ اچھا اقدام ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بھی کراچی سمیت اندورن سندھ میں سرکاری اسپتال اور میڈیکل سینٹرز زبوں حالی کا شکار ہیں، خاص طور پر لیاری جنرل اسپتال کی حالت دیکھ کر شرم آتی ہے جہاں آرتوپیڈک کیس کے مریض کو کہا جاتا ہے کہ اپنا سمان خود ضرید کر لاو تو آپکی سرجری ہوجائے گی، دوسرے سول اسپتال کراچی میں ایمرجینسی ادویات تک میسر نہیں ہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ 18 ارب روپے جو ادویات کیلئے مختص کیئے گئے ہیں وہ کہاں گئے، اسی طرح کووڈ ویکسین کیلئے وفاق نے سندھ کو125 ارب روپے کی رقم فراہم کی ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ میری اطلاع کے مطابق آج تک سندھ حکومت نے ایک روپے کی ویکسین نہیں خریدی، خدارا سندھ کے عوام پر رحم کریں، لسانی تعصب سے بالاتر ہوکر صوبہ کے عوام کو میڈیکل سروسز فارہم کرنے کیلئے اقدامات کیئے جائیں۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے سات ڈسٹرکتس میں ایک میں بھی پی پی ایچ آئی نہیں جوبڑے افسوس کی بات ہے، سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ لیاری کراچی میں 80 کروڑ کی لاگت سے 25 بستروں پر مشتمل اسپتال گزشتہ دس سالوں سے زیر تعمیر ہے لیکن آج تک وہ مکمل نہیں ہوا، وزیر اعلی مراد علی شاہ نے اس سال بھی بجٹ مین کئی نئی اسکیمیںاعلان کی ہیں لیکن میرا موقف یہ ہے کہ خدارا پہلے زیر التوا پروجیکٹس تو مکمل کرلیں۔ انھوں نے سندھ ہیلتھ کمیشن پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوے کہا کہ یہ بالکل غیر فعال ہوچکاہے۔ ان کی سرپرستی میں آج بھی جعلی ڈاکٹروں اور غیر رجسٹرڈ میڈیکل سینٹرز میں مک مکا کے بعد ان کی پریکٹس کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کے عوام صاف پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں، کراچی سمیت اندورن سندھ میں آج تک فلٹر پلانٹس ایسے نہییں لگائے گئے جن سے لوگوں کو صاف پانی میسر ہو۔ ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت اب تک 164 ارب روپے کی ویکسین لوگوں کو لگا چکی ہے جبکہ مزید ویسین منگوائی جارہی ہے، کورونا ویکسین پر بھی سندھ حکومت سیاست کررہی ہے جبکہ وفاقی حکومت بلاتفریق عوام کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں اور اپنے وزیر اعظم عمران خان کے ویثرن کو لیکر پورے ملک کی عوام کی خسمت کیلئے کوشاں ہیں، دوسری جانب سندھ حکومت کورونا اور پانی کے ایشوز کو بنیاد بناکر لسانی تعصب کو ہوادے رہی ہے۔

REGISTERED NOW