علم پر مبنی معیشت“ کا قیام پاکستان کے لئے ناگزیر ہے

0
27

علم پر مبنی معیشت“ کا قیام پاکستان کے لئے ناگزیر ہے
آرٹیفیشل انٹلیجنس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، پروفیسر عطاالرحمن اورپروفیسراقبال چوہدری کا جامعہ کراچی میں خطاب
دو روزہ کامسٹیک آئی سی سی بی ایس بین الاقوامی نمائش8تا9 ستمبر آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی میں ہوگی
کراچی:(اسٹاف رپورٹر) وزیر اعظم کی نیشنل ٹاسک فورس برائے سائینس اور ٹیکنالوجی کے سربراہ اور بین الاقوامی مرکز کے سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر عطا الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں ”علم پر مبنی معیشت“ کے قیام کے لئے ہماری تمام تر کوششیں ہونی چاہیں، دنیا میں آرٹیفیشل انٹلیجنس تیزی سے ترقی کر رہی ہے،سائینس اور ٹیکنالوجی کے ترقیاتی بجٹ میں 600 گنا اضافہ ہو ا ہے، بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم(آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی اور او آئی سی کامسٹیک کی باہمی شراکت سے ”صحت کی دیکھ بھال میں ٹیکنالوجی کی فعالیت“ کے موضوع پر دو روزہ کامسٹیک آئی سی سی بی ایس بین الاقوامی نمائش8تا9 ستمبر آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی میں ہوگی۔
یہ بات انہوں نے پیر کو ایل ای جے نیشنل سائینس انفارمیشن سینٹر جامعہ کراچی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ پریس کانفرنس سے آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے بھی خطاب کیا۔
پروفیسر عطا الرحمن نے کہا کہ پاکستان کو چوتھے صنعتی انقلاب کا حصہ بننے کے لئے ”علم پر مبنی معیشت“ کے قیام کے لئے تمام تر کوششیں کرنی ہوگی، پاکستان میں تبدیلی کے لئے دوراندیش قیادت کی ضرورت ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے اس طرح کی تعمیر و ترقی کے لئے علمی معیشت ٹاسک فورس کے قیام سے پہلا قدم اُٹھایا ہے اور اس کے تحت کئی منصوبوں میں سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا علمی معیشت ٹاسک فورس کے قیام سے ملک میں ایک خاموش انقلاب آرہا ہے، کیونکہ اس کے توسط سے ٹیکنالوجی سے چلنی والی معیشت کو فروغ ملے گا، اور جس سے اعلیٰ تعلیم، ٹیکنیکل مہارت، انسانی وسائل کی تیاری، آرٹیفیشل انٹلیجنس کو استحکام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 120 ارب روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی پروجیکٹس منظوری کے لیئے پیش کیے گئے تھے جس میں سے متعدد منظور ہوئے ہیں اوراُن پر عملدرآمد بھی ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا بائیو میڈیکل آلات اورصحت کی دیکھ بھال کی سروسس کا ادراک کرتے ہوئے آئی سی سی بی ایس ٹیکنالوجی پارک اور ٹیکنالوجی انکیوبیشن سینٹر اس دو روزہ کامسٹیک آئی سی سی بی ایس بین الاقوامی نمائش کا اہتمام کررہا ہے جس کا بنیادی مقصد تجارتی طور پر دستیاب اور پروٹوٹائپ کے طور پر تیار کیے گئے دورِ حاضر کے جدیدآلات کے کردار کو اُجاگر کرنا ہے۔
پروفیسر اقبال چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی وبا کے خلاف قومی لڑائی میں ملک کے متعدد تعلیمی اور تحقیقی اداروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جبکہ آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی بھی اس قومی خدمت میں ہراول دستہ کی صورت رہاہے۔ اب تک ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیور میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ، جامعہ کراچی کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف وائرولوجی کے تحت3 لاکھ سے زیادہ پی سی آر پر مبنی کرونا وائرس ٹیسٹ ہوئے ہیں، جس سے اس ادارے کی تحقیقی استعداد کا اندازہ ہوتا ہے، یہ ادارہ روزانہ ڈھائی ہزار ٹیسٹ کرنے کی استعداد رکھتا ہے، اس لحاظ سے یہ ملک میں سب سے بڑی سہولت ہے جس کی تعمیر کی نگرانی وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ذاتی طور پر کی تھی۔ انہوں نے کہا بین الاقوامی مرکز دنیا میں معروف سائینسی تحقیقی ادارہ ہے، ایچ ای جے ریسرچ انسٹیٹوٹ آف کیمسٹری جامعہ کراچی کا صنعتی تجزیاتی مرکز اعلیٰ پشہ ورانہ ماحول کا حامل ہے، جس کے تحت 700سے زیادہ صنعتوں کو سائنسی جانچ پڑتال کی اعلیٰ سہولیات فراہم ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انوویٹر ز، ٹیکنالوجی ڈیولپرز اور سروس پرووائڈرز کے لئے یہ کامسٹیک آئی سی سی بی ایس بین الاقوامی نمائش ایک منفرد پلیٹ فارم ثابت ہوگی جہاں متعلقہ افراد سائینس اور جدت طرازی کے عنوان سے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here