آرٹس کونسل الیکشن، آرٹس فورم نے سالانہ اجلاس عام کا بائیکاٹ کردیا

0
379

آرٹس کونسل الیکشن،آرٹس فورم نے سالانہ اجلاس عام کا بائیکاٹ کردیا
کراچی :(اسٹا ف رپورٹر) عہدیداروں کا تمام تر تحفظات کے باوجود جمہوری اقدار کے تقدس کے لیے انتخابات میں بھرپور انداز میں حصہ لینے کا اعلان
نجم الدین شیخ صدر ،مختار احمد بٹ نائب صدر ،مبشر میرسیکرٹری ، سید ابن حسن سیکرٹری ،قندیل جعفری جوائنٹ سیکرٹری کی امیدوارہونگی
انتخابات میں حکومت سندھ کی ایک گروپ کے لیے واضح حمایت کھل کر سامنے آگئی ہے،نجم الدین شیخ ،مبشر میر ،مختار بٹ اور دیگر کی پریس کانفرنس
کراچی (این این آئی)دی آرٹس فورم پینل کے عہدیداروں نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے سالانہ اجلاس عام کے بائیکاٹ اور تمام تر تحفظات کے باوجود انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے غیر جانبدار سیٹ اپ کی نگرانی ضروری ہے ۔گزشتہ انتخابات میں ہماری خاتون امیدوار کو جنرل باڈی اجلاس میں تشدد کا نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف تاحال کارروائی نہ ہونا افسوسناک ہے ۔آرٹس کونسل انتخابات میں حکومت سندھ کی ایک گروپ کے لیے واضح حمایت کھل کر سامنے آگئی ہے جس کی وجہ سے انتخابی عمل میں شکوک و شبہات کے سائے لہرارہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار دی آرٹس فورم پینل کے امیدوار برائے صدر نجم الدین شیخ ،نائب صدر مختار احمد بٹ ،سیکرٹری مبشر میر ،خازن سید ابن حسن اور جوائنٹ سیکرٹری قندیل جعفری نے کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر آرٹس فورم کے عہدیداروں نے گورننگ باڈی کے لیے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کیا ،جن میں نسیم شاہ ایڈوکیٹ ،ڈاکٹرجاوید منظر ،ڈاکٹرعین الرضا ،تحسیم الحق حقی ،سید عبدالباسط ،نعیم طاہر ،منصور زبیری ،عظیم حیدر سید ،آصف مقصود ،واحد لاشاری ،نسیم انجم اور یاسمین چوہدری شامل ہیں ۔دی آرٹس فورم کے عہدیداروں نے کہا کہ تمام تر تحفظات کے باوجود ہم جمہوری اقدار کے تقدس کے لیے آرٹس کونسل کراچی کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔آرٹس کونسل پر مسلط گروہ کو گزشتہ دس سال سے حکومت سندھ کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے اور انتخابات میں انتظامیہ کی ایک گروپ کی کے لیے حمایت بھی واضح ہے ۔انہوںنے کہا کہ شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ہم نے عدالت عالیہ سے بھی رجوع کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس حوالے سے مثبت فیصلہ سامنے آئے گا ۔انہوںنے کہا کہ آرٹس کونسل میں اقرباپروری کی انتہاکردی گئی ہے ۔خفیہ ممبر شپ کی وجہ سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی جاتی ہے ۔ایک جمہوری ادارے کو آمرانہ انداز میں چلانے کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ ماضی کے ناخوشگوار واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر جانبدارانہ سیٹ اپ کی نگرانی میں 20دسمبر کو ہونے والے الیکشن کا پرامن انعقاد یقینی بنایا جائے ۔متنازعہ شخصیت اور جانبدار انتظامیہ کی وجہ سے ناخوشگوار واقعات پیش آسکتے ہیں۔23دسمبر 2018پاکستان آرٹس کونسل کی تاریخ کا تاریک ترین دن تھا جب ایک منصوبے کے تحت انتہا پسند گروپ نے آرٹس کونسل کی ایک باعزت خاتون ممبر پر حملہ کیا ۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوںنے آرٹس کونسل کے سالانہ جنرل باڈی اجلاس میںآرٹس کونسل میں مسلط گروپ کی کارکردگی کے حوالے سے سوال اٹھایا تھا ۔میڈیا نے اس ناخوشگوار واقعہ کی مکمل کوریج کی تھی ۔انہوںنے کہا کہ حیران کن بات یہ تھی کہ اس اجلاس کی انتظامیہ نے ایسا رویہ روا رکھا جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ انتظامیہ بھی اس افسوس ناک کھیل کا حصہ ہے ۔بہرحال صورت حال پر وقتی طور پر قابو پالیا گیا کیونکہ انتظامیہ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم اس غنڈہ گردی کے خلاف ایکشن لیں گے تاہم تقریبا دو سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جنہوں نے اس باعزت خاتون پر حملہ کیا تھا ۔انہوںنے کہا کہ صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے اس مرتبہ سالانہ اجلاس عام کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے ۔ہمیشہ خدشہ ہے کہ اس سال بھی الیکشن کے موقع پر وہی واقعات پیش آسکتے ہیں کیونکہ اب بھی وہی متنازعہ شخصیت آرٹس کونسل کراچی کی صدر ہے جبکہ بدقسمتی سے انتظامیہ بھی وہی ہے ۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ آرٹس فورم گروپ کے ممبران کو سکیورٹی فراہم کی جائے اور غیر جانبدارانہ سیٹ اپ کے تحت دسمبر میں منعقد ہونے والے الیکشن کا پرامن انعقاد یقینی بنایا جائے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here