علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی دوسری تقریب، تقسیمِ اسناد

0
211
گورنر سندھ محمد کامران ٹیسوری، سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار اور علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے کنوینئر انجینئر محمد ارشد خان، دوسری گریجویشن تقریب سے خطاب کر رہے ہیں

 

علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی دوسری تقریب، تقسیمِ اسناد
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) گورنر سندھ محمد کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ پہلے پتھر کا زمانہ تھا، اب انسان پتھر کے ہوگئے ہیں ۔ ہم پاکستان بھول گئے، قوم کی جگہ قومیتوں نے لے لی ۔ دنیا چاند پر جارہی ہے اور ہم ابھی تک بجلی، پانی، گیس مانگ رہے ہیں ، اور ایسے مانگ رہے ہیں جیسے بھیک مانگ رہے ہیں ، جبکہ یہ ہمارا حق ہے ۔ 75 سال کے بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں ۔ دنیا آگے نکل گئی، جو ملک اور قو میں ہم سے پیچھے تھیں ، ہم ان سے بھی پیچھے رہ گئے ۔ پاکستان میں بہت وسائل ہیں اور خوش قسمتی سے پاکستان کی مجموعی آبادی کا 60 فیصدحصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ ۔ اگر ہم اپنے اپنے حصے کا کام کرنا شروع کردیں تو یقین مانیں ہم بہت آگے جاسکتے ہیں ۔ ریاست کا انتظار کرنا چھوڑ دیں ، اپنے حصے کا کام کرنا شروع کریں ، کسی کی راہ مت دیکھیں ۔ ۔ روزگار کے مواقع نہیں مل رہے تو روزگار دینے والے بن جائیں ۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے یہ بات علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی دوسری تقسیمِ اسناد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ تقریبِ تقسیم اسناد کے موقع پر تقریباَ700 سے زائدطلباء و طالبات کو ڈپلوما کی اسناد تفویض کی گئیں اور امتیازی نمبروں سے اول، دوئم اور سوئم پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات میں بالترتیب طلائی، چاندی اور کانسی کے تمغے تقسیم کئے گئے ۔ تقریب کے شرکاء میں سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین، سرسید یونیورسٹی کے ممبر بورڈ آف گورنرز اورسینئر علیگ کموڈور (ر) سلیم صدیقی، علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ممبر گورننگ باڈی اسلم شاہ خان، STEVTA کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام مصطفی سہاگ،ٹینگ چائنا انٹرنیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے ایگزیکیٹوپریزیڈنٹ، میکس ماء (Max MA) بذریعہ ویڈیو لنک، رجسٹرار سید سرفراز علی، ڈین FoECE پروفیسر ڈاکٹر محمد عامر، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن عبدالغنی، اے آئی ٹی کے پرنسپل شاہد جمیل ، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے ارکان،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے نمائندگان کے علاوہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ علمی شخصیات، عمائدینِ شہر، فیکلٹی ممبرز و طلباء طالبات کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی ۔
علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے شعبہ سافٹ وئیر ٹیکنالوجی کے اسٹوڈنتس نے سندھ بورڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن 2022کے امتحانات میں پورے سندھ میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ شعبہ بائیو میڈیکل ٹیکنالوجی میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی ۔
اس موقع پر سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پانچوں پوزیشن ہولڈرز کو سرسید یونیورسٹی کی طرف سے فُل ٹیوشن اسکالر شپ دینے کا اعلان کیا ۔
گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ کچھ نہ کچھ بن جائے ۔ مگریہ کوئی نہیں چاہتا کہ ان کا بچہ ایک اچھا انسان بن جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج 75 سال بعد بھی ہ میں ملک چلانے کے لیے کوئی اچھا انسان نہیں مل رہا ہے ۔ ملک میں ٹیلنٹ بہت ہے مگر اچھے انسانوں کا قحط ہے ۔ ملک میں بہت سے مافیاز ہیں ۔ جب تک ہم سب اپنے اپنے حصے کی آواز بلند نہیں کریں گے، مافیاز ہم پر مسلط رہیں گے ۔ میں ان سے الجھ گیا ہوں مگر آپ دعا کریں کہ اللہ مجھے اس جنگ میں سرخرو کرے ۔ دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ۔ ایک وہ جو دل میں اتر جاتے ہیں اور دوسرے وہ جو دل سے اتر جاتے ہیں ۔ ۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسے کام کروں کہ لوگوں کے دلوں میں اتر جاءوں ،نہ کہ دلوں سے ۔
سرسیدیونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار نے طلباء و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہعہدِ جدید تعلیم ہی نہیں بلکہ ہنر کا ہی دور ہے ۔ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی ایک گیم چینجر بن چکی ہے ۔ ٹیکنالوجی کا تصور بدل چکا ہے ۔ ڈپلوما ہولڈرز کی اہمیت عالمی سطح پر پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے ۔ ہنرمندافراد کی چین، جاپان، جرمنی وغیرہ میں بہت زیادہ مانگ ہے ۔ آپ کو چاہئے کہ جرمن، جاپانی اور چینی زبانیں سیکھیں ۔ آپ نے جس ادارے یعنی علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تعلیم حاصل کی ہے، اس سے وابستگی پر آپ کو یقیناََ فخر ہوگا ۔ آپ ایک عظیم روایت کے علمبردار ہیں ۔ جو سرسید احمد خان سے جُڑی ہوئی ہے ۔ سرسید کی فکر اور سوچ کا محاصل یہی تھا کہ تعلیم اور ہنر کے بغیر مسلمان ہرگز ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتے ۔
گیمنگ انڈسٹری اور تھری ڈی اینیمیشن بہت ترقی کرلی ہے ۔ اب نوجوانوں کو اسپیڈ مائنڈ ایگزیکیوشن کو بروئے کار لاتے ہوئے نئے اورمنفرد آئیڈیاز پر کام کرنا ہوگا ۔ یہ دور knowledge based economy کا ہے ۔ طلباء اپنی سوچ اور آئیڈیاز کے ذریعے اپنا کاروبار ڈیزائن کرسکتے ہیں ۔ اُوبر، کریم ، فوڈ پانڈا کا بجٹ پاکستان کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے جب کہ نہ ان کی اپنی گاڑیاں ہیں ، نہ عمارتیں اور نہ سرمایہ ۔ وہ صرف آئیڈیا کو کیش کروارہے ہیں ۔ یاد رکھیں آپ کا آئیڈیا بہت قیمتی ہے ۔ ۔ طلباء کی قابلیت اور مہارت ترقی اور کامیابی نہ صرف انکی ترقی کا باعث بنتی ہے بلکہ ملک اور قوم کی بہتری اور خوشحالی کا سبب بھی بنتی ہے ۔ ہ میں طلباء کی رہنمائی اس انداز میں کرنا ہے کہ وہ اپنی ذہنی صلاحیتوں اورمہارت کی مناسبت سے روزگار اور کاروبارکے مواقع خود پیدا کریں اور ڈھونڈیں ۔ یہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے ۔ کوریا، سنگاپور، تائیوان، فِن لینڈ جیسے قدرتی وسائل سے محروم ممالک نے ٹیکنالوجی میں دسترس حاصل کرکے اپنے آپ کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا ہے ۔ وہی ممالک ترقی کر رہے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے تخلیقی آئیڈیاز کو پروڈکٹ کی شکل دے رہے ہیں ۔
علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل شاہد جمیل نے اپنے خطاب کے آغازمیں تمام حاضرین محفل کو خوش آمدید کہا،اورتمام طلباء و طالبات کو مبارکباد پیش کی جنہوں نے ڈی اے ای تھرڈ ایئرکے امتحان 2022 میں کامیابی حاصل کی۔اورمیں دعاگو ہوں کہ یہ اپنی عملی زندگیو ں میں بھی کامیابیاں حاصل کریں۔ انہوں نے اے آئی ٹی کی کارکردگی اورکامیابیوں پرروشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اے آئی ٹی اور چائنا گورنمنٹ کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا ہے کہ دو سال پاکستان میں تعلیم حاصل کرے گا اورتیسرا سال میں چائنہ میں تعلیم حاصل کرے گا اور یہ تمام تعلیم فری اسکالرشپ کی بنیاد پر دی جائے گی۔ اس طرح طلباء وطالبات کو ڈیول ڈپلومہ ملے گا۔ چائنا جانے کی ایک شرط تھی کہ چائینیزلینگویج آتی ہو۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے چائنیزکوالیفائیڈ ٹیچرسحراقبال تمام طلباء و طالبات کو چائنا لینگویج سیکھا رہی ہیں۔ وہ بھی فری آف کاسٹ سکیھا ئی جا رہی ہے. پرنسپل اے آئی ٹی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ہم جنوری 2023 میں ایک اورمعاہدہ چائنا گورنمنٹ سے کرنے جا رہے ہیں کہ وہ طلباء و طالبات جنہوں نے اس سال 2022 میں ڈپلومہ حاصل کیا ہے، یا اس سے پہلے ڈپلومہ حاصل کیا ہے،وہ بھی چائنا جاکرایک سال کا ایڈوانس ڈپلومہ حاصل کر سکیں گے. پرنسپل شاہد جمیل کا کہنا تھا کہ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی اس کامیابیو ں میں کنوینئر‏اے آئی ٹی انجینئرارشد خان اورچیئرمین اے آئی ٹی جاوید انوار کا اہم کردار ہے۔
اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے کنوینئر انجینئر محمد ارشد خان نے کہا کہ ملک میں تین کروڑ بچے پرائمری تعلیم اور دو کروڑ بچے سیکنڈری تعلیم سے محروم ہیں ۔ ہمارا تعلیمی نظام نوکر بننا سکھاتا ہے ، نوکری دینا نہیں سکھاتا ۔ نوکری پیشہ لوگ رسک لینے سے گھبراتے ہیں ،اس لیے کاروبار کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔ تاہم جو عمل کرتا ہے وہ بامراد ہوتا ہے، اور سرخرو ہوتاہے ۔ علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ اپنی معاشرتی ذمہ داری خوش اسلوبی سے انجام دے رہا ہے اور ٹیکنالوجی کے بہترین ماہرین تیار کررہا ہے جو عصرِحاضر کے چیلنجز کا اچھی طرح مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اے آئی ٹی میں نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرانے میں تساہل نہیں برتا جاتا ۔
اس موقع پر کموڈور سلیم صدیقی، STEVTA (اسٹیوٹا) کے مینجنگ ڈائریکٹر غلام مصطفی سہاگ اور اسلم شاہ خان نے بھی خطاب کیا ۔
امتحانات میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر اے آئی ٹی کی جانب سے سےد محمد حیدر عباس (بائیومیڈیکل ٹیکنالوجی)، حمزہ عرفان پٹیل (سول ٹیکنالوجی)،دعا(کمپیوٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی)، محمدعبدالقادر شیخ (الیکٹریکل ٹیکنالوجی)، مرزا حماد بیگ (الیکٹرانک ٹیکنالوجی)، محمد بلال اختر (میکانیکل ٹیکنالوجی) اور منیبہ رضوان قادری (سافٹ وئیر ٹیکنالوجی) کو طلائی تمغے دئے گئے ۔ دوسری پوزیشن کے لیے طوبیٰ فیروز (بائیومیڈیکل ٹیکنالوجی ) عبید احمد میمن (سول ٹیکنالوجی )، حافظہ رمشا (کمپیوٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی )، افراز احسان (الیکٹریکل ٹیکنالوجی)، جنید احمد (الیکٹرانک ٹیکنالوجی)، شہباز خان (میکانیکل ٹیکنالوجی) اور محمد ثاقب (سافٹ وئیر ٹیکنالوجی) نے چاندی کے تمغے حاصل کئے ۔ تیسری پوزیشن کے لیے کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والوں میں حافظہ عائشہ (بائیومیڈیکل ٹیکنالوجی)، محمد امین (سول ٹیکنالوجی)، ایمن شیخ (کمپیوٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی)، سعد سراج (الیکٹریکل ٹیکنالوجی)، منہاج حسین (الیکٹرانک ٹیکنالوجی)، محمد طلحہٰ(میکانیکل ٹیکنالوجی) اور نمرہ کاشف (سافٹ وئیر ٹیکنالوجی)شامل ہیں ۔ کمپیئرنگ کے فرائض سید ریحان علی نے انجام دیئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here