ہر طرح کے مظلوموں کیلئے آواز اٹھاتی رہوں گی اور نوجوان نسل کو کبھی بے سہارا نہیں چھوڑونگی۔نازیہ علی پاکستان کی بیٹی

0
1027

 

آن لائن ایجوکیشن ،درس گاہ کا نعم البدل نہیں مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے وقت کا تقاضا ہے۔نازیہ علی پاکستان کی بیٹی
کراچی کے مختلف جامعات کے طالبعلموں نے مجھ سے اپنے موجودہ مسائل کے پیش نظر رابطہ کیا ہے۔نازیہ علی پاکستان کی بیٹی
وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی’ سندھ سے درخواست کرتی ہوں کہ بہتر تعلیم کیلئے کوئی مثبت لائحہ عمل قائم کریں۔نازیہ علی پاکستان کی بیٹی
موجودہ صورتحال میں شعبہ تعلیم کو نظر انداز کیا جانا باعث افسوس ہے۔نازیہ علی پاکستان کی بیٹی
پاکستان کی معروف میڈیا پرسن ، کالم نگار اور نوجوان نسل کی پرجوش، باہمت نمائندہ آواز نازیہ علی پاکستان کی بیٹی نے کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں موجودہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے جہاں بے روزگاری،معاشی مفلسی اور عوام کی پریشانی باعث تشویش ہے وہیں دوسری جانب ہم نوجوانوں اور بچوں کے تعلیمی مسائل کو فراموش نہیں کر سکتے۔کورونا وائرس کی عالمی وبا نے جسطرح روزمرہ کی زندگی کو متاثر کیا یے وہیں تعلیمی نظام پر بھی بہت منفی اثر پڑا ہے آن لائن ایجوکیشن ،درس گاہ کا نعم البدل نہیں مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے وقت کا تقاضا ہے تاکہ معصوم بچے اور نوجوان نسل وائرس سے محفوظ رہ سکیں اور تعلیم سے بھی محروم نہ ہوں مگر ملک کے تمام صوبوں میں اس وقت شعبہ تعلیم سے وابستہ لوگ تعلیم کے متعلق سنجیدگی سے سوچنے کو تیار نہیں ہیں۔میں ہمیشہ اپنی گزشتہ تقاریر،ٹی وی پروگرامز اور مختلف بیانات میں کہتی رہی ہوں کہ میں ہر طرح کے مظلوموں کیلئے آواز اٹھاتی رہوں گی اور نوجوان نسل کو کبھی بے سہارا نہیں چھوڑونگی مجھے خوشی ہے کہ مجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے کراچی کے مختلف جامعات کے طالبعلموں نے مجھ سے اپنے موجودہ مسائل کے پیش نظر رابطہ کیا ہے۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب اور وزیر اعلی’ سندھ مراد علی شاہ صاحب سے درخواست کرتی ہوں کے بہتر تعلیم کیلئے کوئی مثبت لائحہ عمل قائم کریں جس میں پرائیوٹ اور سرکاری اداروں کے ذمہ داروں کو شامل کر کے مشاورت سے نوجوانوں کو درپیش مسائل ،آن لائن ایجوکیشن اور سیمیسٹرز کیلئے باقاعدہ کوئی پلان تیار کیا جائے اور فیسوں کے مطالبات کرنے والے ،نیا کورس مہیا کرنے اور تعلیم کی بہتر فراہمی کا حل تلاش کریں تاکہ طالبات اور والدین ذہنی اذیت سے باہر نکلیں اور پاکستان میں بھی دیگر ممالک کی طرح لاک ڈاؤن کے باوجود تعلیم کو بہتر انداز میں جاری رکھا جا سکے تعلیم کے بغیر ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا اور کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں شعبہ تعلیم کو نظر انداز کیا جانا باعث افسوس ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here